Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / عشرت انکاؤنٹر مقدمہ : حلفنامہ تبدیل کرنے پر کانگریس سے وضاحت طلبی

عشرت انکاؤنٹر مقدمہ : حلفنامہ تبدیل کرنے پر کانگریس سے وضاحت طلبی

چدمبرم ، منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی ملوث : وینکیا نائیڈو، بی جے پی کا جھوٹا پروپگنڈہ : ابھیشک سنگھوی
نئی دہلی 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے الزام عائد کیاکہ عشرت جہاں انکاؤنٹر مقدمہ میں حلفنامہ تبدیل کرنے کا فیصلہ سیاسی سطح پر کیا گیا ہے جس میں اس وقت کے وزیرداخلہ پی چدمبرم، وزیراعظم منموہن سنگھ اور صدر کانگریس سونیا گاندھی ملوث تھے اور اس معاملہ میں کانگریس سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو نے سابقہ یو پی اے حکومت پر سی بی آئی کے غلط استعمال کا بھی الزام عائد کیا اور کہاکہ سیاسی حریفوں کو ہراساں کیا گیا اور اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کو جو اب وزیراعظم ہیں ’’بدنام‘‘ کیا گیا۔ انھوں نے کہاکہ ان موضوعات پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے اور ضروری کارروائی بھی ناگزیر ہے۔ پہلے لشکر طیبہ کی ویب سائیٹ، دوسرے ڈیوڈ ہیڈلی کا بیان اور تیسرے گجرات ہائیکورٹ میں مرکزی حکومت کا حلفنامہ۔ ان سب کے علاوہ گجرات پولیس نے یہ بات کہی، انٹلی جنس بیورو نے بھی یہ بات کہی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود انھوں نے حلفنامہ تبدیل کردیا۔ سابق معتمد داخلہ جی کے پلے نے اب ایک اور انکشاف کیا ہے کہ حلفنامہ تبدیل کرنے کا فیصلہ سیاسی سطح پر کیا گیا تھا۔ وینکیا نائیڈو نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی سطح کا مطلب سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور صدر کانگریس سونیا گاندھی ہیں کیوں کہ یہ تینوں ہی سیاسی اُمور کے بارے فیصلوں کا محور تھے۔ انھوں نے وزارت داخلہ میں سابق انڈر سکریٹری آر وی ایس منی کے بیان کا بھی حوالہ دیا، انھیں مجبور اور ہراساں کیا گیا تھا۔

وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ایک سرکاری عہدیدار کو سیاسی قیادت کی ایماء پر دوسری ایجنسی کے ذریعہ کرنے سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پیشرو حکومت نے سی بی آئی کا کس قدر بے جا استعمال کیا تھا، اس سارے منصوبہ کا مقصد نریندر مودی کو روکنا، نریندر مودی کو بدنام کرنا اور نریندر مودی کو ماخوذ کرنا تھا۔ انھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی کو صرف تردید کرنے کی بجائے اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔ پارٹی کو یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ اس نے کیا کیا؟ حلفنامہ کو تبدیل کرنا کیا درست تھا؟ اور آپ کے پاس ان سب باتوں کا کیا جواب ہے؟ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ان کی حکومت تمام موضوعات پر پارلیمنٹ میں بحث کے لئے تیار ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس پارٹی لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہاکہ اگر چدمبرم خود اس معاملہ میں بات کریں تو بہتر ہوگا۔ ان کے پاس زیادہ تفصیلات نہیں ہے اور وہ کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہئے۔ کانگریس ترجمان ابھیشک سنگھوی نے بی جے پی پر امریکی پاکستانی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ یہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے کہ حکمراں جماعت جھوٹا پروپگنڈہ کررہی ہے۔ آر وی ایس منی کے انٹرویو کے بعد اس مسئلہ نے سیاسی لڑائی کی شکل اختیار کرلی کیوں کہ انھوں نے دو حلفنامے داخل کئے۔ منی نے انٹرویو میں انھیں اذیت رسانی کا الزام عائد کیا تاکہ سینئر آئی بی عہدیداروں کو مقدمہ میں ماخوذ کیا جائے اور احمدآباد میں 2004 ء انکاؤنٹر کو فرضی پیش کیا جائے جس میں عشرت جہاں اور لشکر طیبہ کے تین دیگر دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔ منی کا یہ ماننا ہے کہ دوسرا حلفنامہ داخل کرنے کے فیصلہ کے پس پردہ چدمبرم کارفرما تھے۔

انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ مقدمہ کی تحقیقات کررہی ایس آئی ٹی اور ایک سی بی آئی عہدیدار ان پر نظر رکھے ہوئے تھے اور عشرت و دیگر دہشت گردوں کے بارے میں انٹلی جنس ایجنسیوں کی معلومات کے بارے میں پیشہ ورانہ مہارت کے سوالات اُٹھانے کی کوشش کی گئی۔ سی پی آئی (ایم) پولیٹ بیورو رکن برندا کرات نے اس معاملہ پر بات کرتے ہوئے کہاکہ انکاؤنٹر میں ہلاکت ہوئی۔ عشرت جہاں لشکر طیبہ کی رکن تھی یا نہیں یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیردوران ہے۔ سپریم کورٹ کو ہی اس بارے میں فیصلہ کرنے دیں۔ لیکن بنیادی نکتہ تو یہی ہے کہ انکاؤنٹر میں ہلاکت ہوئی۔ وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے کہاکہ کانگریس پارٹی اور سابق وزیرداخلہ چدمبرم کی اس وقت کی سرگرمیاں ’مخالف قوم‘ تھیں۔ یہ دہشت گردوں کی مدد کے مترادف ہے اور اس معاملہ کی تحقیقات کرتے ہوئے مجرمین کو سزا دی جانی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT