Tuesday , July 25 2017
Home / اداریہ / عدلیہ اور جسٹس کرنن

عدلیہ اور جسٹس کرنن

ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں یہ فیصلہ افسوسناک کہلائے گا کہ ایک جج کو جیل جانا پڑے گا ۔ عدلیہ اور جج کے درمیان ٹکراؤ کا یہ ایک خراب واقعہ ہے ۔ جس کو رونما ہونے سے روکنا ضروری تھا ۔ سپریم کورٹ اور کولکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس چناسوامی سوامی ناتھن کرنن کے درمیان جاری رسہ کشی نے اس وقت سنجیدگی کا درس چھوڑ دیا جب سپریم کورٹ نے کرنن کو توہین عدالت کے معاملہ میں 6 ماہ کی قید کی سزا سنائی ۔ میڈیا کو بھی پابند کردیا گیا کہ وہ جسٹس کرنن سے دور رہے ۔ ججس کے ذہنی معاملہ یا ان کی دماغی صحت کے بارے میں ہونے والی سرگوشیوں کے درمیان اگر کولکتہ ہائی کورٹ کے جج کرنن کی ذہنی صحت کا نوٹ لیا جائے تو یہ معاملہ عدلیہ اور قانون کے معتبر ذرائع کے لیے لمحہ فکر ہونا چاہیے تھا ۔ مگر بات اتنی دور نکل چکی تھی کہ سپریم کورٹ کو بالاخر مداخلت کر کے جسٹس کرنن کو ان کی چرب زبانی پر روک لگانی پڑی ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس جے ایس کیہر نے جسٹس کرنن کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت ، عدلیہ اور عدالتی عمل کی سنگین نوعیت کی خلاف ورزی کی ہے ۔ جسٹس کرنن نے پیر کے دن سپریم کورٹ کے 8 جج صاحبان کو پانچ سال کی قید بامشقت سنائی تھی اور ان پر درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل انسداد مظالم قانون 1989 اور ترمیمی قانون 2015 کے تحت فی کس ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا ۔ جسٹس سی ایس کرنن ہمیشہ سرخیوں میں رہے ہیں  ۔ 30 مارچ 2009 کو جج کی حیثیت سے تقرر کے بعد انہوں نے اکثر عدلیہ کے خلاف برسرعام انگلی اٹھائی ہے ۔انہوں نے نومبر 2011 میں قومی کمیشن برائے درج فہرست ذاتوں سے شکایت کی تھی کہ انہیں ان کے ساتھی ججس نے دلت ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا ہے اور ان کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔ 23 جنوری کو انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی ایک خط لکھ کر 20 بدعنوان ججوں اور 3 سینئیر قانونی افسران کے نام ظاہر کیے تھے اور کہاتھا کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اس پر ججس کی 7 رکنی بنج نے اس خط اور اس طرح کے بیانات کو عدالت کی توہین قرار دیا تھا ۔ تحقیر عدالت معاملہ میں جب کسی جج کی ذہنی کیفیت کے بارے میں خود عدلیہ سے وابستہ شخصیتیں انگشت نمائی کرتے ہیں تو یہ معاملہ غور و فکر کی جانب دعوت دیتا ہے ۔ اس طرح کے تنازعہ نے آج جمہوریہ ہند کی عدلیہ کو انتشار کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے ۔ ایک جج اپنے مخالف جج کی ذہنی حالت پر سوال اٹھاتا ہے تو یہ ججس کے درمیان تنازعہ اور مخاصمت کی ایک بدترین کیفیت متصور ہوگی ۔ سپریم کورٹ کے 7 ججس پر مشتمل بنچ نے جب کولکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس کرنن کی ذہنی حالت کا معائنہ کرانے کا حکم دیا تھا تو اس وقت عدالتی راہ داریوں میں یہ بات افسوسناک طور پر گشت کرنے لگی کہ عدلیہ کو آنے والے دنوں میں اپنے اعتبار اور تقدس کے مسئلہ پر نازک مرحلہ سے دوچار ہونا پڑے گا اور یہ مرحلہ آج ملک بھر کے عوام کے سامنے جسٹس کرنن کو سزا سنائے جانے کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔ عدلیہ میں بدعنوان ججس کی نشاندہی کرنے والے جسٹس کرنن کی ذہنی صحت پر شک و شبہ ظاہر کیا گیا تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا عدلیہ میں بدعنوانی قطعی نہیں ہوتی ؟ عدلیہ میں بھی ذات پات کے مسئلہ کو اولیت دے کر تنازعہ کو ایک سنگین مسئلہ کا روپ دیا جانا ہندوستانی معاشرہ کے لیے مناسب بات نہیں ہے ۔ کیا یہ سوال نہیں اٹھایا جاسکتا کہ ایک ہائی کورٹ جج کا طبی معائنہ کرانے کا حکم دینا غلط نہیں تھا ؟ سپریم کورٹ کا یہ حکم جسٹس کرنن کے لیے ذات پات کا مسئلہ بن گیا اور انہوں نے عدالت کے حکم کو دلت جج کی بے عزتی قرار دیا آیا عدالت عالیہ نے اس مسئلہ کو طوالت دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی ۔ ایک ہائی کورٹ جج کی ذہنی کیفیت کو شدید و سنگین بنانے کا موقع کیوں دیا گیا ۔ جب شروع سے ہی جسٹس کرنن کی طرز کارکردگی اور روزمرہ کی عادتوں کا علم ہورہا تھا تو انہیں اس اعلیٰ عہدہ تک لے جانے سے پہلے متبادل قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا ۔ دلت کے عنوان سے وہ اپنی شکایات کو عام کرتے رہے اور سپریم کورٹ نے ان کے خلاف سخت نوٹ لیا تو یہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ کا پہلا واقعہ بن گیا ۔ اگر عدالتوں میں ججس ایک دوسرے کی ذہنی بیماری کا نوٹ لیتے رہیں گے تو پھر حصول انصاف کی توقع کرنے والوں کے لیے یہ مرحلہ صدمہ خیز ہوگا ۔ سپریم کورٹ یا جسٹس کرنن نے اس تنازعہ کو ہوا دے کر ہندوستانی عدلیہ کی نفسیاتی کیفیت کی عوام کے سامنے خراب نظیر پیش کی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے ججس اپنے ہی ساتھی جج کے خلاف سزا کی تعمیل کے لیے کیا قدم اٹھائیں گے ۔ جسٹس کرنن کی 6 ماہ کی قید کی سزا کا حکم  اور اس سارے تنازعہ نے بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اس سے عدلیہ کا وقار پامال نہیں ہوگا ؟

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT