Sunday , September 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / عصمت ریزی کی شکار کمسن لڑکی بالآخر فوت

عصمت ریزی کی شکار کمسن لڑکی بالآخر فوت

نظام آباد میں کُل جماعتی قائدین کا احتجاجی دھرنا، ظالم نریش کو پھانسی دینے کا مطالبہ

نظام آباد:13؍ جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع نظام آباد کے بالکنڈہ حلقہ موضع بودے پلی میں 31؍ ڈسمبر کو عصمت ریزی کا شکار اور خودسوزی کرنے والی 13 سالہ کمسن لڑکی بالآخر جانبر نہ ہوسکی۔ واضح رہے کہ 31ڈسمبر کو 13سالہ کمسن لڑکی اپنی والدہ کی ہدایت پر ترکاری لانے کیلئے جارہی تھی کہ گھر کے قریب رہنے والے نریش نامی لڑکے نے گھر میں بلا کر ہاتھ اور پیر باندھ کر اس کی مبینہ عصمت ریزی کی۔ اس واقعہ کے بعد لڑکی نے اپنے گھر پہنچ کر کیروسین چھڑک کر آگ لگالی تھی اور تشویشناک حالت میں اسے نظام آباد سرکاری دواخانہ منتقل کیا گیاتھا۔ ڈاکٹروں نے اسے اپولو ہاسپٹل حیدرآباد منتقل کیا تھااور ضلع انتظامیہ کی جانب سے اس کا علاج کروایا جارہا تھا لیکن عصمت ریزی کا شکار ہونے والی یہ کمسن لڑکی کل رات انتقال کر گئی۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی نظام آباد میں کل رات سے ہی نریش کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع کانگریس کے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے صدر سمیر احمد نے دھرنا دیا ۔آج صبح جمعیت العلماء کے صدر حافظ لئیق خان نے بودے پلی کا دورہ کیا اور یہاں کے مسلمانوں سے ملاقات کی جو انتہائی خوف زدہ تھے جس پر انہوں نے نظام آباد پہنچ کر کل جماعتی قائدین کے ہمراہ بڑے پیمانے پر نہروپارک پر دھرنا دیا جس میں حافظ لئیق خان کے علاوہ ایم اے قدوس کانگریس فلورلیڈر، جمعیت العلماء کے سکریٹری حافظ عبدالحکیم، کل جماعتی قائدین میر مجاز علی سابق ڈپٹی مئیر، ضلع انڈین مسلم لیگ کے صدر ایم اے مقیت سابق کارپوریٹر، ملت ویلفیر سوسائٹی صدر مولانا کریم الدین کمال، نائب صدر ضلع وقف کمیٹی محمد ظہیر الدین جاوید، حلیم قمرٹی آرایس قائد،ناظم جمعیت اہلحدیث وجہہ اللہ، مولانا عبدالعلیم اشاعتی، حافظ اصغر،حافظ اکبر، مولانا عظمت کے علاوہ سینکڑوں افراد نے نہروپارک پر دھرنا دیا اور اس واقعہ کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے نریش کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

کوئی بھی اس طرح کے ظالمانہ حرکت کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند دنوں سے ضلع نظام آباد میں اس طرح کے واقعات بار بار رونما ہورہے ہیں۔ دوسال قبل موڑتاڑ منڈل کے ایرگٹلا میں بھی ایک مسلم لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی اور اس واقعہ کو ضلع کی عوام بھلا بھی نہیں پائی کہ بالکنڈہ منڈل کے بودے پلی میں دوسرا واقعہ پیش آیا۔ ضلع میں خواتین کے تحفظ کیلئے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ اطلاع کے ملتے ہی ڈی ایس پی نظام آباد مسٹر آنند کمارپولیس جمعیت کے ساتھ یہاں پہنچ کر احتجاجیوں سے بات چیت کی اور اس خصوص میں اقدامات کرنے ارادہ ظاہر کیا۔حافظ لئیق خان نے ڈی ایس پی کو تفصیلی یادداشت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں خواتین کی حکمرانی ہونے کے باوجود بھی خواتین کا  تحفظ کرنے میں ضلع انتظامیہ ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی کلکٹر خاتون ہیں ضلع کی رکن پارلیمنٹ، ضلع کی جج، مئیر نظام آباد کے علاوہ دیگر کئی اہم عہدوں پر خواتین فائز ہے لیکن اس کے باوجود بھی خواتین کا ضلع میں تحفظ نہیں ہورہا ہے۔ ایرگٹلا کے ملزمین کو بیل پر چھوڑنے کی وجہ سے غیر سماجی عناصر کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے یہ بھولی بھالی لڑکیوں کی عصمت ریزی کرنے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے ایرگٹلہ کے واقعہ میں ملوث افراد کی بیل کو فوری رد کرتے ہوئے دوبارہ جیل بھیجانے کا مطالبہ کیااور موضع بودے پلی کے واقعہ میں ملوث نریش کو کھلے عام پھانسی دینے کی خواہش کی دیگر کوئی بھی اس طرح کے واقعات رونمانہ ہوسکے۔ انہوں نے بودے پلی کے متاثرہ خاندان کی باز آبادکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے 10لاکھ روپئے ایکس گریشیاء اور خاندان میں ایک کوفرد کو ملازمت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ موضع بودے پلی میں عصمت ریزی کا شکار متوفی کی نعش کو ضلع انتظامیہ نے ایمبولنس کے ذریعہ بودے پلی لایا گیا ضلع انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 12 دن سے اپولو ہاسپٹل میں علاج کروایا گیااوردواخانہ کے اخراجات 8 لاکھ روپئے بھی ادا کئے گئے اس کے باوجود بھی لڑکی صحت مند نہ ہوسکی ۔آج بعد نماز مغرب لڑکی تدفین عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر نظام آباد شہر کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ آرمور سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT