Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / عدلیہ کو عاملہ کے فرائض انجام نہیں دینا چاہئیے :مرکزی وزیرفینانس

عدلیہ کو عاملہ کے فرائض انجام نہیں دینا چاہئیے :مرکزی وزیرفینانس

فلم سرٹیفکیشن میں عنقریب بنیادی تبدیلیاں :ارون جیٹلی ، اڑتا پنجاب پر امتناع یقینی بنانے کے پس پردہ وزیراعظم :کانگریس

نئی دہلی ۔ /9 جون (سیاست ڈاٹ کام) عدلیہ اور عاملہ کے درمیان علحدگی کا لکیر کھینچتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ عدالتیں عاملہ کو کارروائی کیلئے ہدایات جاری کرسکتی ہیں لیکن عاملہ کی کارروائیاں کرنا عدلیہ کا کام نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کو سختی سے برقرار رکھنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر عاملہ اپنی کارروائی سے قاصر رہے تو عدالتیں اسے ایسا کرنے کی ہدایت دے سکتی ہیں لیکن خود بھی عاملہ کے فرائض انجام نہیں دے سکتیں ۔ ارون جیٹلی کے پاس مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات کا قلمدان بھی ہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر کی جانب سے اس بیان پر کہ عدلیہ صرف اسی وقت مداخلت کرتی ہے جب کہ عاملہ اپنے دستوری فرائض انجام دینے سے قاصر رہے ۔

ارون جیٹلی چیف جسٹس کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کررہے تھے ۔ انہوں نے اڑتا پنجاب کے مسئلہ پر پھیلی ہوئی برہمی کے دوران کہا کہ فلم سرٹیفکیشن کے پیمانے کو زیادہ فراخدل ہونا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ہی دنوں میں فلم سرٹیفکیشن کے نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا اعلان کیا جائے گا ۔ مرکزی بورڈ برائے فلم سرٹیفکیشن نے فلم اڑتا پنجاب پر امتناع عائد کردیا تھا ۔ جیٹلی نے کہا کہ بورڈ نے بعض تبدیلیوں کی خواہش کی تھی لیکن بالی ووڈ کے فلم ساز اس پر راضی نہیں ہوئے ۔ جس کی بنا پر فلم سازوں ، سنسر بورڈ اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان صف آرائی کی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ دریں اثناء اہم اپوزیشن کانگریس نے اڑتا پنجاب پر امتناع کے سلسلے میں الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پوشیدہ طور پر اس امتناع کو یقینی بنایا تھا ۔ کل ہند کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ امتناع کو یقینی بنانے پر موثر تھے اور پوشیدہ طور پر اس فلم پر امتناع کو یقینی بنانے کیلئے انہوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT