Sunday , October 22 2017
Home / سیاسیات / عدم رواداری پر مودی کا لندن میں تبصرہ دوغلی باتیں:کانگریس

عدم رواداری پر مودی کا لندن میں تبصرہ دوغلی باتیں:کانگریس

وزیراعظم ایسی تضادبیانی کئی ملکوں میں کرچکے ہیں ، وطن میں فرقہ پرستانہ واقعات پر عدم کارروائی مودی حکومت کو بے نقاب کرتی ہے
نئی دہلی، 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدم رواداری کے بارے میں ان کا تبصرہ ملک کے کسی بھی گوشے میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ انھیں بی جے پی کے سرکش قائدین کے خلاف کارروائی سے کسی نے نہیں روکا تھا۔ سینئر کانگریس قائد آنند شرما نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو یہ یاد دہانی اہمیت رکھتی ہے کہ انھوں نے نہ تو مذمت کی اور نہ کئی واقعات پر جن میں پارٹی کے ساتھی، ان کے وزراء، بی جے پی اور آر ایس ایس کے قائدین ملوث تھے، کوئی کارروائی کی۔ گزشتہ روز لندن میں اخباری نمائندوں کے ایک سوال کے جواب میں جو ملک میں عدم رواداری کے بارے میں تھا، وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ ’’ہندوستان عدم رواداری کو قبول نہیں کرتا، چاہے یہ ایک واقعہ ہو یا دو یا تین واقعات، لیکن ملک میں 125 کروڑ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے لئے ہر واقعہ سنگین ہے، ہم اسے برداشت نہیں کرتے‘‘۔ شرما نے کہا کہ چونکہ مودی نے کوئی کارروائی نہیں کی، اس لئے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انھیں بھی ان عدم رواداری کے واقعات کا ’’موئد‘‘ سمجھا جائے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کا یہ مخصوص انداز ہے۔ ان کی منافقت اور دوغلی باتیں ان کا خاصہ ہیں۔ شرما نے وزیر اعظم پر الزام عائد کیا کہ وہ خود پر تنقید کبھی برداشت نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے بڑا تضاد اور کچھ نہیں ہے کہ حکومت کچھ کرتی ہے اور وزیر اعظم کچھ اور کہتے ہیں۔

وزیر اعظم جو کچھ بیرون ملک کہتے ہیں، اگر وہ اس بارے میں سنجیدہ ہوتے تو اس بات کو یقینی بناتے کہ فرقہ پرستی پر مبنی بیانات دینے والے وزراء برطرف کردیئے جائیں۔ نریندر مودی کو اس سے کس نے روکا تھا؟ وہ بی جے پی کے عہدہ داروں اور آر ایس ایس کے قائدین کے خلاف بھی کارروائی یا کم از کم ان کی سرزنش کرسکتے تھے۔ وہ بے نقاب ہوچکے ہیں، کیونکہ ملک میں جاری واقعات میں جو لوگ ملوث ہیں، ان کے خلاف انھوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کانگریس قائد نے کہا کہ جہاں مودی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے ملک کا وقار بحال کردیا ہے، ہندوستان کے بارے میں نظریات سن کر جو ان کے وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد منظر عام پر آئے ہیں، ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کی شبیہہ گزشتہ 18 ماہ میں برسر اقتدار پارٹی کے نظریات کی عکاس بن گئی ہے۔ ماحول صف آرائی کا پیدا ہو گیا ہے، جس کیلئے صرف حکومت ہی ذمہ دار ہے۔ آنند شرما نے کہا کہ ہم ہندوستان کا وقار بہتر بننے کے دعویٰ کو مکمل طورپر مسترد کرتے ہیں۔ ایک بار پھر یہ ان کی ذہنیت کا ثبوت ہے کہ وہ صرف ’’میں، میری ذات اور نریندر مودی‘‘ کی اصطلاحات میں سوچتے ہیں۔ آنند شرما نے کہا کہ انھوں نے یہی بات کئی ممالک میں دہرائی ہے۔ انھوں نے ملک کو پریشان کردیا ہے۔ ایک دوسرے پر سیاسی کیچڑ اچھالنے کے بارے میں جو ٹیپو سلطان جینتی کے سلسلے میں ہوا ہے، آنند شرما نے کہا کہ تاریخی حقائق کو تسلیم کرلینا چاہئے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ آپ کے مذہبی نقطہ نظر کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اس سوال پر کہ کیا راہول گاندھی بھی نتیش کمار حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کریں گے، آنند شرما نے کہا کہ جہاں تک انھیں علم ہے نائب صدر کانگریس ضرور شرکت کریں گے۔ آنند شرما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی معیشت ناقص انتظام و انصرام کی شکار ہے۔ پیداوا ر کے نتائج اور برآمدات انحطاط پذیر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت کو اس بارے میں بیان دینا چاہئے کہ روزگار کے کتنے مواقع ضائع ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT