Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / عزم مصمم سے منزل کا حصول ، سخت محنت سے ترقی و کامیابی

عزم مصمم سے منزل کا حصول ، سخت محنت سے ترقی و کامیابی

آٹو ڈرائیور کی دختر فرحانہ کوگجرات میں بارہویں جماعت میں سرفہرست مقام
حیدرآباد۔15مئی(سیاست نیوز) عزم محکم ہو تو ہوتی ہیں بلائیں پسپاکے مصداق حالات کچھ بھی ہوں نتائج کی پرواہ کئے بغیر اگر محنت کی جائے تو ترقی و کامیابی کی راہ میں کوئی شئے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ریاست گجرات کے ضلع احمدآباد کی رہنے والی فرحانہ باوانی نے ریاست میں 12ویں جماعت کے امتحانات میں پہلا مقام حاصل کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ معاشی حالات یا مصائب تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں پیدا کرسکتے۔ فرحانہ باوانی کے والد فاروق باوانی آٹو ڈرائیور ہیں اور ان کی ماہانہ آمدنی 8تا10ہزار روپئے ہے اس کے باوجود انہوں نے اپنی لڑکی کی تعلیم پر توجہ مبذول کی جس کے نتیجہ میں ان کی لڑکی فرحانہ باوانی نے 12ویں جماعت سائنس مضامین کے ساتھ ریاستی سطح پر 99.72نشانات حاصل کرتے ہوئے ریکارڈ قائم کیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ زیادہ خوش نہیں ہے کیونکہ فرحانہ کا ماننا ہے کہ NEETامتحانات میں انگریزی پرچہ کی مناسبت کے اعتبار سے گجراتی کا پرچہ کافی مشکل تھا لیکن اب جبکہ تنقیح اور نتائج یکساں جاری کئے جائیں گے تو مشکل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ فرحانہ باوانی نے انٹر کے دو سال کے دوران اسی ارادہ اور لگن کے ساتھ محنت کی ہے کہ انہیں بہر صورت ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرنا ہے اور داخلہ کے حصول کیلئے انہیں اس بات کو بھی ملحوظ رکھنا ہے کہ انہیں صرف کونسلنگ کے ذریعہ حاصل ہونے والی مفت نشست ہی حاصل کرنا ہے ۔فرحانہ باوانی کی والدہ شمیم باوانی نے بتایا کہ انہیں بیٹی کے 99.72فیصد نشان حاصل کرنے پر کوئی خوشی نہیں ہے کیونکہ ان کی بیٹی خود NEET کے متعلق مطمئن نہیں ہے جبکہ دو سال کے دوران ان کی بیٹی نے کافی محنت کی ہے اور ان کے خاندان میں اب تک 12ویں جماعت کے بعد کسی نے آگے تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن فرحانہ کے ڈاکٹر بننے کے جنون نے اسے گجرات میں سرفہرست رینک دلوایا ہے جبکہ NEETکے گجراتی اور انگریزی پرچہ میں موجود فرق کے سبب اب وہ کسی حد تک مایوس ہے اسی لئے ان کی والدہ نے کہا کہ حکومت کو اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ایف ڈی اسکول جمال پور کی اس طالبہ کا کہنا ہے کہ بچپن سے ہی اس کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ ڈاکٹر بنے اور اسی کوشش میں اتنی محنت کی کہ 12جماعت میں 99.72فیصد نشانات کے حصول میں کامیاب ہوئی ہیں اور ان کے والد نے کبھی انہیں تعلیم کے متعلق مایوس نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔

TOPPOPULARRECENT