Friday , August 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / عظمت نعت مصطفیؐ کتاب و سنت کی روشنی میں

عظمت نعت مصطفیؐ کتاب و سنت کی روشنی میں

مرسلہ : حبیب مصطفی بن حسن العیدروس
اس مبارک ہستی کی نعت کا ذکر ہے جن کی تعریف و توصیف ہر زمانے میں ہوتی رہی اور ہورہی ہے اور ہوتی رہے گی ۔ رب تبارک و تعالیٰ نے ان کا نام ہی محمد(ﷺ) رکھ دیا ، جس کے معنی ہیں ’’ جس کی بار بار تعریف کی جائے ‘‘ ۔ لفظی و معنوی اعتبار سے کسی مخلوق کا ایسا پیارا نام نہیں ۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ایک شعر کا مفہوم ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کے لئے آپ کا نام اپنے نام سے مشتق کیا ، عرش والا محمود ہے اور یہ محمد(ﷺ) ہیں ‘‘ ۔
نعت و ادب شعری کی ایک مستقل صنف ہے ۔ نعت مدح و وصف کے مرادف ہے ، لیکن نعت اور وصف میں ایک نازک فرق ہے ۔ نعت کا اطلاق ان ہی اوصاف کے بیان پر ہوتا ہے جو قابل مدح ہو اور وصف کا اطلاق حسن کے علاوہ قج پر بھی ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے اصطلاح میں حضور سرورکائناتﷺ کی مدح سے متعلق صنف شعری کا نام ’’ نعت ‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے ۔قدیم ادب میں لفظ ’’ نعت ‘‘ کا استعمال حلفیہ و سراپا و حسن صورت کے لئے محضوص تھا ، خواہ وہ نثر میں ہو یا نظم میں اور لفظ ’’صفت ‘‘ کا اطلاع عام اوصاف پر ہوا کرتا تھا ، چنانچہ یہود کے معتبر عالم سلام بن مشکم سے مروی ہے کہ ’’آنحضرتﷺ کی بعثت سے پہلے مدینہ کے یہود بنو قریظہ و بنو نضیر جب مشرکین عرب اسد و عظفان و جہینہ وغیرہ قبائل سے جنگ کرتے تھے تو یہ یہودی حضورﷺ کے وسیلہ سے یہ دعاء کرتے تھے کہ ’’ اے اللہ ! اس نبی کے واسطے سے ہماری مدد فرما جو آخر زمانہ میں مبعوث ہوں گے ، جن کی نعت اور صفت ہم توریت میں پاتے ہیں تو (ان کی برکت سے) یہودی فتح یاب ہوتے تھے ‘‘ ۔
یہود و نصاریٰ آپ کی بعثت سے پہلے ہی آپ کے اوصاف سے اچھی طرح واقف تھے ، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ’’ وہ نبی جن کے اوصاف یہ لوگ توریت و انجیل میں لکھے ہوئے پاتے ہیں ‘‘ ۔ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسی سراپا وحلیہ کے معنی میں کلمہ نعت سے مشتق اسم فاعل ’’ناعت ‘‘ کا لفظ اس روایت میں استعمال فرمایا ہے کہ ’’ آپﷺ کا وصف بیان کرنے والا یہ کہہ پڑتا ہے کہ میں نے آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد آپ کے مثل کسی کو نہیں دیکھا ‘‘ ۔
علامہ شیخ مجدالدین بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے حضورﷺ کے کمالات خلفی و خلقی دونوں کا احاطہ کرنے کے لئے اپنے شعر میں نعت و صفت دونوں کلمات کا استعمال کیا ، یعنی ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توریت میں آپ کی نعت اور آپ کے صفات ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کی انجیل بھی آپ کے اوصاف عمدگی سے بیان کرتی ہے ‘‘ ۔
پھر اردو ادب میں لفظ ’’ نعت ‘‘ کا استعمال مطلق سیدالمرسلین و خاتم النبیینﷺ کی تعریف کے لئے مخصوص کردیا گیا ، خواہ اس تعریف کا تعلق آپ کے کمالات ظاہری سے ہو یا باطنی سے ، غیر نبی پر اس کا اطلاق نہیں کیا جاتا تاکہ مدح خیرالبشرﷺ اور دوسرے امراء و بادشاہوں کی تعریف میں فرق و امتیاز ہوجائے اور یہ اصطلاح درحقیقت فارسی ادب سے اخذ کی گئی ہے ۔ زبان فارسی کے شاعر عرفی کے اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ اس راہ میں بڑے احتیاط کی ضرورت ہے ۔ نعت میں ایسے کلمات کا استعمال جو معمولی تخفیف کا بھی وہم رکھتے ہوں ، ایمان کی تباہی کا باعث ہوسکتے ہیں ، جیسا لفظ ’’ راعنا ‘‘ (ہماری رعایت کیجئے) عربی کا ایک فصیح لفظ تھا ، لیکن مخالفین جب اس کے غلط معنی لینے لگے تو رب تبارک و تعالیٰ نے اس لفظ کو ترک کرنے کا حکم دیا ۔
سب سے پہلے حضور نبی کریمؐ کی نعت خود خالق کائینات نے بیان فرمائی ۔ اس عالم کے وجود سے پہلے روز میثاق کے دن سارے انبیاء کو جمع کرکے آپ کی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے آپ پر ایمان لانے کا عہد لیا ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں جن بے شمار اوصاف کو بیان فرمایا ، ان میں چند یہ ہیں ۔ ’’ تمہارے پاس اللہ کی جانب سے نور اور روشن کتاب آئی ‘‘ ۔ ’’ اے نبی ! ہم نے آپ کو شاہد (گواہ) اور خوش خبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا اور اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور چمکتا آفتاب بنایا ‘‘ ۔ ’’ نہیں بھیجا ہم نے مگر سارے عالم کے لئے رحمت بناکر ‘‘ اور فرمایا ’’ہم نے آپ کے لئے آپ کے ذکر کو بلند کیا ‘‘ ۔
حقیقت کی نگاہوں سے دیکھا جائے تو سارا کلام الہٰی نعت مصطفیﷺ کا ایک بے مثال حسین مجموعہ ہے ۔ ایک سائل کے سوال پر حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ’’ آپ کا اخلاق قرآن ہے ‘‘ ۔ وہ ذات جو سارے عالمین کے لئے رحمت ہو اور سراج منیر ہو ، یقیناً اس کے پروانوں کی تعداد کا کسی زمانے میں اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔ اس ذات کے ظاہری وجود سے پہلے ہی اصطلاحی نعت کا سلسلہ جاری ہوچکا تھا ، چنانچہ حضور نبی کریمﷺ کی بعثت سے کئی برس پہلے حضرموت کے بادشاہ ابوکرب (جسے تبع ثانی کہا جاتا ہے) نے حضورﷺ کی بعثت اور آپ کی عظمت کو سن کر آپ کا غائبانہ عاشق ہوگیا اور اس امید میں مدینہ منورہ کو اپنا مسکن بنا لیا کہ شاید میری عمر وفا کر جائے اور مجھے آپ کے دیدار کا شرف مل جائے اور آپ کی نعت میں چند قطعات کہے ۔
اسی طرح تاریخ و سیر کے صفات میں ہمیں کعب بن لوی اور قیس بن نشبہ اور حضوراکرمﷺ کی رضاعی بہن حضرت شیما رضی اللہ عنہا اور ورقہ بن نوفل کی نعتیں ملتی ہیں ، جو بعثت شریف سے قبل کہی گئیں ۔ ان میں ورقہ بن نوفل کے قصیدے کو پہلا باقاعدہ نعتیہ قصیدہ شمار کیا گیا ہے ۔
نعت کا ابتدائی سرمایہ جس میں براہ راست نبی کریمؐ کی نعت یا مدح کی گئی ہو ، وہ آنحضرتﷺ کے چچا حضرت ابوطالب کی کہی ہوئی نعتیں ہیں ، جن کو ابن ہشام نے ’’ سیرۃ النبی ‘‘ میں ذکر کیا ہے ۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں قحط سالی کے زمانے میں حضوراکرمﷺ کی دعاء کے فوراً بعد جب پانی برسنے لگا تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’ اگر ابو طالب یہ دن دیکھتے تو بہت خوش ہوتے ‘‘ ۔ ایک صحابی نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ! شاید آپ کا اشارہ ان کے اس شعر کی طرف ہے ‘‘ تو آپ نے فرمایا ’’ بے شک ‘‘ ۔ (سیرۃ ابن ہشام)
جب کفار مکہ اپنی تلواروں اور اپنے ہجویہ قصائد کے ذریعہ اسلام کے بڑھتے ہوئے وقار کو ختم کرنے کی کوشش کررہے تھے تو یہ ضروری سمجھا گیا کہ اسلام کی عظمت کے تحفظ کے لئے شعر کو بھی ایک ذریعہ بنایا جائے اور مشرکین کا منہ توڑ جواب دیا جائے ، چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضورؐ سے دریافت کیا کہ ’’ شعر کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ‘‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’ مؤمن اپنی تلوار اپنی زبان سے جہاد کرتا ہے ‘‘ یعنی شعر کو جہاد لسانی قرار دیا گیا ۔ پھر مزید رسولؐ اللہ کا یہ ارشاد بخاری کی روایت کے مطابق کہ ’’ یقیناً بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں ‘‘ ۔ صحابہ کرام کو اسلام کی عظمت اور نبی کی مدحت میں کثرت سے اشعار کہنے کا موقع فراہم کیا ۔ یوں تو صحابہ کرام میں کثرت سے شعراء تھے ، جیسا کہ ایک مقالہ میں تین سو سے زائد شعراء کے اشعار کو جمع کیا گیا ہے ، لیکن تین صحابہ کرام ایسے تھے جو ’’ شعراء الرسول ‘‘ کے لقب سے ملقب تھے ، وہ ہیں حضرت حسان بن ثابت ، حضرت کعب بن مالک اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم ۔
جب شعراء کی مذمت میں یہ آیات اتریں کہ ’’ شعراء کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں ، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں رہتے ہیں اور وہ لوگ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ‘‘ تو مذکورہ تینوں صحابہ کرام حضورﷺ کے پاس روتے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں اور وہ بہتر جانتا ہے کہ ہم شعراء ہیں ‘‘ تو نبی کریمﷺ نے ان آیات سے متصل اس آیت کی تلاوت فرمائی ، جس میں ان شعراء کو مستثنی کردیا گیا ، جو اپنے شعر کا ایک صالح مقصد رکھتے ہیں۔ حضورﷺ اس آیت کی تلاوت اس انداز سے کرکے ان کی دلجوئی فرمائی ’’ مگر وہ لوگ مستثنیٰ ہیں) جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ‘‘ ۔ آپ نے فرمایا ’’ وہ تم ہیں ‘‘۔اس روایت سے تینوں صحابہ کرام کی شاعرانہ عظمت کا پتہ چلتا ہے ، پھر ان میں خصوصاً حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو سارے صحابہ شعراء بلکہ سارے عالم کے نعت خوانوں کی سیادت کا شرف حاصل ہے ۔ جن کے لئے مسجد نبوی میں منبر رکھا جاتا ، جس پر وہ کھڑے ہوکر کافروں کی ہجو اور حضور نبی کریمﷺ  کی مدح فرماتے ، جیسا کہ مسلم شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے حضرت حسان کو یہ کہتے ہوئے سنا ’’بے شک روح القدس (حضرت جبرئیل علیہ السلام) تمہاری مدد کرتے رہیں گے جب تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے مدافعت کرتے رہوگے ‘‘ ۔ حضرت حسان بن ثابت صاحب دیوان شاعر ہیں ۔ ان کے دیوان کا پہلا قصیدہ جو فتح مکہ سے پہلے انہوں نے کہا تھا ، اس کے دو شعر تو ایسے ہیں جن کی بناء پر حضورﷺ نے دو مرتبہ جنتی ہونے کی بشارت دی ۔ اس روایت سے نعت شریف کی غیرمعمولی اہمیت و عظمت کا پتہ چلتا ہے ۔ سیرت ابن ہشام وغیرہ کتب میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے کثرت سے قصائد ملتے ہیں ۔ مذکورہ تینوں صحابہ کے علاوہ حضرت کعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کا قصیدہ ’’بانت سعاد ‘‘ نعت نبی کا ایک شاہکار ہے ، جسے حضرت کعب بن زہیر نے اسلام لانے کے موقع پر پڑھا تھا ، تو حضوراکرمﷺ نے اپنی چادر مبارک اتار کر حضرت کعب کو دے دی۔ اسی طرح حضرت کعب بن زہیر کا قصیدہ سب سے پہلا ’’ قصیدہ بردہ ‘‘ ہے ۔ اسی طرح کا واقعہ آٹھویں صدی ہجری میں حضرت شرف الدین بوصیری رحمتہ اللہ علیہ کے خواب میں بھی پیش آیا تھا ، اسی لئے آپ کے قصیدے کو بھی ’’قصیدہ بردہ ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
ان روایات سے نعت کی اہمیت اور اللہ کے رسولﷺ کے ہاں نعت خوانوں کی قدر دانی کا پتہ چلتا ہے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ ردائے نبیﷺ کی عظمت کے پیشِ نظر حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ان کی اولاد سے چالیس ہزار درہم میں خرید لیا تھا ، جو سلسلہ بہ سلسلہ خلافت عثمانیہ تک پہنچی ۔
اہلِ مدینہ کے نعتیہ ذوق کی سب سے بڑی دلیل تو یہ ہے کہ اہلِ مدینہ نے آنحضرتﷺ کی آمد پر ان پیارے نغموں سے آپ کا استقبال کیا …
طلع البدر علینا
من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا
مادعا للہ داع
یعنی ’’ بدر کامل ہم پر وداع کی گھاٹیوں سے طلوع ہوا ، بے شک اللہ کی طرف دینے والا دعوت دے ، اس کا ہم پر شکر واجب ہے ‘‘ ۔
طوالت کے خوف سے صحابہ کرام کے عمدہ عمدہ اشعار ذکر نہیں کئے جاسکے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر سارے درخت قلم بن جائیں تو پھر بھی اس موضوع کا حق ادا نہیں ہوسکتا اور آپ کی حقیقی تعریف اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی نہیں کرسکتا ۔ آخر میں ایک شاعر کے قول کے مطابق یہ ناچیز یہی کہے گا …
ما ان مدحت محمدا بمقالتی
لکن مدحت مقالتی بمحمدا
یعنی ’’ اپنے مقالہ سے حضرت سیدنا محمدﷺ کی تعریف نہ کرسکا ، لیکن آپ کی تعریف کے ذریعہ میں نے اپنے مقالہ کو قابل تعریف بنا لیا ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT