Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / عراق میں تین کار بم دھماکے ، 89 ہلاک

عراق میں تین کار بم دھماکے ، 89 ہلاک

بغداد میں سال کا خونریز دن ،حکومت پر عوام کی برہمی ، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی
بغداد۔ 11 مئی (سیاست ڈاٹ کام) عراقی دارالحکومت میں آج رواں سال کا انتہائی خونریز دن رہا جہاں تین کار بم دھماکوں کے نتیجہ میں کم سے کم 89 افراد ہلاک ہوگئے ۔ ایک دھماکہ شیعہ اکثریتی علاقہ کے مارکٹ میں ہوا جس کے نتیجہ میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ عمارتوں اور کاروں کو زبردست نقصان پہونچا۔ ان ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے قبول کی ہے ۔یہ حملے ایک ایسے وقت کئے گئے جب عراقی حکومت ملک کے سیاسی بحران سے دوچار ہے اور مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتِ حال جہادیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں حائل ہوسکتی ہے۔ عراقی عہدیداروں نے کہا کہ شمالی بغداد کے صدر ٹاؤن میں مقامی وقت کے مطابق 10 بجے دن ہلاکت خیز دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں 64 افراد ہلاک اور دیگر 82 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ سے اُٹھنے والے شعلوں میں قریبی دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کئی عمارتیں کھنڈر میں تبدیل ہوگئیں اور سڑکوں پر موجود گاڑیوں کے پرخچے اُڑ گئے۔ دھماکے کے فوری بعد برہم عوام مقام واقعہ پر پہنچ گئے اور اس المیہ کو حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ ایک مقامی شخص نے برہمی کے ساتھ کہا کہ سیاست داں ہی ان دھماکوں کے پس پردہ کارفرما ہیں۔

ملک اس وقت (سرکاری عہدوں کیلئے) تصادم جیسی صورتحال سے دوچار ہے اور عوام ہی اس کے شکار ہورہے ہیں۔ دوسرا خودکش کار بم دھماکہ شمال مغربی علاقہ کاظمیہ میں ہوا جہاں امام موسیٰ کاظم کا روضہ ہے۔ اس دھماکے میں کم سے کم 14 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ علاقہ گزشتہ کئی سال سے پے در پے حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دواخانہ کے ذرائع نے کہا کہ مہلوکین اور زخمیوں میں سکیورٹی فورسیس کے کئی ارکان بھی شامل ہیں۔ مغربی بغداد کے ضلع جمیعہ میں دوپہر میں تیسرا کار بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں کم سے کم 8 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے۔ اس دوران داعش نے ایک آن لائن بیان جاری کرتے ہوئے صدر سٹی میں ہوئے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی اور خودکش بمبار کی شناخت ’ابو سلیمان الانصاری‘ کی حیثیت سے کی جس میں دھماکو مواد سے لدی کار کو اُڑاتے ہوئے یہ دھماکہ کیا تھا۔ تاہم مابعد ہونے والے دیگر دو خودکش حملوں کی تاحال کسی بھی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن بالعموم ایسے حملوں کیلئے داعش کو ہی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT