Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / عرب و مسلم ممالک کے سربراہان کیساتھ ٹرمپ کی مجوزہ چوٹی ملاقات

عرب و مسلم ممالک کے سربراہان کیساتھ ٹرمپ کی مجوزہ چوٹی ملاقات

اردن ، یمن ، ترکی ، پاکستان اور دیگر ممالک کے سربراہان کو شاہ سلمان کی دعوت

ریاض میں 20 اور 21 مئی کو پروگرام

ریاض۔ 10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اردن کے شاہ عبداللہ دوم ، الجیریا کے صدر عبدالعزیز بوتفلیکا اور نائجر کے محمدو اسیوفو بھی ان متعدد عرب و مسلم ممالک کے سربراہان میں شامل ہیں جنہیں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ چوٹی ملاقات کے لئے مدعو کیا ہے۔ سعودی عہدیداروں نے کہا ہے کہ عرب ۔ اسلامی ۔ امریکی چوٹی ملاقات ریاض میں 20 اور 21 مئی کو متوقع سلسلہ وار مذاکرات کا ایک حصہ ہوگی۔ ٹرمپ پر بالعموم اسلام کے خلاف خوف و نفرت اُکسانے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے، لیکن ان کے مددگاروں نے سعودی عرب کے دورہ سے متعلق ان کے فیصلہ کو مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ چھ قومی خلیجی تعاون کونسل سے وابستہ ممالکل کے سربراہان اور ٹرمپ کی ایک علیحدہ ملاقات بھی ہوئی۔ علاوہ ازیں سعودی و امریکی قائدین کے مابین باہمی مذاکرات ہوں گے۔ شاہ سلمان نے یمن کے صدر عبدالربو منصور ہادی اور مراقش کے شاہ محمد ششم کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے۔ ترکی، پاکستان، عراق، تیونس کے سربراہان کو بھی دعوت نامے موصول ہوئے ہیں۔ سعودی عرب ، اسلام کے دو مقدس ترین مقامات کی سرزمین ہے اور ٹرمپ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کئے جانے والے بیرونی دورہ کا سعودی عرب سے ہی آغاز کررہے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے واشنگٹن میں کہا کہ ’’دنیا کو یہ واضح اشارہ ہے کہ امریکہ اور عرب و مسلم ممالک ایک بہتر ساجھیداری تشکیل دے سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ اس سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف لڑائی کی مہم میں امریکہ، عرب و مسلم ممالک کے مابین تعاون و اتحاد مستحکم ہوگا اور اس دورہ سے اس علاقہ اور ساری دنیا کو زبردست فائدہ ہوگا۔ سعودیوں کو واشنگٹن میں ٹرمپ کی شکل میں ایک من پسند ’’کان‘‘ مل گیا ہے جو ان کے مفادات اور پریشانیوں پر مثبت ان کے نظریہ کے مطابق سماعت کرتا ہے بالخصوص اس علاقہ میں ایران کے اثر و رسوخ پر پیدا شدہ تشویش کی موثر شنوائی ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT