Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / عرب شہریوں سے کمسن لڑکیوں کی شادیوں کے اسکینڈل کو روکنے قانون

عرب شہریوں سے کمسن لڑکیوں کی شادیوں کے اسکینڈل کو روکنے قانون

مسودہ کی تیاری، منظوری کیلئے محکمہ لاء روانہ، سخت ترین شرائط و ضوابط
حیدرآباد۔ 26 اگست (سیاست نیوز) عرب شہریوں سے کمسن لڑکیوں کی شادی کے اسکینڈل کو روکنے کے لیے محکمہ اقلیتی بہبود نے مسودہ قانون تیار کیا ہے جسے منظوری کے لیے لا ڈپارٹمنٹ روانہ کیا گیا۔ اس قانون کے تحت عرب شہری پر شادی کے سلسلہ میں سخت ترین شرائط عائد کی جائیں گی اور خلاف ورزی کی صورت میں نہ صرف اس پر بلکہ لڑکی کے والدین، درمیانی افراد اور قاضی کے خلاف آئی پی سی اور سی آر پی سی دفعات کے تحت کارروائی کی تجویز ہے۔ گزشتہ دنوں شہر میں ضعیف العمر عرب شہریوں کے ساتھ دو نابالغ لڑکیوں کی شادی کے معاملہ میں پھر ایک مرتبہ حیدرآباد کو سرخیوں میں لادیا ہے۔ حکومت نے اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کو مسودہ قانون تیار کرنے کا مشورہ دیا جس کے مطابق سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے مسودہ قانون کو تیار کرتے ہوئے لا ڈپارٹمنٹ روانہ کردیا ہے۔ اس قانون میں شادی کے لیے دیگر ممالک سے آنے والے افراد پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ویزا میں اس بات کو شامل کریں کہ ہندوستان دورے کا مقصد نکاح کرنا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ حکومت سے نوابجیکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ ان دونوں شرائط کی تکمیل کے بعد جب کوئی شخص شادی کے لیے حیدرآباد پہنچے تو اسے کمشنر پولیس یا متعلقہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے روبرو اپنے تمام دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں شادی کی اجازت دی جائے گی۔ شادی کے لیے پہلی شرط یہ ہوگی کہ دلہا اور دلہن کے درمیان عمر کا فرق 10 سال سے زیادہ نہ ہو۔ اس سے زائد فرق پر شادی انجام نہیں دی جاسکتی۔ اس کے علاوہ دلہن کے نام پر 10 لاکھ روپئے ڈپازٹ کرنے ہوں گے۔ غیر ملکی شخص کو یہ حلف نامہ دینا ہوگا کہ لڑکی کو اپنے ملک لیجانے پر اس کے ساتھ مقامی بیوی کی طرح سلوک کیا جائے گا اور اسے پراپرٹی میں مکمل حصہ داری دی جائے گی۔ اس شخص کو اپنی پراپرٹی کی تفصیلات اور پہلی بیوی کی موجودگی یا عدم موجودگی کے بارے میں تمام ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔ لڑکی کے ساتھ اپنے ملک منتقلی کے بعد اسے ہر تین ماہ میں لڑکی کو ہندوستانی سفارت خانے کے عہدیداروں سے ملاقات کرانی ہوگی تاکہ اس کی خیریت کا پتہ چلے۔ سید عمر جلیل نے بتایا کہ اکثر یہ دیکھا گیا کہ ویزٹ اور بزنس ویزا پر آنے والے افراد قاضیوں سے ملی بھگت کے ذریعہ نکاح کررہے ہیں اور نکاح کی شرائط کچھ اس طرح ہیں جیسے یہ باقاعدہ نکاح نہیں بلکہ کنٹراکٹ میریج ہو۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی غربت کا استحصال کرتے ہوئے کمسن لڑکیوں سے شادیاں کی جارہی ہیں جو غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی شادیوں کو روکنے کے لیے مسلم جماعتوں اور علماء و مشائخین کو آگے آنا چاہئے۔ عمر جلیل کو شہر کے مختلف علاقوں سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض قاضی اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اگر حکومت ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو وہ عدالتوں سے حکم التوا حاصل کررہے ہیں۔ لہٰذا اس طرح پختہ قانون بنایا جائے گا کہ انہیں عدالتوں سے کوئی راحت نہیں مل پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات میں ممبئی، دہلی اور چینائی لیجاکر شادیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس طرح کے واقعات کی روک تھام میں سنجیدہ ہے۔ وہ اس سلسلہ میں ماہرین قانون، علماء، مشائخ اور قاضیوں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس طلب کرنے کے خواہاں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT