Thursday , August 17 2017
Home / دنیا / عصمت ریزی پر ملائیشیائی پولیس افسر کو 100 سال کی سزا

عصمت ریزی پر ملائیشیائی پولیس افسر کو 100 سال کی سزا

کوالالمپور۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ملائیشیا کے ایک اعلیٰ سطح کے پولیس افسر کو ایک 13 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی اور غیرفطری جنسی تعلقات قائم کرنے پر 15 بار لکڑی سے پیٹنے اور 100 سال کی سزائے قید سنائی گئی ہے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ روح عزت عبدل جو ایک سابق اینٹی وائس آفیسر ہے، کو 13 سالہ لڑکی کی چار بار عصمت ریزی اور غیرفطری جنسی تعلقات قائم کرنے کا مرتکب پایا گیا۔ یہ جرم کا اس نے اندرون دو دن ایک ہوٹل کے کمرے میں ارتکاب کیا تھا۔ دریں اثناء پبلک پراسیکیوٹر عزیزی نورالدین نے کہا کہ پولیس آفیسر کو خود کو ایک نمونہ بن کر پیش کئے جانے کی ضرورت تھی۔ وہ عوام کا محافظ ہوتا ہے ناکہ ان کو نقصان پہنچانے والا۔ پولیس آفیسر نے جرم کے ارتکاب کے وقت نہ لڑکی کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کی کم عمری کی پرواہ کی۔ آفیسر نے یہ تک نہیں سوچا کہ اس کی یہ گھناؤنی حرکت قانون کے منہ پر طمانچہ کے مترادف ہوگی۔ کچھ سزاؤں کا اطلاق بیک وقت ہوگا جبکہ تکنیکی طور پر مجرم کو 80 سال مکمل طور پر جیل میں گذارنے ہوں گے بشرطیکہ وہ اس وقت تک باحیات رہا۔ 54 سالہ مجرم اپنی بیوی کے ساتھ عدالت میں حاضر ہوا تھا جہاں سزائے قید کا فیصلہ سنایا گیا جس پر اس نے اس فیصلہ کو عدالت عالیہ میں چیلنج کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ فیصلہ سننے کے بعد میاں بیوی نے کسی بھی نوعیت کا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT