Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / عراق میں 39 ہندوستانیوں کی موت کا اعلان گناہ کے مترادف

عراق میں 39 ہندوستانیوں کی موت کا اعلان گناہ کے مترادف

External minister Sushma Swaraj during passport seva divas and passport officers conference at JNB office in new Delhi on Friday. Express Photo by Prem Nath Pandey 24 june 16 *** Local Caption *** External minister Sushma Swaraj during passport seva divas and passport officers conference at JNB office in new Delhi on Friday. Express Photo by Prem Nath Pandey 24 june 16

’میں اس گناہ کا ارتکاب نہیں کرسکتی، اعلان کیلئے ثبوت ضروری‘، لوک سبھا میں سشماسوراج کا بیان
نئی دہلی ۔ 26 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیرخارجہ سشماسوراج نے آج کہا کہ یہ نتیجہ اخذ کرنے کیلئے تاحال کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب نہیں ہوا ہے کہ عراق کے شہر موصل میں تین سال قبل اغوا شدہ 39 ہندوستانی ہلاک ہوگئے ہیں۔ سشماسوراج نے پرزور لہجہ میں کہا کہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ان افراد کو ہلاک قرار دینا ایک بدترین گناہ ہوگا اور وہ یہ اعلان کرتے ہوئے اس گناہ کا ارتکا ب نہیں کریں گی۔ وزیرخارجہ نے لوک سبھا میں سخت لہجہ میں مدلل بیان دیتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ اس مسئلہ پرا نہوں نے ملک کو گمراہ کیا تھا اور کہا کہ اغوا شدہ افراد کی ہلاکت کا ثبوت ملنے تک حکومت ان کی تلاش کی کوشش جاری رکھے گی۔ سوراج نے کہا کہ ان کی ہلاکت کا واضح ثبوت ملنے تک تلاش کیلئے جاری اپنی مساعی جاری رکھیں گے اور اعلان کیا کہ کسی ثبوت کے بغیر کسی کی موت کا اعلان کردینا ایک گناہ ہے اور میں ایسا گناہ نہیں کرسکتی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ فائل اس وقت تک بند نہیں ہوگی جب تک یہ ثبوت نہیں ملتا کہ تمام 39 ہندوستانی فوت ہوچکے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہنوز ان سپاہیوں کی تلاش میں ہے جو ویتنام جنگ کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے یا ہلاک سمجھے جاتے ہیں۔ امریکہ حتیٰ کہ دوسری عالمی جنگ میں لاپتہ سپاہیوں کو ہنوز تلاش کررہا ہے۔ ان کے اس پرزور ادعا سے دو دن قبل عراقی وزیرخارجہ ابراہیم الجعفری نے کہا تھا کہ ان 39 ہندوستانیوں کے زندہ رہنے یا ہلاک ہوجانے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ الجعفری نے البتہ یہ توثیق کی تھی کہ ان اغوا شدہ ہندوستانیوں کا آخری معلوم ٹھکانہ جو بادوش جیل تھی اس کو آئی ایس آئی ایس (داعش) کے دہشت گردوں نے منہدم کردیاتھا۔ تاہم ایسا محسوس ہوتا ہیکہ کانگریس ان (سشماسوراج) کے بیان سے مطمئن نہیں ہوئی۔ اس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ’’ہم بیرونی امور پر بحث کے لئے نوٹس دیں گے جس کے بعد ہم دیکھیں گیکہ آپ (سشماسوراج) نے 2014ء میں کیا کہا تھا‘‘۔ کھرگے نے یہ اعلان اس وقت کیا جب اسپیکر سمترا مہاجن نے انہیں سشماسوراج کے بیان پر سوال کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT