Monday , August 21 2017
Home / سیاسیات / عدم رواداری میں اضافہ کیلئے مرکز پر اپوزیشن کی تنقید مسترد

عدم رواداری میں اضافہ کیلئے مرکز پر اپوزیشن کی تنقید مسترد

ریاستی معاملات کو مرکز یا وزیراعظم سے مربوط کرنا نامناسب، وینکیا نائیڈو کا بیا ن
نئی دہلی ۔ 28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر مختلف گوشوں سے سخت تنقیدوں کا سامنا کرنے والی مرکزی حکومت نے آج کہا کہ اس کے دائرہ کار سے باہر پیش آئے واقعات کے لئے اس کو موردالزام ٹھہرانے کیلئے غلط معلومات پر مبنی مہم چلائی جارہی ہے۔ مرکز نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ مودی سرکار کو عوام کی طرف سے کی گئی بھرپور تائید کے تئیں عدم رواداری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ گائے کے گوشت کے تنازعہ اور دادری میں ایک شخص کو ہجوم کے ہاتھوں مار مار کر ہلاک کئے جانے کے واقعات پر بدترین تنقیدوں کا سامنا کرنے والی حکومت کی پرزور مدافعت کرتے ہوئے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ’’بعض عناصر گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور بعض خود گمراہ ہیں‘‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہیکہ اس قسم کے واقعات پہلے بھی پیش آئے ہیں اور حکومت ان کی مذمت کرچکی ہے۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ بیف اور ایسے ہی چند مسائل پر تمام تر بحث و مباحثہ محض چند انگریزی ذرائع ابلاغ تک محدود ہیں اور دوسروں کو ان تمام باتوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ’’ان معاملات میں حکومت کی کوئی غلطی نہیں ہے کیونکہ امن و قانون ریاستی معاملہ ہے اگر یوپی میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو کوئی کس طرح غیرمنصفانہ انداز میں مرکزی حکومت کو موردالزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر کرناٹک میں کچھ ہوتا ہے تو وہ ان تمام باتوں سے وزیراعظم کو ہی جوڑ دیتے ہیں۔ یہ باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی۔ ان مسائل پر غلط معلومات پر مبنی ایک مہم چلائی جارہی ہے۔ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ چند عناصر دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور چند خود گمراہ ہیں۔ 120 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں ایسے واقعات پہلے بھی پیش آچکے ہیں جو قابل مذمت ہیں۔ پارٹی (بی جے پی) اس کی مذمت کرتی ہے۔ حکومت اس کی مذمت کرتے ہیں اور وزیراعظم خود پرزور انداز میں مذمت کرچکے ہیں‘‘۔ وینکیا نائیڈو نے بڑھتی ہوئی عدم رواداری کیلئے حکومت کو موردالزام ٹھہرانے والوں پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدم رواداری میں اضافہ بھی ہوا ہے تو یہ ان میں ہوا ہے جو الیکشن ہار گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT