Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / عدم رواداری کیخلاف مزاحمت ،تھیٹرس کی اہم ذمہ داری

عدم رواداری کیخلاف مزاحمت ،تھیٹرس کی اہم ذمہ داری

کچلی ہوئی آوازوں کی ترجمانی تھیٹر فنکاروں کا اہم فریضہ ، قادرعلی بیگ فاؤنڈیشن تقریب سے مہیش بھٹ کا خطاب
حیدرآباد 27 اکٹوبر (سیاست نیوز) انقلابی افکار و عزائم کے حامل فلمساز مہیش بھٹ نے بڑھتی ہوئی عدم رواداری کی سخت مذمت کرتے ہوئے ہندوستانی تھیٹرس اور فنکاروں پر زور دیا کہ وہ اِس لعنت کے مقابلہ کے لئے آگے آئیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تھیٹر کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ کچلی ہوئی آواز کو اُبھارا جائے اور مہیش بھٹ نے جو آج یہاں قادر علی بیگ فاؤنڈیشن کی 10 روزہ تقاریب کے ضمن میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے ایک منتخب اجتماع سے فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تھیٹر کا مقصد ہی عوام کے جذبات و احساسات کی مؤثر ترجمانی کرنا ہے اور بالخصوص اُن آوازوں کو اُبھارنا ہے جنھیں دبایا اور کچلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھیٹر سے وابستہ حیدرآباد کی افسانوی شخصیت قادر علی بیگ کا نام آج نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر یاد رکھا جاتا ہے۔ مہیش بھٹ نے کہاکہ اس اجتماع میں وہ قادر علی بیگ مرحوم کی خوشبو اور مہک محسوس کررہے ہیں جنھوں نے اپنے آہنی عزم کے ساتھ تھیٹر کی روایات کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ آگے بڑھایا۔ قادر علی بیگ وہ شخصیت ہیں جو مخالفتوں کی پرواہ کئے بغیر پوری جرأت و حوصلے کے ساتھ تنہا چلنے کا ہنر جانتے تھے اور اس عظیم روایات کو اُن کے ہونہار سپوت محمد علی بیگ آگے بڑھا رہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔ مہیش بھٹ نے کہاکہ ہندوستان دنیا کا ایک عظیم مثالی ملک ہے جہاں معماران دستور نے اپنے شہریوں کو اظہار خیال کی بھرپور آزادی دی ہے۔ مہیش بھٹ نے کہاکہ حکمراں اور بااثر افراد تاریخ لکھتے ہیں لیکن تھیٹر ایک ایسا شعبہ ہے جو تاریخ کے ٹھکرائے ہوئے افراد اور واقعات کو اُجاگر کرتا ہے جس کی بہترین مثال یہ ہے کہ ہندوستان میں اس جرأت مند عراقی صحافی منتظر زیدی کی سوانح حیات پر مبنی فلم کی نمائش کی گئی جس نے اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش پر جوتا پھینک مارا تھا جو دراصل عراقیوں کی بے بسی اور غم و غصہ کی ترجمانی کا واقعہ تھا۔

TOPPOPULARRECENT