Monday , May 1 2017
Home / عرب دنیا / عراقی سلامتی دستوں کا موصل کی بڑی سرکاری عمارت اور بینک پر قبضہ

عراقی سلامتی دستوں کا موصل کی بڑی سرکاری عمارت اور بینک پر قبضہ

بغداد، 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عراق کے سلامتی دستوں نے آج موصل کی خاص سرکاری عمارت سے داعش (آئی ایس) کے جنگجووں کو باہر نکال دیا ۔ عراق میں یہ شہر ان کا آخری بڑا گڑھ ہے ۔وزارت داخلہ کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل عبدالامیر المحمد دعوی نے رائٹر کو بتایا رات کی کارروائی میں جنوبی سریع الحرکت دستہ نینوہ گورنیٹ عمارت اور آس پاس کی سرکاری عمارتوں پر قابض ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دستہ نے داعش کے متعدد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ۔اس جگہ دوبارہ قبضہ کرنے سے عراقی فورسز کو قریبی قدیمی شہر مرکز میں جنگجوؤں پر حملہ کرنے میں مدد ملے گی۔ حالانکہ یہ عمارتیں تباہ کردی گئی تھیں اور داعش انہیں استعمال نہیں کررہا تھا مگر یہ موصل پر سرکاری اتھارٹی قائم ہونے کا علامتی قدم ہے ۔اس کے علاوہ موصل میں سنٹرل بنک کی شاخ پر قبضہ کرلیا ہے ۔ 2014میں دولت اسلامیہ نے شہر پر حملہ کرنے کے بعد اسے لوٹ لیا تھا۔فوجوں نے اس عمارت پر بھی اپنا کنٹرول کرلیا ہے جہاں دولت اسلامیہ کی عدالت انصاف ہے ۔وزارت داخلہ کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل عبدالامیر المحمدوعوی نے بتایا کہ اس عدالت میں بہت سخت سزائیں دی جاتی تھیں جیسے کہ سنگسار کرنا، چھتوں سے لوگوں کو گرانا، ہاتھ کاٹنا جس سے دولت اسلامیہ کے کٹر نظریات کا پتہ چلتا ہے ۔سنٹرل بنک کی برانچ اورعدالت انصاف اسی علاقہ بھی ہیں جہاں رات کو سرکاری عمارات کے احاطہ میں فوجی داخل ہوگئے تھے اوروہاں کنٹرول کرلیا تھا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT