Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / عدلیہ خود اپنی حدود کا تعین کرے ۔ ارون جیٹلی

عدلیہ خود اپنی حدود کا تعین کرے ۔ ارون جیٹلی

پالیسی فیصلے کرنا عاملہ کا اختیار ۔ عدلیہ کی آزادی بھی اہمیت کی حامل ۔ مرکزی وزیر فینانس کا اظہار خیال

نئی دہلی 16 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) عدلیہ کی سرگرمی پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج یہ واضح کیا کہ عدلیہ کو خود اپنی ایک حد مقرر کرنی چاہئے اور ایسے فیصلے نہیں کرنی چاہئے جو عاملہ کے دائرہ کار میں آتے ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرگرمی میں تحمل کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے اور عدلیہ کی آزادی کے نام پر بنیادی ڈھانچہ کیدوسرے پہلووں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔ انڈین وومنس پریس کور میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ارون جیٹلی نے اس خیال کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی نظر ثانی عدلیہ کا اختیار ہے لیکن ہر ادارہ کو خود اپنی حد ( لکشمن ریکھا ) کھینچنی چاہئے ۔ یہ حدود بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ عاملہ کے فیصلے عاملہ کو ہی کرنے ہوتے ہیں عدلیہ کو نہیں۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ کسی بھی عمل کے مختلف راستے ہوتے ہیں اور احتساب کی کی جو حد ہوتی ہے وہ عاملہ کی جانب سے فیصلوں کے بعد آتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے پاس عاملہ کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں میں تبدیلی کے مطالبے کرنے کا امکان موجود ہے یا پھر وہ حکومتوں کو بھی اقتدار سے بیدخل کرسکتے ہیں۔ جیٹلی نے کہا کہ اگر عاملہ کی جانب سے کئے جانے والے فیصلے غیر دستوری ہوتے ہیں تو پھر عدالتیں ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے سکتی ہیں لیکن یہ سب کچھ امکانات اس وقت ممکن نہیں رہتے جب خود عدالتوں کی جانب سے عاملہ کے فیصلے کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں عاملہ کی متبادل نہیں ہوسکتیںاور نہ ہی یہ کہہ سکتی ہیں کہ وہ عاملہ ہیں اور عاملہ کے فیصلے کرسکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو جو دوسرے تین امکانات ہیں وہ ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ امکانات عاملہ کی جانب سے فیصلے کئے جانے کی صورت میں دستیاب رہتے ہیں۔ ارون جیٹلی سے ان کے سابقہ ریمارکس پر سوال کیا گیا تھا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ عدلیہ کی جانب سے مقننہ اور عاملہ کے اختیارات میں مداخلت بیجا کی جا رہی ہے ۔ جیٹلی نے ملک کی کئی ریاستو ں کی جانب سے قومی اہلیتی انٹرنس ٹسٹ NEET پر کئے جا رہے احتجاج کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ملک بھر میں کس طرح سے امتحانات کا انعقاد عمل میں لایا جانا چاہئے اس کا فیصلہ کرنا عملا عاملہ کا کام ہے اور یہ پالیسی کے دائرہ کار میں آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ میں کچھ ریاستوں کے بورڈز غیر مساوی ہیں اور ان کی زبان یکساں نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں کیا ان ریاستوں سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک ہی طرح کے انداز میں اور ایک ہی طرح کی زبان میں امتحان کا انعقاد عمل میں لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ مسئلہ عاملہ کے دائرہ کار میں آتا ہے ۔ اب اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے اور ہم کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اس مخصوص مسئلہ سے کس طرح سے نمٹیں۔ وزیر فینانس نے ساتھ ہی کہا کہ عدالیہ کی آزادی بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور عدلیہ اس بات کو واضح کرنے میں درست بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح عدلیہ کی آزادی بنیادی ڈھانچہ کا حصہ ہے اسی طرح پالیسی سازی میں مقننہ کی اہمیت بھی بنیادی ڈھانچہ ہی کا حصہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT