Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / عراق کی افواج موصل ائرپورٹ میں داخل ‘ تمام عمارتیں تباہ

عراق کی افواج موصل ائرپورٹ میں داخل ‘ تمام عمارتیں تباہ

کارروائی میں جنگی طیاروں ‘ دبابوں اور ڈرون طیاروں نے حصہ لیا ۔ امریکی زیر قیادت افواج کی بھی مدد
موصل ائرپورٹ 23 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) عراقی افواج آج موصل ائرپورٹ میںداخل ہوگئی ہیں جو شہر کے جنوبی کنارے پر واقع ہے ۔ 2014 میں یہاں داعش کے قبضہ کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہے جب عراق کی افواج اس ائرپورٹ میں داخل ہوئی ہیں۔ عراقی افواج کو اس کارروائی میں جنگی طیاروں ‘ دبابوں اور ڈرون طیاروں کی مدد حاصل تھی ۔ یہ افواج جنوبی موصل کے سارے علاقہ میں پھیل گئی ہیں اور وہ ائرپورٹ کمپاونڈ میں داخل ہوگئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہاں عراقی افواج کو معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم یہ احتیاط سے آگے بڑھ رہی ہیں کیونکہ انہیں شہر میںکچھ مقامات پر داعش کے نشانہ بازوں کی موجودگی کا شبہ ہے ۔ عراق کی وزارت داخلہ کی ریاپڈ ریسپانس یونٹیں وفاقی پولیس دستوں کے ہمراہ ائرپورٹ کمپاونڈ میں جنوب مغرب سے داخل ہوگئی ہیں اور انہوں نے بالبوسیف گاوں میں شمال سے بھی تخریب کاروں کو باہر کرنا شروع کردیا ہے ۔ کمانڈر ریاپڈ ریسپانس اسکارپین ریجمنٹ ہاشم عبدالخادم نے کہا کہ ہم ائرپورٹ میں داخل ہوگئے ہیں اور انجینئرنگ یونٹوں کی جانب سے سڑکوں کو بھی صاف کیا جا رہا ہے ۔ اس کارروائی کے دوران حملہ آور ہیلی کاپٹرس نے ائرپورٹ کی دیوار سے لگی ہوئی ایک قدیم شوگر فیکٹری پر بھی راکٹس داغے جس کے نتیجہ میں سارے علاقہ میں دھول اور دھواں پھیل گیا تھا ۔

ائرپورٹ کے جنوبی حصے کی سمت جانے والی روڈ پر آئی ایس کے ایک تخریب کار کی نعش ایک موٹر بائیک کے ساتھ پڑی ہوئی بھی پائی گئی ۔ ائرپورٹ کے اندر سے حالانکہ کسی شدید مزاحمت کی اطلاعات نہیں ہیں لیکن عراقی افواج سارے علاقہ میں مسلسل فائرنگ کر رہی ہیں اور خاص طور پر شوگر فیکٹری کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ انہیں شبہ ہے کہ فیکٹری میں ابھی بھی آئی ایس کے نشانہ باز موجود ہوسکتے ہیں۔ ائرپورٹ کے اندر تقریبا ہر مقام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جس علاقہ کو رن وے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اسے بھی ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ زیادہ تر عمارتوں کو زمین بوس کردیا گیا ہے ۔ علاقائی کمانڈ کا کہنا تھا کہ ایلیٹ فورسیس بھی پڑوسی غزلانی فوجی اڈہ کو نشانہ بنا رہی ہیں جہاں داعش کے قبضے سے قبل یہ افواج کچھ وقت تک مقیم رہی تھیں۔ ائرپورٹ میں داخلہ اور کنٹرول کے بعد یہاں سرکاری افواج کو موصل کے اطراف و اکناف میں اپنے قدم جمانے اور کارروائیوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی ۔ دریائے تگریس کے مغربی کنارہ کی سمت یہ کارروائی کی جاسکتی ہے جبکہ مشرقی کنارہ پر ایک ماہ قبل ہی سرکاری افواج نے اپنے کنٹرول کی بحالی کا اعلان کردیا تھا ۔ شہر میں دریائے تگریس پر بنے تمام برجوں کو بھی دھماکہ سے اڑا دیا گیا ہے ۔ عراقی افواج کو اس کارروائی میں امریکی زیر قیادت افواج نے اپنی کارروائیوں سے کافی مدد فرہم کی ہے اور جمعرات کو امریکی افواج مقدمۃ الجیش میں دکھائی دیں۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی افواج یہاں اصل لڑائی کا حصہ نہیں رہی تھیں لیکن وہ عراقی افواج کی مدد مسلسل کر رہی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ امریکی افواج پر بھی موصل اور اس کے اطراف میں کئی مقامات پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT