Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / عصری تعلیم

عصری تعلیم

دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والی ترقیات‘ قلب و نگاہ کو مسحور کرنے والے ایجادات‘ عقل و ہو ش اڑانے والے اکتشافات ‘ فہم و خرد کو حیرت و استعجاب کا مظہر  بنانے والے اختراعات درحقیقت علم و فن ہی کے مرہونِ منت ہیں۔علم ہی کے ذریعہ آج  انسان فضاؤں کا سفر کر رہا ہے‘ ستاروں کی دنیا میں قدم رکھ رہا ہے ‘موسم کی پیش قیاسی کر رہا ہے‘آنے والے حالات سے آگاہ کر رہا ہے‘ انسان کی رگوں میں دوڑنے والے خون کی رفتار بتارہا ہے‘ دل ودماغ میں گزرنے والے خیالات و تفکرات کو قید کررہا ہے‘ پانی کا وزن کررہا ہے‘ زمین کی پیمائش کر رہا ہے‘ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے ماقبل تاریخ کے کھنڈرات کو دریافت کر کے ان کے احوال و کیفیات‘ طور و طریقے‘ رہن وسہن‘ تہذیب وتمدن کو بیان کررہا ہے‘صدیوں بعد رونما ہونے والے حوادثات کو ظاہر کررہا ہے۔ فضاؤںمیں جدید آلات چھوڑ کر ساری دینا کی ویڈیو گرافی کررہا ہے۔ دنیا کے طول و عرض کو مربوط کر کے دنیا کے کسی کونے میں ہوئے واقعات کو دوسرے لمحے میں ساری دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے۔ غرضیکہ دنیا میں ایسی محیر العقول ترقیات وقوع پذیر ہو رہی ہیں جس کی نظیر زمانے ماضی کے کسی دور میں نظر نہیں آتی‘ یہ ساری کرشمہ سازی علم ہی کی بدولت ہے۔ان کارہائے  نمایاں کی بنیاد رکھنے والی مسلمان قوم ہے جس نے راز حقیقت کو پہچانا‘ تسخیر کائینات  کی کلید کو دریافت کیا‘ آفاق و انفس‘ اور ارض و سما میں موجود خدا کی آیات و نشانیوں کے راز ہائے سربستہ کو جانا اس دنیا میں خدا کی ودیعت کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کردیا اور دنیا میں ایک عالمگیر تعلیمی  انقلاب کی نقیب بنکر ظاہر ہوئی اور بلا مبالغہ ساری دنیا میں تعلیمی شعور آگاہی کی پیشرفت دور اسلامی سے شروع ہوئی اور مسلمانوں نے علوم دینیہ کی نشر و اشاعت میں جہاں بے مثال خدمات پیش کئے وہیں مقاصد تخلیق‘ اور کائینات کے مصالح کی تکمیل کے کئے دنیوی علوم میں رہنمایانہ نقوش چھوڑے اور ساری دنیا میں جہانبانی اور خدمت خلق کے لئے تعلیمی شعور کو پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ھوالذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا وہ ذات ہے جس نے تمہاری خاطر ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو زمین میں ہے (سورہ البقرہ آیت۹۲) اور ارشاد باری ہے ’’ وسخر لکم الشمس والقمر‘‘ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تمہارے لئے شمس و قمر کو تابع کردیا ۔ ( سورہ ابراہیم آیت۳۳)
یہ کائنات کی زیب و زینت ‘ رونق و بہار‘ شجر و حجر‘ جمادات و نباتات ‘ حیوانات حتیٰ کہ شمس و قمر سب انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ کائینات کی ہر شئی اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے بنائی ہے لیکن ہمیں پتہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے وسیع وعریض سینے میں ہمارے لئے کن خزانوں اور دفینوںکو پو شیدہ رکھا ہے تو ان سے استفادہ کسطرح ممکن ہوگا۔ ان تمام اشیاء کے فوائد و منافع سے ہم واقف ہی نہ ہوں تو خداکے احسانات و انعامات کی ناشکری متصورہوگی۔ساری دنیا میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے علم کو نہ صرف غیر معمولی اہمیت دی بلکہ اسکو فوق الکل قراردیا۔ قرآن مجید میں علم اپنی مختلف اشتقاقی معنی و مفہوم میں ۸۷۷ مرتبہ وارد ہوا اور جابجا  تعقلون‘ یتدبروں‘ تفقھوں‘ تشعرون کے ذریعہ دعوت علم و فکر دی۔ بالخصوص ان تمام مقامات میں علم کی دو جہتوں پر ہی روشنی ڈالی گئی (۱) وہ علم جو ذاتِ باری تعالیٰ کی صفت خاص ہے (۲) وہ علم جو مخلوق خصوصاً انسان کو عطا کیا گیا ہے۔خدا کی آیات و نشانیاں کائینات میں پھیلی ہوئی ہیں قرآن مجید میں ان کے مشاہدہ اور تجزیہ پر زور دیا گیا۔ بر و بحر ارض و سموات کے مطالعہ اور تحقیق کی باربار تاکید کی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قد فصلنا الایات لقوم یعلمون تحقیق کہ ہم نے نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کیا ہے ایسی قوم کے لئے جو علم رکھتی ہے۔ (سورہ انعام آیت۷۹) سنریھم آیاتنا فی الآفاق و فی انفسھم ہم عنقریب ان کو آفاق و نفس میں چھپی ہماری نشانیوں کا مشاہدہ کرائیں گے۔ ( سورہ حم السجدہ آیت۳۵)  افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت  کیا وہ غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اونٹ کو کس طرح پیدا کیا۔ اس طرح کئی آیتیں ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام نے دنیا میں غور و فکر‘ تدبر و تفکر کی دعوت دی اور تعلیمی مہم کو پیدا کیا۔

اللہ تعالیٰ کے نزدیک علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے حضرت آدم کی تخلیق کے ارادہ کا اظہار فرمایا تو انھوں نے استحقاق خلافت کے لئے اپنی عبادت‘ حمد و تسبیح کو پیش کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو علم سے نواز کر آپ کو مسجود ملائکہ بنایا‘ اس سے معلوم ہواکہ علم کو عبادت پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ عبادت بندے کی صفت ہے اور علم اللہ تعالیٰ کی صفت ذاتی ہے اورعبادت کا فائدہ صرف عبادت گزار کو حاصل ہوتا ہے لیکن علم کا فائدہ محدود نہیں بلکہ عام ہے۔ علم کی روشنی سے علم والے کا سینہ روشن ہوتا ہے اور اس کے چراغ علم سے ہزاروں دئیے  جلتے ہیں۔ اس بناء پر نبی اکرم ﷺ  نے فرمایا ’ ’علم عبادت سے افضل ہے‘‘۔ مزید یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کی رشد و ہدایت کے لئے اپنے آخری نبی مکرم حضرت محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث فرمایا تو آپ کی شان میں فرمایا یعلمھم الکتاب والحکمۃ ’’ وہ ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں‘‘۔ ( بقرہ آیت ۹۲۱)
علم اور حکمت دونوں چیزیں نظام تمدن یا کسی اور عمدہ نظام کی بنیاد رکھنے کے لئے ناگزیر ہیں۔ معاشرت‘ سیاست‘ ریاست حکمرانی کے لئے جہاں علم کا ہونا ضروری  ہے وہاں حکمت وتدبیر کا جاننا بھی ضروری ہے۔مسلمان تسخیر عالم کے قابل ہوئے اس لئے کہ انھوں نے علم کے ہتھیار کو اٹھایا اور مختلف صدیوں میں تاتاریوں کے حملہ کے مماثل متعدد ناگہانی مصیبتیں آئیں لیکن مسلمان قوم نے عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا اور اس علم کے ذریعہ پھر دنیا میں اپنے  وجود کو منوایا اور دنیا کو زیر نگیں کیا۔ لیکن حالیہ دور میں مسلمانوں کے عزم و ہمت میں جہاں پستی واقع ہوئی ہے اسی طرح ان میں فکری انحطاط بھی آیا ہے۔صدیاں بیت رہی ہیں‘ مسلمان ظلم و ستم کے شکار ہو رہے ہیں‘ شکست و ہزیمت سے دوچار ہورہے ہیں۔ ذلت و خواری کی زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن ان کے نظریات و افکار میں تبدیلی نہیں آرہی ہے۔علم سے متعلق قوم میں جو فکری انحطاط پایا جاتا ہے وہ نا گفتہ بہ ہے۔ علم دین کو اخروی علم کے نظریہ سے دیکھا جاتا ہے اور دنیوی علوم کو ضرورت اور معیشت کے اعتبار سے سونچا جاتا ہے۔ علم دین کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ضرور ہے لیکن خوشحال و آسودہ زندگی گزارنے کیلئے دنیوی علوم کو ترجیح دی جاتی ہے والدین اپنی اولاد کودینی تعلیم دینے سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی اولاد کا مستقبل تاریک ہوگا اور وہ معاشی مسائل سے دوچار ہونگے۔ اور بعض دنیوی علوم کے سیکھنے کو حقیر جانتے ہیں۔ دینی علم ہی اخروی سعادت کا ضامن سمجھنا راہبانہ تخیلات ہیں اور دنیوی علوم کو صرف دنیا کی ترقی میں ممد و معاون سمجھنا کوتاہ نظری ہے۔ حقیقت یہ ہے اسلام کے نظریہ علم میں کلیت ہے‘ دینی و دنیوی تمام علوم کے سیکھنے کی تلقین ہے۔ علم کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا‘ اسلام کی سربلندی‘ مخلوق خدا کے کام آنااور دنیوی و اخروی سعادتوں سے محظوظ ہونا ہے۔ جسطرح دینی علم فضل و بزرگی کا حامل ہے‘ اسی طرح دنیوی علم کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے۔ اگر کوئی شخص دنیوی علوم میں کمال حاصل کرتا ہے اس غرض سے کہ اس سے انسانیت کے کام آئے‘ مخلوق خدا کی رہبری کرے‘ اللہ تعالیٰ کے کنبہ کی نصرت و حمایت کرے اسلام کی سربلندی اور ملت اسلامیہ کی ضرورتوں کی تکمیل کرے تو یہ علم دین و دنیا میں کامیاب و کامرانی کا ضامن ہے۔

TOPPOPULARRECENT