Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / عصری ٹکنالوجی کے وعدے و دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

عصری ٹکنالوجی کے وعدے و دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

مفت وائی فائی کی خدمات مایوس کن ، سنہرا خواب تاریکی میں تبدیل
حیدرآباد۔5اگسٹ (سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے فوری بعد ریاست کو عصری ٹکنالوجی سے مربوط کرنے کے اقدامات کے وعدے اور دعوے کئے جانے لگے تھے لیکن بتدریج ان دعوؤں کی حقیقت عوام کے سامنے کھلنے لگی۔ شہر حیدرآباد اور سکندرآباد کے 3000مقامات پر وائی فائی خدمات کی فراہمی کے اعلانات نے شہریوں میں جو جذبہ پیدا کیا تھا وہ جذبہ کمزور وائی فائی سگنلس کی طرح ماند پڑ گیا اور اگر فوری ان خدمات کا آغاز عمل میں نہیں آتا تو ایسی صورت میں حکومت اور عوام کا یہ سگنل منقطع بھی ہو سکتا ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے ساتھ ہی دونوں شہروں کے سیاحتی مقامات پر مفت وائی فائی خدمات کے آغاز کا اعلان کیا گیا او ر اس اعلان کے ساتھ ہی ایک معروف موبائیل کمپنی نے مادھاپور ‘ ہائی ٹیک سٹی اور راہیجا مائنڈ اسپیس کے اطراف کے علاقوں میں حکومت کے تعاون سے مفت وائی فائی خدمات کا آغاز کر چکی تھی اور اس سلسلہ میں خود وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی نے افتتاح انجام دیا لیکن چند یوم بعد ہی ایک اور کمپنی نے آگے آتے ہوئے شہر کے مختلف مقامات پر وائی فائی خدمات کے آغاز کا اعلان کیا اور ان مقامات میں بس اسٹیشنوں اور سیاحتی مقامات کی فہرست جاری کی گئی لیکن اس عمل کی تکمیل سے قبل ہی ہندستانی سرکاری محکمۂ مواصلات کی جانب سے شہر کے چند سیاحتی مقامات پر مفت وائی فائی خدمات کا آغاز عمل میں لایا گیا لیکن ان خدمات کے آغاز کے ساتھ ہی چند یوم کے دوران خدمات انتہائی مایوس کن ہوتی چلی گئیں اور اب تو شہری ان خدمات سے استفادہ کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہیں۔ دونوں شہروں میں ابتدائی دور میں حسین ساگر اور چارمینار کے علاوہ چند ایک مقامات پر وائی فائی خدمات کا آغاز عمل میں لایا گیا تھا لیکن اب تو وزیر موصوف دونوں شہروں کو وائی فائی سے مربوط کرنے کے اقدامات کی بات کر رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ دونوں شہروں میں ہر مقام پر شہریوں کے لئے وائی فائی خدمات دستیاب رہیں گی۔ جس وقت چارمینار پر وائی خدمات کا آغاز عمل میں لایا گیا اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ شہری یومیہ نصف گھنٹہ مفت وائی فائی خدمات سے استفادہ کر سکیں گے اور کچھ دن تک ایسا ہوا بھی چارمینارکے دامن میں نوجوانوں نے وائی فائی کے استعمال کو معمول بنالیا اور سیاح بھی اس خدمات سے بھر پور استفادہ کرنے لگے تھے لیکن اب جب کبھی شہری وائی خدمات سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں یہ سہولت دستیاب نہیں رہتی جس کی وجہ سے شہریوں نے ان خدمات کوتلاش کرنا بھی ترک کر دیا ہے۔ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کی جانب سے کئے جانے والے اعلانات کے مطابق اب دونوں شہروں کے تمام علاقوں کو وائی فائی سے مربوط کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور دونوں شہروں میں سرکاری طور پر حکومت کی جانب سے 3000مقامات پر وائی فائی ہاٹ اسپاٹ کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی جس کے ذریعہ شہری مفت وائی فائی خدمات سے استفادہ کر سکیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں محکمۂ موصلات کے علاوہ خانگی کمپنیوں سے اشتراک کا منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے تاکہ بہتر خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کے مختلف محکمۂ جات میں تال میل بہتر ہوجائے اور عوام میں بڑھ رہے انفارمیشن ٹکنالوجی کے استعمال کے رجحان کو صحیح سمت فراہم کرتے ہوئے معیاری انٹرنیٹ سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جائے تو ایسی صورت میں کئی فائدے ہو سکتے ہیں لیکن بعض عہدیدار اس عمل کی سکیوریٹی بنیادوں پر مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے بموجب حکومت اور محکمۂ انفارمیشن ٹکنالوجی نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور دیگر محکمۂ جات کے تعاون و اشتراک سے 3000مقامات پر وائی فائی خدمات کے آغاز کا منصوبہ کو قطعیت دیدی ہے اور منصوبہ کے مطابق بہت جلد شہر کے مختلف مقامات پر نصف گھنٹہ مفت وائی فائی خدمات کا آغاز عمل میں آئے گالیکن ایک شہری ایک دن میں صرف 30 منٹ مفت سہولت سے استفادہ کر پائے گا اس کے علاوہ وائی فائی خدمات کے استعمال کیلئے آن لائن موجود پیاکیج خریدنے ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT