Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / عزم مصمم سے کامیابی قدم چومے گی ، باحجاب خاتون ٹیکسی ڈرائیور

عزم مصمم سے کامیابی قدم چومے گی ، باحجاب خاتون ٹیکسی ڈرائیور

حکومت کی شی کیاب سے استفادہ ، سخت محنت کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں
حیدرآباد ۔ /19 اگست (سیاست نیوز) سخت محنت اور سچی لگن ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے ۔ پابندی اور تقویٰ کی کوشش کی جائے تو یقیناً اللہ کی مدد آہی جاتی ہے ۔ ایسی ہی کہانی ہے  ایک خاتون ٹیکسی ڈرائیور کی ہے جس نے اپنی سخت جستجو اور محنت کے دوران حجاب کو نہیں چھوڑا اور اللہ نے اس کی مدد کی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس چیز کو رکاوٹ سمجھا جارہا تھا اللہ نے اُسی سے اعلیٰ پہچان بنادی اور اب وہ کامیاب زندگی بسر کررہی ہے ۔ ہم بات کررہے ہیں حیدرآباد کی امت الحمیدہ کی یہ خاتون جو حجاب میں نظر آتی ہے گورنمنٹ کی نئی اسکیم ’’ شی کیاب‘‘ سے استفادہ کررہی ہے اور روزانہ 12 تا 15 گھنٹے کی سخت محنت کرتی ہیں ۔ ان کی ٹیکسی میں سوار افراد بھی ان کا کافی احترام کرتے ہیں ۔ یہ ٹیکسی صرف خاتون مسافرین کے لئے ہی ہے جو ایرپورٹ سے مسافرین کو اپنی منزل تک پہونچاتی ہے ۔ خاتون ٹیکسی ڈرائیور امت الحمیدہ جو رنگ روڈ عطاپور علاقہ کی ساکن ہیں سے بات کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ڈرائیوینگ اس خاتون نے ذوق کے تحت سیکھی تھی ۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ اس طرح ’’شی کیاب‘‘ میں خدمات انجام دیں گی ۔ سائبر آباد پولیس کمشنر مسٹر سی وی آنند نے جو خواتین کے تحفظ کی غرض سے شی کیاب کا منصوبہ تیار کیا اور حکومت نے اسے منظوری دی اور آر ٹی اے کے اشتراک سے خواتین کو تربیت دیتے ہوئے صرف خاتون مسافرین کے لئے شی کیاب خدمات کا آغاز کیا اور 10 گاڑیوں کو جاری کیا گیا تھا جن میں امت الحمیدہ کی ایک گاڑی ہے ۔ اپنی کمسن لڑکی کی تربیت اور پرورش کے ساتھ ساتھ حمیدہ ٹیکسی کی خدمات انجام دیتی ہیں ۔ روزانہ 5 ڈراپ کے لحاظ سے یہ خاتون خدمات انجام دیتی ہے ۔ سائبر آباد پولیس نے ایک سال قبل شی کیاب کا آغاز کیا ۔ امت الحمیدہ کو تمام اخراجات کے بعد ماہانہ 25 ہزار روپئے کی آمدنی ہوتی ہے ۔ یہ خاتون صبح اپنی لڑکی کو اسکول کے لئے تیار کرنے کے بعد اسے اسکول چھوڑکر شی کیاب خدمات میں مصروف ہوجاتی ہے ۔ امت الحمیدہ نے بتایا کہ ٹیکسی ڈرائیونگ پر انہیں اپنوں سے زیادہ مخالفت کا سامنا تھا ۔ ان کے فیصلے پر سب نے اعتراض کیا اور ناراضگی جتائی ۔ تاہم مخالفت کے باوجود خود داری سے حجاب میں رہتے ہوئے پابندی کے ساتھ عزت کی روٹی کمانے کے ان کے فیصلے میں اللہ نے مدد کی اور اب وہ خود کو کامیاب تصور کرتی ہیں ۔ انہوں نے ساتھی خواتین سے کہا کہ وہ ہمت سے کام لیں لیکن ہمت میں شرط ہونی چاہئیے کہ وہ حجاب پر پابندی کے عمل کا خیال رکھیں اور ارادہ کرلیں ۔ انہوں نے ایسے افراد سے خواہش کی وہ کسی کو جب اچھا نہیں کہہ سکتے تو انہیں برا بھی مت بولیں ۔ انہوں نے تاثر پیش کیا کہ گھر بیٹھے بھی خواتین مکمل پابندی میں رہتے ہوئے آمدنی اور اپنے افراد خاندان کی مدد کرنے کے بہت زیادہ اقدامات کرسکتی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT