Saturday , July 22 2017
Home / عرب دنیا / عراق میں کردوں کے اڈوں پردولت اسلامیہ کا حملہ

عراق میں کردوں کے اڈوں پردولت اسلامیہ کا حملہ

دو افراد ہلاک ‘ شام میں مستحکم گڑھ طبقہ سے دولت اسلامیہ کے تخلیہ کا امکان

کرکک(عراق) ۔7مئی ( سیاست ڈاٹ کام)  دولت اسلامیہ کے خودکش حملہ آوروں نے کم از کم دو پیش مرگہ فوج کے سپاہیوں کو ہلاک کردیا ۔ جب کہ انہوں نے شمالی عراق میں ان کے اڈے پر حملہ کیا ۔ سرکاری عہدیداروں کے بموجب ایک اور سینئر پیش مرگہ عہدیدار نے اس حملہ کی توثیق کی ہے جو کرد زیر قبضہ کرکک کے علاقہ میں اور دولت اسلامیہ زیرقبضہ قصبہ ہویجا کے درمیان جھڑپ میں ہلاک ہوگیا ۔ دولت اسلامیہ شہر موصل کا دفاع کررہی ہے جو اس کا آخری مستحکم گڑھ ہے ۔ ہریجا نمایاں عراقی قصبوں میں سے آخری قصبہ ہے جو اب بھی جہادیوں کے زیرقبضہ ہے ۔ تل عفر کو جو دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ تھا سرکاری فوجوں نے آزاد کروا لیا ہے ۔ بیروت سے موصولہ اطلاع کے بموجب دولت اسلامیہ کے کئی جنگجوؤں نے شام کے علاقہ طبقہ کے شمالی علاقہ میں اپنی طاقت مرکوز کردی ہے اور امریکہ کی تائید یافتہ فوج کی پیشقدمی کو روک دیا ہے ۔ طبقہ دریائے فرات کے کنارے واقع ہے اور دفاعی اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ 55کلومیٹر طویل شاہراہ جہادیوں کیلئے رسد کی فراہمی کا راستہ ہے ۔ رقہ کیلئے پیشرفت کرتے ہوئے امریکی تائید یافتہ شامی ڈیموکریٹک فوج نے طبقہ کے 90فیصد سے زیادہ علاقہ پر قبضہ کرلیا ہے لیکن 10فیصد سے بھی کم علاقہ جو تالاب سے متصل ہے اب بھی دولت اسلامیہ کے قبضہ میں ہے ۔ دریں اثناء لندن سے موصولہ اطلاع کے بموجب برطانیہ کی انتہائی بدنام ترین خاتون جس پر دہشت گردی کا شبہ ہے سیلی جونس امریکی عہدیداروں کی ٹارگٹ لسٹ میں شامل کرلی گئی ہے ۔ اس فہرست میں دنیا بھر کے تقریباً 12 دولت اسلامیہ کے جنگجو بھی شامل ہیں ۔ 49سالہ خاتون سیلی جونس جنوب مشرقی انگلستان کے علاقہ کینٹ کی رہنے والی ہے اور اس کے دو بچے ہیں ۔ امریکی محکمہ دفاع پنٹگان شام میں اس کے قتل کو اولین ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہ ’’ جہادی دلہن ‘‘ کے نام سے برطانیہ میں مشہور ہیں اور مغربی ممالک کے افراد کو دولت اسلامیہ میں شامل کررہی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT