Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / عدم رواداری کے خلاف سونیا گاندھی کی قیادت میں احتجاجی مارچ

عدم رواداری کے خلاف سونیا گاندھی کی قیادت میں احتجاجی مارچ

وزیراعظم نریندر مودی پرنفرت انگیز واقعات کی حمایت کا الزام،صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کو یادداشت پیش
نئی دہلی ۔ 3 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں عدم رواداری کے ماحول کے خلاف کانگریس صدر سونیا گاندھی نے آج پارٹی کے سینئر قائدین کے ہمراہ راشٹرپتی بھون تک احتجاجی مارچ کیا اور صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کو یادداشت پیش کی۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو نفرت انگیز واقعات پر ’’خاموشی‘‘ اختیار کرتے ہوئے ان کی ’’حمایت‘‘ کا الزام عائد کیا۔ تقریباً ایک سو سے زائد پارٹی قائدین کے ہمراہ پارلیمنٹ سے رائزینا ہلز تک زائد از ایک کیلو میٹر طویل مارچ کے بعد انہوں نے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کو یادداشت حوالے کی جس میں ملک کے حکمراں جماعت سے وابستہ طبقات کی دانستہ حرکتوں کی وجہ سے خوف، عدم رواداری اور تشدد بھڑکانے کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض تنظیمیں اور بعض لوگ جن کا مودی جی سے تعلق ہے یا پھر جو حکومت کا ایک حصہ ہے وہ ملک کے کثیر جہتی ثقافت اور ہندوستان کی بنیادی اقدار پر حملہ کر رہے ہیں۔ عدم رواداری کو بھڑکایا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آج جو کچھ واقعات پیش آرہے ہیں، وہ ایک منصوبہ بند لائحہ عمل کا حصہ ہے، اس کا مقصد دانستہ طورپر ہمارے سماج کو تقسیم کرنا ہے۔ صدر کانگریس نے کہا کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے ، ان پر ہر شہری کو کافی تشویش ہے اور خود صدر جمہوریہ نے بھی اپنی رائے واضح طور پر پیش کی ہے لیکن وزیراعظم خاموش ہے ، اسے صاف ظاہر ہے کہ وہ ان واقعات کی توثیق کرتے ہیں۔ ان کے ہمراہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، پارلیمنٹ میں پارٹی کے قائد ملکارجن کھرگے اور غلام نبی آزاد کے علاوہ راہول گاندھی اور اے کے انٹونی تھے۔

سونیا گاندھی نے کہاکہ بعض تنظیمیں حکومت سے منسلک ہیں اور بعض حکومت کا حصہ ہیں۔ یہ تمام ایسی کارروائیوں میں ملوث ہورہی ہیں جن کے ذریعہ رنگا رنگ تمدن اور سماج کے بنیادی نظریات پر ضرب لگائی جارہی ہے اور عدم رواداری پھیلائی جارہی ہے۔ کانگریس پارٹی ان طاقتوں کے خلاف اپنی بھرپور قوت کے ساتھ مقابلہ کرے گی۔ اُنھوں نے صدرجمہوریہ سے اُن کے ساتھ بات چیت کرنے پر اور بھرپور انداز میں پوری قوت کے ساتھ بغض و عناد اور عدم رواداری کی قوت کے خلاف اظہار رائے کرنے پر اظہار تشکر کیا۔ پولیس نے جلوس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں اور پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی تھی۔ کئی کانگریسی قائدین کو راشٹراپتی بھون کی سمت جانے والے جلوس میں شرکت سے روک دیا گیا۔پولیس نے ایک مختصر سے وفد کو صدرجمہوریہ سے ملاقات کی اجازت دی۔ راہول گاندھی نے بھی وزیراعظم کو خاموشی اختیار کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ان واقعات پر کچھ کہنا بھی ضروری نہیں سمجھتے جبکہ صدر جمہوریہ اور آر بی آئی گورنر نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم اور وزیر فینانس کا یہ خیال ہے کہ ملک میں ایسا کچھ نہیں ہورہا ہے اور ہر چیز بہتر ہے ۔ یہی مسئلہ کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ لوگ عدم رواداری پر یقین رکھتے ہیں۔ نظریاتی طورپر یہ لوگ روادار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو کچھ ہورہا ہے ، اس پر نہ صرف کانگریس بلکہ ہر ہندوستانی شہری کو تشویش ہے لیکن وزیراعظم اس پر یقین نہیں کرتے۔ جب ان سے وزیر فینانس ارون جیٹلی کے اس تبصرہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ عدم رواداری کے خلاف احتجاج منصوبہ بند ہیں تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگوں نے یہ منصوبہ بندی کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT