Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / عسکری گروپوں کی ’حمایت‘ ختم کردینے کا مطالبہ

عسکری گروپوں کی ’حمایت‘ ختم کردینے کا مطالبہ

دہشت گردی کی تائید کیلئے مذہب کے استعمال کی مذمت، ہند ۔ یو اے ای موقف

نئی دہلی ۔ 12 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گردی سے لڑائی میں تعاون کو وسعت دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ہندوستان اور یو اے ای نے آج دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کے اعلیٰ کار کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور تمام ممالک سے اپیل کی کہ اپنی سرزمین سے سرگرم عسکری گروپوں کو تمام تر تائید ختم کردیں۔ کسی ملک کا نام لئے بغیر دونوں فریقوں نے مشترکہ بیان میں دہشت گردی کو حق بجانب قرار دینے، اس کی حمایت کرنے اور اس کی سرپرستی کیلئے مذہب کو استعمال کرنے کی بھی مذمت کی اور ساتھ ہی کٹر پسند رجحان کو بڑھاوا دیئے جانے اور مذہبی عدم رواداری پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اقوام کو غیرمملکتی عناصر کی سرگرمیوں پر لازماً قابو پانا چاہئے۔ تجارت کے محاذ پر جو باہمی روابط کا بڑا پہلو ہے، مشترکہ بیان میں جسے وزیراعظم نریندر مودی اور ابوظہبی کے کراؤن پرنس شیخ محمد بن زید النہیان کے درمیان منعقدہ جامع بات چیت کے ایک روز بعد جاری کیا گیا، یہ بتایا گیا کہ یو اے ای ہندوستان کے مختلف شعبوں بشمول ریلوے، پٹرولیم، شوارع، بندرگاہیں اور جہاز رانی میں سرمایہ کاری کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں قائدین نے باہمی روابط کو مزید وسعت دینے کیلئے جامع معاہدے پر عاجلانہ دستخط کا ارادہ بھی ظاہر کیا اور یہ عزم کیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری، سیکوریٹی اور دفاع، توانائی اور تبدیلی آب و ہوا و دیگر شعبوں میں تعاون و اشتراک کو بڑھاوا دیا جائے گا۔ ترجمان وزارت امورخارجہ نے کہا کہ دونوں قائدین کی بات چیت سے دور رس نتائج کے حامل تعاون میں مدد ملے گی۔ دونوں فریقوں نے متعدد شعبوں بالخصوص سیکوریٹی مسائل اور انسداد دہشت گردی پر مل جل کر کام کرنے سے اتفاق کیا۔ ابوظہبی کے ولیعہد شیخ محمد کے دورۂ ہند سے باہمی تجارت میں یقینی جہت کی توقع ہے اور اس ضمن میں این آر آئی بزنسمین کافی پرجوش ہیں۔

TOPPOPULARRECENT