Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / عشرت جہاں کے بارے میں این آئی اے کو واقف کرانے کا دعویٰ

عشرت جہاں کے بارے میں این آئی اے کو واقف کرانے کا دعویٰ

حافظ سعید نے کہا تھا کہ بال ٹھاکرے کو سبق سکھانا ضروری ہے ، ڈیوڈ ہیڈلی کی امریکہ سے براہ ویڈیو جرح
ممبئی 26 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی نژاد امریکی دہشت گرد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے آج 26/11 حملہ مقدمہ کی سماعت کررہی خصوصی عدالت کو بتایا کہ لشکر طیبہ کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی نے اُنھیں عشرت جہاں آپریشن کے بارے میں بتایا تھا اور انھوں نے اِس بات پر حیرت کا اظہار کیاکہ این آئی اے نے اپنے بیان میں اِس کا تذکرہ کیوں نہیں کیا۔ کلیدی ملزم ابو جندال کی جانب سے وکیل دفاع وہاب خان کی جرح کے دوران ہیڈلی نے دعویٰ کیاکہ اُس نے این آئی اے سے کہا تھا کہ لشکر طیبہ کی ایک خاتون رکن جو ہندوستان میں انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگئی، اُس کا نام عشرت جہاں ہے۔ تاہم این آئی اے نے اِس بات کو کیوں نظرانداز کردیا وہ نہیں بتا سکتا۔ ہیڈلی نے کہاکہ لشکر طیبہ سربراہ اور 26/11 ماسٹر مائنڈ حافظ سعید نے ممبئی دہشت گرد حملوں سے قبل اُسے بتایا تھا کہ شیوسینا سربراہ آنجہانی بال ٹھاکرے کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام ضرور انجام دیا جائے گا اور اِس کے لئے تقریباً 6 ماہ کا وقت درکار ہوگا۔ 55 سالہ ہیڈلی امریکہ میں 35 سال جیل کی سزا کاٹ رہا ہے اور 4 دن سے براہ ویڈیو رابطہ جاری جرح آج اختتام کو پہونچی۔ جب ہیڈلی سے پوچھا گیا کہ کیا اُس نے نائب صدرجمہوریہ کی رہائش گاہ کی ویڈیو گرافی کی تھی، اُس نے بتایا کہ عمارت کی صرف بیرونی دیواروں کی ویڈیو گرافی کی گئی چونکہ یہ سینا بھون (ہندوستانی فوجی ہیڈکوارٹر) تا نیشنل ڈیفنس کالج نئی دہلی کے راستے میں ہی ہے۔

اس دوران جج جی اے سنان نے وکیل دفاع کی یہ درخواست مسترد کردی کہ آج جرح ملتوی کی جائے کیوں کہ اُنھیں ملزم ابو جندال سے ممبئی سنٹرل جیل میں ملاقات کرنی ہے تاکہ ہیڈلی سے مزید جرح کے لئے بات کی جائے ۔ عدالت نے کہاکہ اِس بنیاد پر ہیڈلی کی آج پیشی کو ملتوی نہیں کیا جاسکتا۔ اِس کے بعد جج نے جیل حکام کو ہدایت دی کہ وہ وکیل کو ملزم سے جیل میں دو گھنٹے ملاقات یا عدالت میں ہی ویڈیو کے ذریعہ رابطہ کی سہولت فراہم کرے۔ لیکن وکیل نے اِسے  تسلیم نہیں کیا اِس کی بناء اُن کی درخواست مسترد کردی گئی۔ ہیڈلی کی جرح آج جیسے ہی ختم ہوئی پراسکیوٹر اجول نکم نے دوبارہ جرح کے لئے درخواست پیش کی جسے عدالت نے قبول کرلیا۔ نکم کی جانب سے دوبارہ جرح کے دوران ہیڈلی نے کہاکہ اِس سے پہلے نیوکلیر پاور پلانٹ کے دورہ کی جو بات اُس نے کہی تھی اُس کا اشارہ ممبئی میں بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر تھا اور اُسے یہاں پہونچ کر امکانی نشانوں کا پتہ چلانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اُس نے میجر اقبال (پاکستان) کی ہدایت پر بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر کا دورہ کیا تھا۔ قبل ازیں ہیڈلی نے وکیل دفاع کو بتایا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ لشکر طیبہ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کو ہلاک کرنا چاہتی تھی۔ اس نے این آئی اے کو بتایا کہ ساجد میر سے قبل مزمل بھٹ لشکر طیبہ کا سربراہ تھا۔ اُس نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ ہندوستان میں پولیس پوسٹ کے قریب ناکام آپریشن کے بارے میں بھی این آئی اے کو اُسی نے واقف کرایا تھا لیکن وہ یہ بتانے کے موقف میں نہیں تھا کہ این آئی اے نے اپنے بیان میں اس کا تذکرہ کیوں نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT