Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / عراق کی سرزمین ہنوز دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ : سعودی وزیر خارجہ

عراق کی سرزمین ہنوز دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ : سعودی وزیر خارجہ

برطانیہ کی علیحدگی یوروپی یونین کا داخلی معاملہ ، خلیجی ممالک کے تعلقات غیرمتاثر،بشارالاسد کے ناسور کو ختم کرنے کا عزم
ریاض۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ترکی ،خطے میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ بغاوت کی ناکام سازش کے بعد انقرہ موجودہ بحران سے جلد نکل آئے گا۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک کے درمیان تاریخی اسٹریٹیجک تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے سے خلیج تعاون کونسل اور یورپی ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔شام کے تنازعہ  پر بات کرتے ہوئے عادل الجبیر نے کہا کہ ’ہم شام میں ایسا نظام حکومت لانا چاہتے ہیں جس میں بشارالاسد کا کوئی کردار نہ ہو۔ ایک ایسا پرامن حل جو شام کے موجودہ بحران کو جلد سے جلد ختم کرے‘۔ انہوں نے کہا کہ داعش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جنگ جاری رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پہلا ملک ہے جس نے داعش کیخلاف عالمی سطح کے اتحاد کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ عادل الجبیر نے مزید کہا کہ شام کے تنازعہ  کے حل کے حوالے سے امریکہ اور سعودی عرب ایک ہیں۔ کچھ تکنیکی نوعیت کے اختلافات ہیں جنہیں آسانی سے دور کیا جاسکتا ہے۔ شام میں اسد حکومت ہی مذاکرات کی ناکامی کی اصل ذمہ دار ہے۔ شامی حکومت نے تنازعہ کے پرامن حل کی راہ روک کر شام قوم پر فوجی حل مسلط کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ایران کی مداخلت کے باعث عراق بدترین فرقہ واررانہ کشیدگی اور اقتصادی بدحالی کا شکار ہے۔ سنہ 2014ء میں عراقی حکومت نے جن اصلاحات کا اعلان کیا تھا وہ عراق کو متحد رکھنے کی ضامن ہیں۔ عراق میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں عالمی برادری اور مقامی حکومت کے درمیان ہم آہنگی ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی عراق کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ بالخصوص داعش کا مضبوط گڑھ عراق میں موجود ہے۔ ہم جہاں خطے کو داعش سے پاک کرنا چاہتے ہیں وہیں ہم شام میں بشارالاسد کے ناسور کو بھی ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔یمن کے بحران کے حل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ یمن کے بحران کا مناسب اور مثالی حل متحارب فریقین کا باہم بات چیت کے ذریعے کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عرب خطے میں فرقہ واریت آیت اللہ خمینی کے ایران میں برسراقتدار آنے سے پھیلنا شروع ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT