Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / عدم تحمل کی ایک اور مثال

عدم تحمل کی ایک اور مثال

اب تو انساں کا لہو ، بہتا ہے ہر گام
حیراں ہے انجام خود ، کیا ہوگا انجام
عدم تحمل کی ایک اور مثال
ملک میں وقفہ وقفہ سے ایسے واقعات پیش آتے جا رہے ہیں جو عدم تحمل اور عدم رواداری کی مثال ہیں۔ کہیں کسی کتاب کی رسم اجرائی میں منتظمین کے منہ پر کالک پوتی جا رہی ہے تو کہیں کسی ریاست کے سرکاری گیسٹ ہاوز میں ہونے والے پکوان پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے ہنگامہ کیا جا رہا ہے ۔ کہیں کسی کے گھر میں گھس کر بیف رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے قتل کیا جا رہا ہے تو کہیں کسی بیرونی ملک کے فنکار کو ہندوستان میں مظاہرہ کرنے سے روکا جا رہا ہے ۔ یہ ایسے واقعات ہیں جو ہندوستان کی روایات اور تہذیب کے مغائر ہیں۔ صدیوں سے ہندوستان دنیا بھر میں ایک متمدن اور روایات کا پاسدار ملک سمجھا جاتا ہے اور یہاں اخلاق و اقدار اور مہمان نوازی کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ لیکن اب یہ صورتحال بدلتی جا رہی ہے اور اس سے بیرونی ممالک میں بھی ہندوستان کی امیج متاثر ہو رہی ہے ۔ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے قیام کے بعد سے ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جہاں صرف ایک نظریہ اور سوچ کے ماننے والوں کو ہر شعبہ میں اولیت اور فوقیت دی جا رہی ہے اور صرف اسی نظریہ کو سب پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس کی تازہ ترین مثال جے این یو طلبا تنظیم کے صدر کنہیا کمار اور ان کے ساتھیوں کی ہے ۔ جب کنہیا کمار اور ان کے ساتھیوں نے اس سوچ کے خلاف آواز بلند کی تو انہیں غداری کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا ۔ اب کنہیا کمار پر حیدرآباد میں بھی تحدیدات عائد کی گئیں۔ انہیں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں داخلہ سے روک دیا گیا اور آج تو ایک تقریب کے دوران ان پر چپل پھینکے گئے ۔ یہ طریقہ کار ہندوستان کی روایات کے مغائر ہے ۔ انتہائی قابل مذمت اور مذموم بھی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض ایک سوچ اور نظریہ کے تابع رہنے والوں کے ساتھ ہی چلنا پڑیگا اور اس سے اختلاف کرنے والوں کیلئے خود اپنے ملک میں عرصہ حیات تنگ کردیا جائیگا ۔ مختلف گوشوں سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ملک میں اور خاص طور پر تعلیمی اداروں میں ایک مخصوص نظریہ اور فکر کو ہی مسلط کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ان کوششوں کو روکنے کی ضرورت ہے لیکن اب تک انہیں روکا نہیں جاسکا ہے بلکہ یہ کوششیں مزید تیزی اور شدت اختیار کرتی جار ہی ہیں۔
کنہیا کمار اس ملک کا شہری ہے ۔ ملک کی ایک باوقار یونیورسٹی کی طلبا تنظیم کا لیڈر ہے اور اس کو اپنے ملک میں کہیں بھی جانے اور کہیں بھی خطاب کرنے کا اختیار اور حق حاصل ہے ۔ اس پر کسی جامعہ کے دروازے بند کردینا اس کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے اور ایسی کوششوں سے اس کے مخالفین کے خوف کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس پر چپل پھینکنے کا جو معاملہ ہے وہ بھی ایک مخصوص نظریہ اور سوچ رکھنے والی کی کارستانی ہے ۔ یہ بھی عدم تحمل کی اور عدم رواداری کی ایک مثال ہے ۔ اس واقعہ سے یہی پیام ملتا ہے کہ جو لوگ آر ایس ایس یا بی جے پی کے خیال سے اتفاق نہیں کرینگے اور اختلاف برتا جائیگا انہیں خود اپنے ہی ملک میں آزادی سے گھومنے یا اظہار خیال کی آزادی نہیں ہے اور انہیں اس طرح کے حملوں کا نشانہ بنایا جائیگا ۔ یہ مثال ملک کی روایات کے مغائر اور برخلاف ہے اور اس سے ملک کے عوام میں خود بے چینی پیدا ہوسکتی ہے ۔ کنہیا کمار نے اگر کوئی خلاف قانون کام کیا ہے تو اس کا فیصلہ عدالتوں میں ہوگا ۔ کسی کو ایک جانبدارانہ سوچ اور فکر اختیار کرتے ہوئے عوامی عدالت میں ملزم قرار دینے اور اس کو سزا دینے کا کوئی حق یا اختیار حاصل نہیں ہے ۔ یہ اختیار اور حق ملک کی عدلیہ کا ہے اور ملک کی عدلیہ اس پر فیصلہ کریگی جو سب کیلئے قطعی ہونا چاہئے ۔ اپنے جذبات کے پیش نظر قانون کو ہاتھ میں لینا اور اسے عدالت سے قبل مجرم قرار دینا یا غدار قرار دینا درست نہیں ہے ۔ جب تک عدالت میں فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک اس معاملہ پر کسی کو قطعی رائے کا تعین کرلینے کا بھی اختیار اور حق حاصل نہیں ہے ۔
کنہیا کمار پر چپل پھینکنے کا واقعہ عدم تحمل کی تازہ ترین مثال ہے ۔ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آر ایس ایس اور اس کی ہم قبیل تنظیموں کے نظریہ اور فکر پر عمل کرنے والا طبقہ کسی اختلاف کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے اور وہ اپنا نظریہ دوسروں پر مسلط کرنے پر اٹل ہے لیکن یہ کوشش کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ ہندوستان کثرت میں وحدت کی مثال ہے اور یہاں ہر ایک کو دوسرے کے ساتھ تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہی ہندوستان کی خوبی اور انفرادیت ہے جو دنیا بھر میںاس کو مقبول بناتی ہے ۔ چاہے سنگھ پریوار ہو یا اس کی ہم قبیل تنظیمیں ہوں یا کوئی طلبا تنظیم ہو کسی کو بھی دوسروں کے خیال اور رائے پر اثرا نداز ہونے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ایک دوسرے کے خیال سے اختلاف سب کو ہوسکتا ہے لیکن اختلاف کرنے والوں پر حملے قابل مذمت اور ناقابل قبول ہیں۔

TOPPOPULARRECENT