Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / عربی اور اُردو تعلیم پر ہندوتوا تنظیموں کا احتجاج

عربی اور اُردو تعلیم پر ہندوتوا تنظیموں کا احتجاج

منگلور 4 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ تقریباً 50 افراد نے ایک عیسائی اسکول میں طلبہ کو عربی اور اُردو کی تعلیم دینے پر نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ منگلور کے مضافات میں واقع سینٹ تھامس ایڈیڈ ہائیر پرائمری اسکول میں پیش آیا۔ مقامی افراد نے یہ شکایت کی کہ طلبہ کو زبردستی عربی اور اُردو پڑھائی جارہی ہے جس پر ہندو کارکن کلاس روم میں گھس آئے۔ اِن کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی تھے جہاں انھوں نے طلبہ کی کتابیں چھین لیں۔ اِن کارکنوں کا تعلق سری راما سینے سے بتایا گیا ہے۔ اسکول ہیڈ ماسٹر میلون براگس نے کہاکہ کلاس روم میں عربی پڑھانے پر یہ اعتراض کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اشرار نے موبائیل فون استعمال کرتے ہوئے کلاس روم اور طلبہ بشمول مسلم طالبات کی اُن کی اجازت کے بغیر ویڈیو گرافی کی۔ میلون براگس نے بتایا کہ چھٹی اور ساتویں جماعت کے 40 طلبہ کیلئے والدین کی درخواست اُردو اور عربی کی کلاسیس ہر ہفتہ منعقد کی جارہی ہیں۔ یہاں عربی کے علاوہ جرمن اور فرنچ کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT