Thursday , June 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / عشقِ رسول ﷺ سرمایۂ ایمان

عشقِ رسول ﷺ سرمایۂ ایمان

حبیب محمد بن عبداللہ رفیع المرغنی
قومیں عشق ہی سے زندہ رہتی ہیں۔ ملت مسلمہ بھی عشق ہی سے زندہ ہوئی، عشق ہی سے زندہ رہی، عشق ہی سے زندہ رہے گی۔ عشق جتنا محکم ہوگا، زندگی اتنی پائندہ ہوگی۔ آج مخالفین ہمارے سینوں سے عظمت رسول ﷺ اور عشق رسول ﷺ ختم کرنے کی حتی المقدور کوشش کررہے ہیں اور افسوس اس بات کا ہےکہ مخالفین کے ساتھ کچھ ایسے منافق (اپنے )بھی شامل ہوگئے ہیں جو عشق رسول ﷺ کی شمع کو شمع محمدی ﷺ کے دلوں سے گُل کردینا چاہتے ہیں لیکن نہ یہ کل ممکن تھا اور نہ آج ممکن ہے ، جب تک کائنات رہےگی سرکاردوعالم ﷺ کے عاشقان موجود رہیں گے کیونکہ ہمارا یہ کامل یقین ہے کہ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺسے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اکرم ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کے بغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بدبخت نے آپکی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفرکردار تک پہنچایا۔ چند گستاخ آج پھر سر اُٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے عاشقان رسول ﷺکے جذبۂ عشق کو للکار رہے ہیں ، کل بھی شمع محمدی ؐ کے پروانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا اور آج بھی وہ ناموس رسالت پر مٹنے کیلئے تیار ہے ۔ایک مومن بندے کے لئے اللہ کے محبوب کریم آقائے دوجہاں ﷺکی محبت جان ایمان ہے ۔ ہم کو ایمان جیسی عظیم دولت بھی آپﷺ کے صدقے سے عطا ہوئی اور دراصل ایمان کی تکمیل کے لئے اللہ کے حبیب کریم ؐ سے محبت کرنا اور اپنی ماں باپ مال اولاد عزیز واقارب احباب اور حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب اور حق دار ماننا اور ان کی ازواج مطہرات کو اپنی مائیں ماننا فرض ہے۔
اللہ رب العزت قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’(اے رسول )کہہ دیجئے اگر اپنے باپ دادا اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور خاندان اور مال جو لوگ تم جمع کرتے ہو اور تجارت جس کے خراب ہونے کا تمہیں ڈر ہے اور گھر جو تمہیں پسند ہیں (اگر یہ سب کچھ)تم لوگوں کو اللہ ا و ر اس کے رسول ؐسے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ (دنیا اور آخرت میں تمہاری ذلت وتباہی کے لئے )اللہ کا حکم آجائے اور (اگر ایسا ہی کرتے رہو گے تو یاد رکھو)اللہ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا ‘‘ (سورۃ التوبہ)۔ دیکھ لیں رسول کریم ؐ کو اپنی ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ رکھنے والا اللہ کے ہاں فاسق ہے اور اللہ نے پھر فرمایا کہ ’’نبی ایمان والوںپر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور ا ن کی بیویاں ایمان والوں کی مائیں ہیں ‘‘۔ (سورۃ الاحزاب)
اسی طرح کتاب الا یمان صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن ہشام ؓ کا کہنا ہے کہ ہم ایک دن حضور پاکؐ کے ساتھ تھے اور آپ ؐ نے حضرت عمر فاروق ؓ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا تو حضرت عمر ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ؐ آپ مجھے میری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبو ب ہیں تو رسول کریم ؐ نے فرمایا کہ’’ نہیں اُس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک کہ میں تمہیں تمہاری جان سے زیادہ عزیز نہ ہو جائوں تو تم مومن نہیں ہو سکتے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے کہا  آپؐ اب مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو رسول کریم ؐنے فرمایا ’’اب تمہارا ایمان کامل ہوا‘‘۔
ایک کلمہ پڑھنے والے کے لئے رسول کریم ؐسے بڑھ کر خدا کے بعد کوئی بھی پیارا نہیں ہو سکتا جن کے صدقے اللہ نے تما م جہان پیدا فرمائے ، ایمان کی مٹھاس بھی اُسے ہی حاصل ہوتی ہے جو سرکار دوعالم ؐ سے محبت کرتا ہے۔ رسول کریم ؐکا فرمان ہے کہ’’ تین (صفات) ایسی ہیں کہ جس میں پائی گئیں وہ ایمان کی مٹھاس حاصل کرے گا (۱)جسے اللہ اور اللہ کا رسول ؐہر ایک چیز سے زیادہ محبوب ہوں (۲)جو کسی سے صرف اللہ کے لئے محبت کرے (۳) جو اللہ کی طرف سے آگ سے بچا دئیے جانے کے بعد یعنی ایمان کی نعمت عطا فرما دئیے جانے کے بعد کفر میں واپس جانے سے اس طرح نفرت کرے جیسے کہ آگ میں ڈال دئیے جانے سے کرتا ہے اور جسے یہ مٹھاس دنیا میں عطا فرما دی گئی اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا توا س کو اس کی مزید لذت آخرت کے دن ملے گی کیونکہ وہ اللہ اور اس کے محبوب کریم ؐ سے محبت کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوا تھا اور دنیا میں ان کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتا رہا تھا‘‘۔ یہاں ایک بات اور یاد رکھنے کی ہے کہ جس کو سچی محبت ہو جائے وہ اللہ کے محبو بؐ کی نافرمانی نہیں کر سکتا اور اگر محبت کا دعویٰ کرتا ہو اور اللہ کے محبو بؐ کی نافرمانیاں بھی کرتا ہو تو یقینا اس کا وہ دعویٰ جھوٹا ہے اور محبت سچی نہیں ہے ۔اللہ ہمیں اپنے نبی کریم ؐ کی سچی محبت اور غلامی کرنے کی توفیق عطا فرمادے اور عشق رسول ؐ کی وہ عظیم دولت ہمارے سینوں میں بھر دے جس سے دوجہانوں میں ہمیں راحت و سکون میسر ہو جائے۔

محسنِ انسانیت ﷺ اپنے پروانوں کے ہجوم میں جلوہ افروز ہیں کہ ایک معصوم اور پاگل سی لڑکی شہنشاہِ دو عالم ﷺ کے پاس آتی ہے یہ لڑکی مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھرتی رہتی تھی اور خود سے باتیں کرتی رہتی اہل مدینہ کو پتہ تھا کہ یہ لڑکی پاگل ہے اِس لیے کوئی بھی اِس پر توجہ نہ دیتا ۔آج یہ لڑکی سرورِ کونین ﷺ کے پاس آگئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ میرا ایک کام کریں گے محسنِ انسانیت ﷺ نے فرمایا ہاں بتاؤ کیا کام ہے معصوم لڑکی بولی تو آپ ﷺ میرے ساتھ آئیے ۔رحمتِ دو جہاں ﷺ فرمانے لگے تم مجھے کہاں لے جانا چاہتی ہو تو لڑکی نے عرض کی اُس گلی تک آپ ﷺ میرے ساتھ چلیں میں پھر آپ ﷺ کو بتاؤ گی کہ مجھے آپ ﷺ سے کیا کام ہے رحمتِ دو عالم ﷺ نے فرمایا اچھا چلو میں تمھارے ساتھ چلتا ہوں صحابہؓ یہ سارا منظر بہت حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ اِس پاگل لڑکی کے کہنے پر حضور ﷺ اُس کے ساتھ تشریف لے جا رہے ہیں ۔جبکہ اُس پاگل لڑکی کو خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رہی ہے ۔ لیکن رحمتِ دو عالم ﷺ اس لڑکی کے ساتھ کے ساتھ تشریف لے گئے وہ لڑکی مدینہ کی گلیوں میں چلتی رہی اور آپ ﷺ سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتی جارہی تھی ۔ نبی کریم ﷺ اُس لڑکی کے ساتھ اُس کے کہنے پر چلتے رہے ایک جگہ پر پہنچ کر وہ لڑکی رک گئی اوروہاں بیٹھ گئی اور حضور ﷺ سے کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ بھی بیٹھ جایئے ۔ فخرِ دو عالم ﷺ اُس لڑکی کی دل جوئی کے لیے بیٹھ گئے ۔ لوگوں کو شدید حیرت ہو رہی تھی کہ حضور ﷺ ایک پاگل لڑکی پر اتنی توجہ دے رہے ہیں جبکہ صحابہؓ جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ پوری امت اور جہانوں کے والی ہیں سب کے ہمدرد اور غمگسار ایک معمولی پاگل سی لڑکی کے لئے رحمت دو جہاں ﷺ صحابہ ؓ کو چھوڑ کر اُس کے ساتھ مدینہ پاک کی گلیوں میں پھرتے رہے ۔ یقیناًآپ ﷺ ہی سراپا دو جہاں ہیں اگر چشمِ بینا سے دیکھیں تو زمین آسمان کائنات کا چپہ چپہ آپ ﷺ سے محبت کے جذبہ نے اپنے اند سمو رکھا ہے ۔ انسان تو انسان حیوانات بھی عشقِ رسول ﷺ سے معمور تھے یہ بھی محسنِ انسانیت ﷺ سے شدید محبت کرتے تھے انصار مدینہ میں سے کسی کے پاس ایک اونٹ تھا جس سے وہ پانی ڈھویا کرتا تھا ۔ وہ کسی وجہ سے سرکش ہو گیا لہذا اب وہ سر کشی کی وجہ سے اپنی پیٹھ پر پانی نہ اٹھاتا تھا اونٹ کا مالک سرورِ کونین ﷺ کے حضور حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہمارا اونٹ سرکش ہو گیا ہے اب وہ پانی نہیں اٹھا تا ۔شہنشا ہِ دو عالم ﷺ اُس صحابیؓ کے ساتھ اُس کے باغ میں گئے جہاں وہ سرکش اونٹ ایک گوشے میں کھڑا تھا نبی کریم ﷺ اُس اونٹ کی طرف بڑھے تو صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ یہ اونٹ کاٹنے والے کتے کی مانند ہو گیا ہے ۔ ڈر ہے کہ کہیں آپ ﷺ کو تکلیف نہ پہنچائے حضو ر ﷺ نے فرمایا تم اطمینان رکھو مجھے اِس سے کچھ ڈر نہیں ۔جب اونٹ نے مالکِ دو جہاں ﷺ کو اپنی طرف آتا دیکھا تو وہ دوڑ کر آیا اور اپنا سر آپ ﷺ کے قدموں میں رکھ دیااور سجدے میں گِر پڑا ۔ رحمتِ دو جہاں ﷺ نے اُس کے بال پکڑلیے اور وہ ایسا مطیع ہو گیا کہ پہلے کبھی نہ ہوا ہو گا ۔ اِسی طرح رحمتِ دو جہاں جلوہ افروز تھے کہ ایک اونٹ نے آکر آپ ﷺ کے قدموں میں اپنا سر رکھ دیا تو آپ ﷺ نے پوچھا یہ اونٹ کس کا ہے یہ مجھ سے اپنے مالک کی شکایت کر رہا ہے ۔ بعد میں تحقیق پر جب یہ بات سچ ثابت ہوئی تو حضور ﷺ نے اُس اونٹ کو اس کے مالک سے لے کر صدقے کے اونٹوں میں بھیج دیا۔
مومنین کی ماں حضرت عائشہ صدیقہؓ کے دولت کدہ کے ایک گوشے میں ایک بکری ہر وقت اِس انتظار میں رہتی کہ کب رحمتِ دوجہاں ﷺ آئیں گے اور وہ آپ ﷺ کا چہرہ اقدس کا دیدا ر کرے گی ۔ جتنا عرصہ فخرِ دو عالم ﷺ حضرت عائشہؓ کے گھر رہتے وہ مسلسل رحمتِ دو جہاں کو تکتی رہتی ۔ نبی کریم ﷺ سے عشق اُس کی آنکھوں میں نظر آتا ۔ جیسے ہی نبی کریم ﷺ باہر تشریف لے جاتے تو بکری ہجر کی آگ میں جلنا شروع ہو جاتی ۔ بکری کا سکون غارت ہوجاتا اور وہ بے قراری اور پریشانی میں مثل پروانہ شمع محبت کی تلاش میں عالم پریشانی میں گھر کے اند ر ایک کونے سے دوسرے کونے تک تیز تیز چلتی اُس کی یہ بے چینی بے قراری انتظار اُس وقت ختم ہو تا جب وہ محسنِ انسانیت ﷺ کو دوبارہ دیکھ لیتی جیسے ہی آقائے دو جہاں کے رخِ انور سے گھر روشن ہو تا وہ بھی غریقِ مست مئے دیدار پر سکون ہو کر بیٹھ جاتی اور مسلسل ساقی کوثر ﷺ کے چہرہ منور کو تکے جاتی اور اپنی پیاسی بجھاتی رہتی ۔
شافعِ محشر ﷺکے خاندان کے پاس ایک ہرن تھا وہ اکثر اِدھر اُدھر دوڑتا چوکڑیاں بھرتا اور خوب شور مچاتا لوگ اُس کی اچھل کود اور حرکتیں دیکھ کر خوب لطف اندوز ہوتے ۔اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ اور بھی شوخیاں کرتا ۔ لیکن یہ تمام شوخیاں اور اچھل کود وہ اُسی وقت کرتا جب محبوبِ خدا ﷺکا شانہ نبوت سے باہر تشریف لے جاتے یہ اُس کا روزانہ کا معمول تھا لیکن جیسے ہی فخرِ دو عالم ﷺ واپس کا شانہ نبوت میں تشریف لاتے تو وہ تمام شوخیاں ، شرارتیں اور بھاگ دوڑ بند کر کے خاموشی سے بیٹھ جاتا اور متمنانے کی بھی جرات نہ کرتا اِس طرح بے حس و حرکت خا موشی سے بیٹھ جا تا کہ جیسے وہ وہاں موجود ہی نہیں اُس کی خاموشی کی وجہ وہ ادب و احترام تھا جو وہ شافع محشر ِ ﷺ کا کرتا کہ کہیں بارگاہِ رسالت ﷺ میں کوئی بے ادبی نہ ہو جائے ۔ یہ انداز جو ہرن نے اختیار کیا وہ عشقِ رسول ﷺ ہی تھا کیونکہ جہاں عشق ہو گا وہا ں ادب کا ہونا لازم شرط ہے وگرنہ دعوٰی عشق سچا ثابت نہیں ہو تا اِسی طرح معراج کی رات براق کا عشق اور احترام بھی ایمان افروز ہے ۔فتح خیبر میں مالِ غنیمت میں جو مال آیا اُس میں گوش دراز بھی تھا ۔ اُس گوش دراز کی عقیدت اور عشقِ رسول ﷺ بھی عاشقانِ رسول ﷺ کے دل گرماتا ہے ۔فخرِ دو عالم ﷺجب بھی باہر جاتے تو اپنی خاص اونٹنی پر سواری کرتے وہ اونٹنی حضورانور ﷺ کو دیکھ کر باغ باغ ہو جاتی اور اُس کے دل کی کلی کھل اٹھتی ادب سے بیٹھ جاتی محبت سے آپ ﷺ کو اپنی پشت پر بیٹھاتی اور احتیاط سے قدم اٹھا تی اور اپنی خوش بختی پا نازاں ہوتی اور جب رحمتِ دو جہاں ﷺ اپنے رفیق اعلی کے پاس تشریف لے گئے تو جب اپنی خالی پشت پر نظر ڈالتی تو تڑپ اٹھتی جدائی کے غم میں کھانا پینا ترک کر دیا روز بروز کمزور ہوتی گئی آپ ﷺ سے جدائی اور عشق کا داغ لیے دنیا سے رخصت ہو گئی اور ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT