Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / عشرت مقدمہ لاپتہ کاغذات ‘ کسی کو ملوث کرنے کمیٹی کے قیام کی تردید

عشرت مقدمہ لاپتہ کاغذات ‘ کسی کو ملوث کرنے کمیٹی کے قیام کی تردید

کیرانہ واقعات حقیقی ہونے پر ریاستی حکومت سے کارروائی کی خواہش ‘ یو پی چیف منسٹری امیدوار کا متعاقب فیصلہ : راجناتھ
احمدآباد۔19جون ( سیاست ڈاٹ کام ) عشرت جہاں جعلی انکاؤنٹر کی لاپتہ فائلس کے بارے میں تفتیش کرنے کمیٹی کا قیام کسی شخص کو زبردستی اس میں ملوث کرنے کیلئے نہیں کیا گیا ۔ مرکزی وزیر داخلہ  راجناتھ سنگھ نے کہا کہ این ڈی اے حکومت پر ایسا کرنے کا الزام ناانصافی ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے اس خبر پر ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کردیا کہ تحقیقاتی عہدیدار ایڈیشنل سکریٹری بی کے پرساد نے اہم گواہوں میں سے کسی ایک کو بیان دینے کے بارے میں ہدایات دی تھیں ۔ تاہم اس سوال پر کہ حکومت کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا جب کہ کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کردے گی ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ رپورٹ کے مواد کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی نظریہ قائم کیا جاسکتا ہے ۔ کیرانہ سے ہندوؤں کے نقل مقام کے بارے میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر واقعات کے بارے میں اطلاعات درست ہیں تو اترپردیش حکومت کو کارروائی کرنی چاہیئے ۔ وہ اس تنازعہ کے بارے میں پہلی بار ردعمل ظاہر کررہے تھے ۔ ایک بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے الزام عائدکیا ہے کہ کئی ہندو خاندان یو پی کے علاقہ کیرانہ سے نقل مقام کرنے پر اقلیتی طبقہ کی ہراسانی کی وجہ سے مجبور ہوگئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پارلیمانی بورڈ اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرے گا کہ یو پی کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جانب سے چیف منسٹر کے عہدہ کے امیدوار کے طور پر کسی پیش کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر پارلیمانی بورڈ اس بارے میں تبادلہ خیال کرے گا اور تازہ ترین صورتحال کے مطابق فیصلہ کرے گا ۔ عشرت جہاں مقدمہ کے دستاویزات ہنوز لاپتہ ہیں جب کہ اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے دور سے ہی یہ کاغذات لاپتہ بتائے جاتے ہیں ۔ تاہم تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں چدمبرم یا اُس وقت کی یو پی اے حکومت کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کیرانہ کے واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دیا جانا چاہیئے ۔ ساتھ ہی ساتھ صورتحال ہمیشہ یکساں بھی نہیں رہنی چاہیئے ۔ ایسے حالات پیدا نہیں ہونا چاہیئے کہ لوگ اپنے آبائی وطن سے تخلیہ کر کے کسی دوسرے مقام پر منتقل ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس کی اطلاعات ملی ہیں تاہم ان اطلاعات کی ہنوز توثیق نہیں ہوسکی ہے ۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ نے حال ہی میں جاری کردہ 346 خاندانوں کی فہرست کے بموجب الزام عائد کیا تھا کہ انہیں قصبہ سے فرار ہونے پر مجبور کردیا گیا کیونکہ قصبہ کی 85فیصد آبادی مسلمانوں پرم شتمل ہیں ۔ اس قصبہ میں 2013میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے ۔ انہوں نے یو پی کے چیف منسٹری کے بی جے پی امیدوار کے بارے میں کہا کہ فی الحال پارلیمانی بورڈ میں  اس بارے میں کوئی تبادلہ خیال یا فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔ صورتحال کے مطابق پارٹی اس کا فیصلہ کرے گی ۔ یہ قیاس آرائیاں گرم تھی کہ پارٹی سابق چیف منسٹر یو پی راجناتھ کو چیف منسٹری کے عہدہ کا بی جے پی امیدوار بناکر پیش کرنا چاہتی ہے تاہم انہوں نے ریاستی سیاست میں واپس ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی میں چیف منسٹری کے عہدہ کے قابل کئی قائدین موجود ہیں ان کی شخصی رائے دریافت کرنے پر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ اپنا نقطہ نظر بی جے پی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں ہی ظاہر کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT