Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / عراق کے عیسائی مستقر قراقوش میں عوام کا رقص

عراق کے عیسائی مستقر قراقوش میں عوام کا رقص

عراقی فورسیس کی کامیابی ، عوام اپنے مکانات کو واپس جانے بے چین
اربیل (عراق)۔ 19 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) قراقوش میں آباد عیسائی آبادی اس وقت رقص کرنے لگی جب انہیں پتہ چلا کہ قراقوش کو جہادیوں کے قبضہ سے دوبارہ آزاد کرنے میں عراقی فورسیس نے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے بالآخر کامیابی حاصل کی۔ اس موقع پر عیسائی مرد و خواتین اور بچے بھی یہاں کے مشہور مارشمون چرچ پہنچنے جن میں سے کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں موم بتیاں تھام رکھی تھیں اور اس طرح انہوں نے کرد دارالخلافہ اربیل میں واقع اس مشہور چرچ پہنچ کر نہ صرف یسوع مسیخ سے اظہار تشکر کیا بلکہ خوشیاں بھی منائیں۔ یہاس اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ کل عراقی فورسیس قراقوش کے کافی اندر تک چڑھائی کی تھی۔ یہ ایک ایسا مستقر ہے جو موصل سے 10 کیلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور جس پر دولت اسلامیہ کے جہادیوں نے اگست 2014ء میں قبضہ کرلیا تھا۔ اسی دوران خوشیاں منانے والے لوگوں میں موجود ایک صحافی ہارزیم جیڈ جو کاردیمی نے کہا کہ آج کا دن خوشیوں سے بھرا ہوا ہے جس طرح ہماری سرزمین کو جہادیوں کے ناپاک وجود سے پاک کیا گیا ہے، اس کے لئے ہم یسوع مسیح ؑ اور بی بی مریم  سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔ قراقوش میں حالانکہ حالات اب بھی معمول پر نہیں آئے ہیں،

 

اس کے باوجود بھی چرچ میں شام کی عبادت کا اہتمام کیا گیا تھا جبکہ عراقی فورسیس اب بھی کئی محاذوں پر ڈٹی ہوئی ہے جبکہ دولت اسلامیہ کے جہادیوں نے بھی اپنے کئی محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ اگست 2014ء کی لڑائی سے قبل قراقوش کی آبادی 50,000 نفوس پر مشتمل تھی جبکہ نینوا میں شروع ہوئی لڑائی کے بعد قراقوش سے بھی لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ یہاں اکثریت عیسائیوں کی ہے جس کی وجہ سے اسے عراق میں عیسائیوں کی آبادی والے سب سے بڑے مستقر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ کاردیمی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سال میں ہم نے بہت نشیب و فراز اور خونریزی دیکھی ہے تاہم اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے خطے میں واپس آجائیں گے۔ قراقوش پر جب دوبارہ عراقی فورسیس نے قبضہ کیا تو اس کا پتہ وہاں موجود ہر ایک شہری کو چل گیا جس کے بعد خوشیاں منانے کا سلسلہ چل پڑا۔ کردیمی کے مطابق حالانکہ اب تک فتح کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا ہے لیکن عراقی فورسیس کی پیشرفت کو دیکھتے ہوئے یہ بات بہ آسانی کہی جاسکتی ہے کہ جہادیوں کو اب یہاں سے نکلنا ہی ہوگا۔ گزشتہ دو سال سے یہاں کے لوگ صرف زندگی گذار رہے تھے جبکہ ان کی زندگی میں خوشیاں نام کی کوئی چیز نہیں تھی جیسے صرف عمر کٹی ہوا زندگی نہ گزری ہو۔ یہاں کے لوگ اب اپنے اپنے مکانات کو واپس ہونا چاہتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مکانات تباہ ہوچکے ہوں گے تو انہیں اس کا غم نہیں ہے کیونکہ فتح کے بعد کم سے کم یہاں پُرسکون طور پر زندگی تو گزار سکیں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ پیر کو کرد پیشمرگا اور عراقی وفاقی فورسیس موصل کے دوبارہ حصول کیلئے اپنے جنگی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT