Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / عشرت جہاں: حلف ناموں پر ’’فرضی تنازعہ‘‘ کا الزام

عشرت جہاں: حلف ناموں پر ’’فرضی تنازعہ‘‘ کا الزام

نئی دہلی۔16 جون (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے آج مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ عشرت جہاں کیس میں داخل کردہ دو حلف ناموں پر ’’فرضی تنازعہ‘‘ پیدا کررہی ہے اور لاپتہ فائلوں پر تیار کردہ رپورٹ کو مسخ کرکے تیار کیا گیا ہے ۔ عشرت جہاں کیس سے متعلق لاپتہ فائلوں کی تلاش کرنے کے لئے جس کمیٹی کو تشکیل دیا گیا تھا اس نے تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کی ہے اور بیان دیا ہے کہ گواہ کو اذیت دی گئی ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ اس طرح کی اطلاعات حکومت کی جانب سے فرضی تنازعات پیدا کرنے کو بے نقاب کرتی ہیں۔ این ڈی اے حکومت نے اس کیس میں مرکزی حکومت کی جانب سے داخل کردہ دو حلف ناموں پر فرضی تنازعہ کھڑا کیا ہے۔ اس کہانی کا اصل مقصد یہ ہے کہ لاپتہ فائلوں کی سچائی کو چپا کر جھوٹ کا لبادہ اڑایا جائے۔ عشرت جہاں اور دیگر تین نوجوانوں کی فرضی انکائونٹر کے ذریعہ حقیقی ہلاکت کو ایک نیا موڑ دیا جارہا ہے۔ اس کیس کو جولائی 2013ء زیر التوا رکھا گیا ہے تاکہ سچائی کو دفن کردیا جائے۔ وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سکریٹری بی کے پرساد کی زیر قیادت ایک رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے کل اپنی رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عشرت جہاں کیس میں داخل کردہ 5 دستاویزات کے منجملہ 4 دستاویزات لاپتہ ہیں اور ان کاپتہ چلانے میں دشواری ہورہی ہے۔ اس کمیٹی نے کہا کہ اس وقت کے جنرل سکریٹری نے فائل کے چند حصوں کے کاغذات اپنے سینئرس کو روانہ کئے تھے لیکن یہ فائل انہیں واپس ہوئی ہے یا نہیں اس کا ریکارڈ نہیں ہے۔ چدمبرم اس وقت ملک کے وزیر داخلہ تھے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اخباری اطلاعات سراسر میرے موقف کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے اپنی جانب سے داخل کردہ دو حلف ناموں میں موقف ظاہر کیاتھا۔ 6 اگست 2009ء کو داخل کردہ پہلے حلف نامے میں انٹلیجنس معلومات کو نمایاں کیا گیا تھا اور ریاستی حکومت کے ساتھ مرکزی حکومت نے بھی اپنی رائے پیش کی تھی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر گجرات میں زبردست اتھل پتھل ہوئی تھی۔ اس کے بعد پہلے حلف نامہ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی اور اصل مقصد کو غائب کیا گیا ۔ انکائونٹر کو حق بجانب قرار دینے کے لئے اصل کیس کی پردہ پوشی کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT