Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / عدم رواداری پر تلنگانہ کے ادیب و شعراء کی خاموشی افسوسناک: جناب زاہد علی خاں

عدم رواداری پر تلنگانہ کے ادیب و شعراء کی خاموشی افسوسناک: جناب زاہد علی خاں

سماج کے سلگتے مسائل پر قلم اُٹھانے اور شادیوں کی برائیوں کو منظر عام پر لانے کا مشورہ ، ڈاکٹر سید حسام الدین کی تصانیف کا رسم اجراء ، ایڈیٹر سیاست کا پرزور خطاب
حیدرآباد۔ 9 نومبر (دکن نیوز) جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے حیدرآباد کے ادیبوں و شاعروں پر زور دیا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور فرقہ پرستی کے خلاف جاریہ احتجاج میں شامل ہوجائیں۔ ملک کے کئی علاقوں میں کئی مصنفین، ادیب، شعراء اور فنکاروں نے اپنے ایوارڈس اور انعامات بطور احتجاج واپس کردیئے اور سیکولرازم کی بقاء کے لئے فرقہ پرستی کے خلاف سخت احتجاج کیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ ریاست تلنگانہ کے دانشوروں، ادیبوں اور فنکاروں نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کی ہے۔ جناب زاہد علی خاں کل شام محبوب حسین جگر ہال، احاطہ روزنامہ سیاست عابڈس میں ایک پُرہجوم جلسہ کو مخاطب تھے۔ اس جلسہ میں ممتاز ادیب ڈاکٹر سید حسام الدین کی دو تصانیف ’’اندازِ بیان‘‘ اور ’’ہمہ رنگ‘‘ کا ایڈیٹر سیاست نے رسم اجرائی انجام دی جس میں انہوں نے کہا کہ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہماری مادری زبان اُردو ہے جو کشمیر سے کنیاکماری اور بنگال سے پنجاب تک بولی جانے والی زبان ہے جو تمام ناانصافیوں کے باوجود آج بھی زندہ ہے۔ آزادی کے 68 برس بعد بھی اردو میں اتنا دَم خم ہے کہ اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ملک کی شاید ہی کوئی زبان ایسی ہو جو ملک بھر میں بولی و سمجھی جاتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف برصغیر میں بلکہ بیرونی ملکوں میں اردو کی بستیاں ہیں، نئے نئے مقامات پر اُردو والے اس زبان کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ دنیا کے 107 ممالک میں 3,500 سے زائد شہروں میں 22 تا 25 لاکھ افراد انٹرنیٹ پر ہر روز اُردو اخبار ’’سیاست‘‘ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس طرح اُردو کی نہ صرف ہندوستان میں بلکہ سارے جہاں میں دھوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُردو کتابوں کی اشاعت ایک بڑا کارنامہ ہے، لیکن اردو کے قاری کے لئے نئے موضوعات کو پیش کرنا ہمارے ادیبوں کی ذمہ داری ہے۔ گل و بلبل کی شاعری اور گھسے پٹے موضوعات پر نثری مضامین کا دور اب ختم ہوچکا ہے۔ عصر حاضر میں سماج کے سلگتے مسائل پر قلم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ادیبوں و مصنفین پر زور دیا کہ وہ ملک کے سنگین مسائل جیسے گاؤکشی، لو جہاد، گھر واپسی اور اقلیتوں پر ہورہے مظالم کو اپنی تخلیقات کے ذریعہ منظر عام پر لائیں اور قوم کو بیدار کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم شادیوں میں جو برائیوں اور خرابیاں پیدا ہورہی ہیں، انہیں منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔ ریاست تلنگانہ میں روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ مسلم تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو 12% تحفظات دیں گے۔ اپنی انتخابی تقاریر میں ’’ہمیں طاقت دو‘‘ اور ’’ہم کو ووٹ ڈالو‘‘ کہتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کئی وعدے کئے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ اضلاع میں یہ تحریک منظم طور پر جاری ہے لیکن حیدرآباد شہر میں ابھی اس تحریک کو استحکام دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ادیبوں، شاعروں، اساتذہ، دانشوروں کا فرض ہے کہ وہ مسلم مسائل کے حل کے لئے سامنے آئیں، ورنہ حالات اس قدر پرآشوب ہوتے جارہے ہیں کہ آئندہ پانچ سال میں شاید مسلمانوں کو کئی طرح کے معاشی اور سماجی مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ سیاست کی جانب سے مسلم بچوں کی تعلیم کے لئے اسکالرشپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی اسکالرشپ کے حصول کے لئے ہیلپ لائن قائم کیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے مسلمان استفادہ کریں اور ملت اسلامیہ کو زندگی کے تمام شعبوں میں مستحقہ مقام کے حصول میں اپنا دستِ تعاون دراز کریں۔ ابتداء میں جناب عابد صدیقی نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر حسام الدین کی کتاب ’’ہمہ رنگ‘‘ میں ان کے نظریات اور عقائد کا بھرپور رنگ جھلکتا ہے۔ ان کی تحقیقی بصیرت ، اندازِ بیان اور ہمہ رنگ کے مضامین سے نمایاں ہے۔ انہوں نے سیرت النبیؐ کے مطالعہ پر ڈاکٹریٹ کیا ہے اور مختلف زاویوں سے اقبالؔ، ابوالکلام آزاد اور سرسید احمد خاں جیسے اکابرین اور ان کے افکار کا جائزہ لیا ہے۔ پروفیسر بیگ احساس نے صدارتی تقریر میں کہا کہ ملک میں ادیبوں، شعراء اور فنکاروں کی جانب سے عدم رواداری کے خلاف جو احتجاج ہورہا ہے۔ اس میں حیدرآباد لٹریری فورم کی جانب سے وہ خود اور ڈاکٹر قمر جمالی نے اسمیتا شاہین کے طلب کردہ اجلاس میں اپنا احتجاج درج کیا تھا۔ انہوں نے جناب زاہد علی خاں سے  اپیل کی کہ وہ اس احتجاج کی رہنمائی کریں تو اُردو کے ادیب و شاعر اس میں شامل ہوں گے اور منظم احتجاج کی گونج ملک بھر میں سنائی دے گی۔ انہوں نے ڈاکٹر سید حسام الدین کو ایک بہترین محقق اور نثر نگار قرار دیا۔ ڈاکٹر عقیل ہاشمی سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ یہ دونوں تصانیف حسام الدین کی تحقیقی بصیرت کی مظہر ہیں۔ انہوں نے جن موضوعات کا انتخاب کیا، وہ منفرد اور نئے ہیں۔ پروفیسر یونس فہمی (ناندیڑ مہاراشٹرا) نے کہا کہ ڈاکٹر حسام الدین کی ادبی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ ان کتابوں کی اشاعت میں ان کی رفیق حیات محترمہ شاہدہ کی جستجو نے ان کتابوں کی اشاعت کو ممکن بنایا ہے۔ ڈاکٹر حسام الدین نے اپنے مضامین میں مختلف حوالوں کے ذریعہ تحقیقی مہارت اور ادبی دیانت داری کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ سید حسام الدین کی دوستوں اور مداحوں نے گلپوشی و شال پوشی کی۔ آخر میں انہوں نے نہایت جذباتی و متاثرکن اظہار تشکر پیش کیا۔ تقریب کا آغاز میر انورالدین کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ احمد صدیقی مکیش نے بارگاہ رسالتؐ میں ضیاء قادری کی تحریر کردہ نعت پیش کی۔ اس تقریب میں ڈاکٹر مجید بیدار، منور علی بیگ (جدہ)، افروز سعیدہ، ڈاکٹر قمر جمالی، محمود حامد، اختر مسعود، ڈاکٹر سید غوث الدین، زاہد محمود صدیقی، محمد نصراللہ خاں، خیرالنساء (افسانہ نگار)، ثریا مہر، محمد عبدالقدیر (ایم ڈی ایف)، ایم اے واحد، منور علی مختصر، صالح بن عبداللہ باحازق، اے اے کے امین، محبوب حسین آزاد، شہاب الدین ہاشمی، الطاف احمد خاں، محترمہ شاہدہ حسام الدین کے علاوہ ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جناب عابد صدیقی کے شکریہ پر جلسہ اختتام کو پہونچا۔

TOPPOPULARRECENT