Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / عصمت ریزی کے خاطیوں کو سزائے موت دلانے فڈ نویس کا تیقن

عصمت ریزی کے خاطیوں کو سزائے موت دلانے فڈ نویس کا تیقن

کمسن طالبہ کی عصمت ریزی واقعہ پرریاست بھر میں احتجاج کی لہر،اپوزیشن جماعتوں کا سیاہ پٹیوں کیساتھ احتجاج
ممبئی۔/19جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام )چیف منسٹر مہاراشٹرا مسٹر فڈنویس جنہیں ریاست میں پیش آئے کوپادری عصمت ریزی واقعہ کے بعد شدید تنقیدوں کا سامنا ہے ، نے آج اعلان کیا کہ خاطیوں کے خلاف سزائے موت کا مطالبہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اسمبلی میں آج بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایسے گھناؤنے واقعہ کے خلاف سزائے موت ہی خاطیوں کو صحیح پیغام دے گی۔ انہو ں نے کہا کہ ریاستی حکومت عدالت سے مطالبہ کرے گی کہ وہ خاطیوں کو سزائے موت دے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ خاطی کسی بھی طرح اس معاملہ میں بچ نہ پائیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ وحشت ناک عصمت ریزی واقعہ کے بعد پوری ریاست دہل کر رہ گئی ہے جہاں سیاسی، سماجی اور مقامی تنظیموں کی جانب سے اس بے رحمانہ اور ظالمانہ حرکت کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے۔ قبل ازیں مہاراشٹرا کے ضلع احمد نگر میں پیش آیا کوپادری عصمت ریزی واقعہ آج ریاستی اسمبلی میں مرکزی موضوع بنا رہا جہاں اپوزیشن جماعتوں نے اس گھناؤنی حرکت کے خلاف بطور احتجاج سیاہ پٹیاں لگاکر اسمبلی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس طرح آج دوسرے دن بھی اسمبلی کا کام کاج متاثر رہا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتہ ایک 15سالہ لڑکی کو تین افراد نے اسوقت اپنی شدید حیوانیت کا شکار بنایا تھا جب وہ اپنے دادا سے ملاقات کرنے کے بعد واپس اپنے گھر لوٹ رہی تھی۔ آج جیسے ہی مانسون اجلاس کا آغاز ہوا اپوزیشن جماعتیں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ارکان سیاہ پٹیاں لگاتے ہوئے دیگر مسائل کو علحدہ رکھتے ہوئے اس مسئلہ پر ہی مباحث کا مطالبہ کرنے لگے۔ چیف منسٹر دیویندر فڈ نویس نے بھی کہا کہ تکنیکی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے جتنا جلد ممکن ہوسکے اس مسئلہ پر مباحث ہونے چاہیئے۔ سابق اسپیکر اسمبلی دلیپ ولسے پاٹل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دہشت ناک حادثہ کے بعد لڑکیاں اس قدر خوفزدہ ہوگئی ہیں کہ انہوں نے اسکول جانا ہی چھوڑ دیا ہے۔ ایک کانگریسی لیڈر نے ودھان سبھا کے باہر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسپیکر اسمبلی ہریبھان بھاگڑے نے اس موضوع پر بحث کی اجازت نہیں دی تو ان کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کیا جائے گا۔علاقہ کوپاردی میں پولیس کو تعینات کردیا گیا ہے جہاں لوگوں میںاس گھناؤنی حرکت کے بعد شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ لوگوں نے اس واقعہ کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج شروع کردیا ہے اور تمام سڑکوں کو بند کرتے ہوئے خاطی افراد کی جلد سے جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ شرمناک واقعہ 13جولائی کو اس وقت پیش آیا جب مذکورہ لڑکی اپنے داد ا سے ملاقات کے بعد واپس گھر لوٹ رہی تھی جسے تین بدمعاشوں نے اس کی عصمت ریزی کی اور گلا گھوٹ کر قتل کردیا۔مذکورہ لڑکی جو نویں جماعت کی طالبہ تھی کے دونوں ہاتھ ٹوٹے ہوئے پائے گئے جبکہ بال نوچے ہوئے تھے اور دانت بھی ٹوٹا ہوا پایا گیا۔دریں اثناء اس گھناؤنی واقعہ کے خلاف لاتور میں شدید احتجاج کے بعد بسو ں کو جلادینے کے واقعات درج کئے گئے ہیں۔ ضلعی پولیس کے مطابق سماجی تنظیم کے چند ارکان اور ان کے حامیوں نے مبینہ طور پر لاتور میں مذکورہ واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بسوں کو نذر آتش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد3 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کوپادری عصمت ریزی واقعہ کے خلاف لاتور ضلع میں بھی آج مختلف سماجی تنظیموں نے ضلع میں بند کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یہ احتجاج پُرتشدد شکل اختیار کرگیا۔ پولیس عہدیدار سدھاکر بھاؤکر کے مطابق مظاہرین نے بس روک کر کنڈکٹر اور پاسنجرس کو بس سے نیچے اُتار دیا اور پھر بس کو نذر آتش کردیا جس کی وجہ سے یہ بس مکمل طور پر خاکستر ہوگئی۔بھاؤکر نے مزید کہا کہ علاقہ میں پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے جبکہ بڑی قومی شاہراہوں پر بھی سیکورٹی چوکسی بڑھا دی گئی ہے تاکہ مزید کسی ناگہانی حادثات کو ٹالا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT