Sunday , April 30 2017
Home / عرب دنیا / عربوں کے مکانات کی تباہی کا عراقی کردوں پر الزام

عربوں کے مکانات کی تباہی کا عراقی کردوں پر الزام

QAYYARA, NOV 13 -- A municipality worker does cleaning as smoke rises from oil wells, set ablaze by Islamic State militants before the militants fled the oil-producing region of Qayyara, Iraq, November 12, 2016. REUTERS-6R

نینوا اور کرکک میں عربوں کی قیام گاہیں نذرآتش ‘ انسانی حقوق تنظیم کی جانب سے تردید

بغداد۔13نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق کی علاقائی کرد حکومت کی فوج معمول کے مطابق عربوں کی قیامگاہوں کو تباہ کررہی ہے ۔ اس علاقہ میں پورے پورے گاؤں تباہ کئے جارہے ہیں جنہیں دولت اسلامیہ کے قبضہ سے گذشتہ دو سال کے عرصہ میں آزاد کروایا گیا ہے ۔ ھما انسانی حقوق نگرانکار تنظیم کی تازہ رپورٹ آج جاری کی گئی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ستمبر 2014اور مئی 2016ء کے درمیان کرد فوج نے دولت اسلامیہ کے خلاف پیشرفت کرتے ہوئے متنازعہ شہروں کرکک اور نینوا میں عربوں کی قیامگاہوں کو تباہ کردیا ۔ جب کہ کردوں کے مکانوں کو جوں کا توں چھوڑ دیا گیا ۔ رپورٹ کے بموجب انہدامی کی یہ کارروائی شمالی عراق کے متنازعہ علاقوں میں پیش آئی جہاں کُرد چاہتے تھے کہ اپنا ایک خوداختیار علاقہ قائم کیا جائے جس پر مرکزی حکومت نے اعتراض کیا تھا ۔ سنی عرب سیاست داں قبل ازیں الزام عائد کرچکے ہیں کہ ملی جلی آبادی کے شمالی عراق کے علاقوں میں آبادیاتی تناسب بگاڑا جارہا ہے ۔ خاص طور پر تیل کی دولت سے مالا مال کرکک کے علاقہ میں ایسی کوشش جاری ہے ۔مشرقی وسطی کیلئے انسانی حقوق نگرانکار تنظیم کے ڈپٹی ڈائرکٹر جواسٹارک نے کہا کہ کرکک اور نینوا میں ایک کے بعد ایک گاؤں پر حملہ کرتے ہوئے فوج عربوں کے مکانوں کو نذرآتش کررہی ہے جب کہ کردوں کے مکانات کو جوں کا توں چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اس کارروائی کیلئے فوجی مقصد کا جواز پیش نہیں کیا گیا ہے ۔کے آر جی کے قائدین کے سیاست مقاصد ان مکانوں کے غیرقانونی انہدام کا جواز نہیں رکھتے ۔ جنگ کے تمام فریقین عراق کے دوسرے وسیع ترین شہر موصل کیلئے جنگ میں مصرف ہیں ‘ ان پر ماضی میں انسانی حقوق کے استحصال کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے ۔ دولت اسلامیہ بدترین الزامات کا نشانہ بن چکا ہے ۔ کرد فوجوں کو قبل ازیں عربوں کے مکان تباہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ گذشتہ سال ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ حملے پیش مرگہ فوج نے جوابی کارروائی کے طور پر کئے تھے جو عرب برادری میں اُن پر کئے تھے ۔کرد عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق خواتین کا احترام کرتے ہیں ۔ انہوں نے مکانوں کو تباہ کرنے کی حکمت عملی کی تردید کردی لیکن ان کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ نے اپنی ہولناک جنگوں کے ذریعہ زبردست تباہی مچائی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT