Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / عظیم باکسر محمد علی کلے کا انتقال

عظیم باکسر محمد علی کلے کا انتقال

واشنگٹن 4 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنے وقت کے عظیم اور افسانوی شخصیت محمد علی کلے کا آج انتقال ہوگیا ۔ ان کی عمر 74 برس تھی ۔ محمد علی دنیا بھر کی مقبول ترین شخصیتوں میں شمار کئے جاتے تھے ۔ محمد علی گذشتہ 32 سال سے پارکنسن بیماری کا شکار تھے ۔ ان کی تدفین آبائی شہر لوئی ولے میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ محمد علی کو 2 جون کو تنفس کی شکایت پر دواخانہ میں شریک کیا گیا تھا ۔ دواخانہ میں شریک کرنے کے بعد ان کی حالت میں بہتری آگئی تھی ۔ تاہم بعد میں دوبارہ صحت بگڑ گئی اور پھر وہ واپسی نہیںکرسکے ۔

 

 

محمد علی کے انتقال سے باکسنگ کے ایک یادگار عہد کا اختتام
شہرۂ آفاق باکسر ، راسخ العقیدہ مسلمان ، انصاف و مساوات کے علمبردار تھے ، ویتنام جنگ میں حصہ لینے سے انکار اور قبولیت اسلام پر سخت مشکلات کے باوجود ثابت قدمی کا مظاہرہ

لاس اینجلس ۔4 جون (سیاست ڈاٹ کام) افسانوی ہیوی ویٹ باکسنگ چمپین محمد علی کا جمعہ کو امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس کے ایک دواخانہ میں انتقال ہوگیا۔ 74 سالہ محمد علی کو اس ہفتہ تنفس کے عارضہ کے سبب ہسپتال میں شریک کیا گیا تھا۔ گزشتہ 32 سال سے پارکنسن (رعشہ) عارضہ سے متاثر تھے۔ ان کے پسماندگان میں چوتھی بیوی کے علاوہ 9 بچے شامل ہیں۔ ان کی سب سے بڑی دختر لیلی علی بھی اپنے والد کی طرح عالمی باکسنگ چمپین رہ چکی ہیں۔ محمد علی 20 ویں صدی کی ایک شہرہ آفاق شخصیت ہیں، بحیثیت باکسر تین دہائیوں پر مشتمل ان کے کیریئر اور عالمی شہرت نے اسپورٹس کے شعبہ میں باکسنگ کو دنیا بھر میں غیرمعمولی مقبول و معروف بنادیا۔ شائقین کے محبوب باکسر تین مرتبہ عالمی ہیوی ویٹ چمپین رہے۔ ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں جمعہ کی صبح تشویش میں زبردست اضافہ ہوگیا تھا اور جیسے ہی انتقال کی اطلاع عام ہوئی، تعزیت اور خراج عقیدت پر مبنی پیامات کا تانتا بندھ گیا۔ محمد علی نہ صرف باکسنگ رنگ میں اپنے فن اور خداداد صلاحیتوں کے سبب بلکہ اپنے منفرد مزاج، انسانیت کی خدمات کیلئے بھی دنیا بھر میں بے پناہ شہرت و مقبولیت حاصل کی تھی۔ محمد علی کو تین دہائیوں پر محیط پُرخطر اور جان لیوا کیریئر کے دوران سر پر کئی مرتبہ طاقتور گھونسے لگنے کے سبب پارکنسن کا عارضہ لاحق ہوگیا تھا جس کے ساتھ ہی نہ صرف ان کا تابناک کیریئر ختم ہوگیا بلکہ قوت گویائی میں بھی کمی ہوئی تھی۔ انسان کو بوسیدہ کردینا والا یہ مرض محمد علی کے حوصلوں کو متزلزل نہیں کرسکا۔ حالیہ عرصہ تک سرگرم رہتے ہوئے کئی اہم تقاریب میں شرکت اور اظہار خیال کا سلسلہ جاری رکھا اور اہم موضوعات پر اپنے ارکان خاندان یا ترجمانوں کے ذریعہ اپنی رائے کا اظہار کیا کرتے تھے۔

 

اپریل میں انہوں نے پارکنسن کے علاج کیلئے فینکس میںمنعقدہ ایک فنڈ ریزنگ ڈنر ’’سیلبریٹی فائٹ نائٹ ڈنر‘‘ میں شرکت کی تھی۔ محمد علی نے ڈسمبر میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے ری پبلیکن پارٹی کے امکانی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی مذمت کی تھی جب ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر امتناع عائد کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ باکسنگ کے پروموٹر باب آروم نے افسانوی باکسر کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’محمد علی نے اپنے جذبہ سے اس ملک میں ایک نمایاں تبدیلی لائی اور ساری دنیا پر اپنا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ ان کی وراثت ہماری تاریخ کا اٹوٹ حصہ رہے گی‘‘۔ محمد علی نے 1960ء تا 1981ء اپنے باکسنگ کیریئر کئی خوفناک مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں جن میں 1974ء کے دوران زائرے کے صدر مقام کنشاسا میں جارج فورمین کے خلاف تاریخی ’’رمبل ان جنگل‘‘ بھی شامل ہے۔ سوزلسٹن کے ساتھ دو یادگار مقابلے اور جو فریزر سے ان کی خطرناک رقابت بھی اس تاریخی کیریئر کے اہم واقعات ہیں۔ محمد علی اور فریزر نے باکسنگ رنگ میں ایک دوسرے کے خلاف جان لیوا گھونسوں کے ساتھ تلخ الفاظ کا تبادلہ بھی کیا تھا۔ جارج فورمین نے اپنے دیرینہ حریف اور رفیق سمجھے جانے والے محمد علی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’علی، فریزر اور فورمین دراصل ایک ہی شخص ہیں۔ میرا ایک حصہ آج جدا ہوگیا جو ایک عظیم ترین حصہ تھا۔ سابق ہیوی ویٹ چمپین مائیک ٹائسن نے بھی محمد علی کو عظیم ترین باکسر قرار دیا۔ محمد علی 17 جنوری 1942ء کو امریکی ریاست کنٹکی کے لوئی ویل میں پیدا ہوئے تھے جن کا پیدائشی نام کاسیوس مارسیلس کلے جونیر تھا اور بچپن سے ہی انہیں باکسنگ سے دلچسپی تھی اور مزاج میں بذلہ سنجی ، طنز و مزاج تھا جس کے نتیجہ میں نو عمری میں ہی وہ سب کے مرکز توجہ بن گئے تھے، لیکن اصولوں کے معاملے میں بہت سخت تھے۔ محمد علی نے نسلی تعصب اور عدم مساوات کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اسلام قبول کرلیا ۔ 1960ء کی دہائی میں ویتنام جنگ میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ 1990ء میں کویت کی آزادی کے لئے امریکی زیرقیادت خلیجی جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے محمد علی نے عراق کا دورہ کیا اور اس وقت کے صدر صدام سے نہ صرف خیرسگالی کا مظاہرہ کیا بلکہ جوابی خیرسگالی کے طور پر 15 امریکی یرغمالیوں کو رہا کرواتے ہوئے انہیں امریکہ واپس لائے تھے۔ وہ اپنے خطرناک پیشہ اور حقیقت پسندانہ مزاج کی بھاری قیمت بھی چکاتے رہے ہیں۔

 

باکسنگ رنگ میں حریفوں کے تباہ کن گھونسوں کے سبب انہیں پارکنسن کا عارضہ لاحق ہوا تھا۔ 1964ء میں اسلام قبول کرتے ہوئے سیاہ فام امریکیوں کی تنظیم نیشن آف اسلام سے وابستگی کے اعلان کے ساتھ انہوں نے نہ صرف باکسنگ کی دنیا بلکہ سارے امریکہ کو چونکا دیا تھا۔ محمد علی جو اپنی نوجوانی میں مقابلوں سے آغاز سے قبل باکسنگ رنگ کے باہر بیٹھے انجیل پڑھا کرتے تھے، اور مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد وہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے تھے جو ان کے حریفوں اور چند دوسروں کیلئے ناگوار تھا۔ چنانچہ انہیں کئی مشکلات میں مبتلا کیا گیا جس کے باوجود وہ ثابت قدم رہے۔ 1971ء میں ویتنام کے خلاف امریکی جنگ کے دوران امریکی فوج میں شمولیت سے انکار کردیا تھا جس کی سزا کے طور پر ان کی باکسنگ پر امتناع عائد کردیا گیا تھا جو کئی سال تک برقرار رہا۔ اسلام سے ان کی وابستگی، سیاہ فام امریکیوں کی تائید، انسانی حقوق کیلئے جدوجہد کے سبب اگرچہ ان کے کئی دشمن بنے اور سفید فام امریکیوں میں ناراضگی بھی پیدا ہوئی لیکن دوسری طرف ان کی مقبولیت میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔ محمد علی کو ان کے فن اور خدمات پر انہیں کئی اعزازات حاصل ہوئے۔ 1996ء میں منعقدہ اٹلانٹا اولمپک کے موقع پر انہیں اولمپک شمع روشن کرنے کیلئے منتخب کیا گیا۔ 1998ء میں محمد علی کو اقوام متحدہ کا ’’پیامبر امن‘‘ قرار دیا گیا۔ 2005ء میں اس افسانوی شخصیت کو امریکہ کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’صدارتی تمغہ برائے آزادی‘ بھی دیا گیا۔

پارکنسن نے ایک تابناک کیریئر
طاقتور جسم اور گرجدار آواز کو ختم کردیا
6 فٹ 3 انچ قد اور 210 پاؤنڈ وزن کے محمد علی اپنے دور میں باکسنگ رنگ پر چھائے رہتے تھے۔ وہ اور ان کے مداح اکثر کہا کرتے تھے کہ ’تتلی کی طرح اُڑ اور مدھو مکھی کی طرح ڈس، اور انہوں نے یہ کردکھایا۔ محمد علی باکسنگ رنگ میں اپنی سخت گیری اور پھرتی کے سبب حریفوں پر اُڑ اُڑ کر حملے کیا کرتے تھے اور ان کا ہر ایک طاقتور گھونسہ حریف کو ڈسنے کے مترادف ہوا کرتا تھا لیکن حریفوں کے گھونسوں کے سبب پارکنسن عارضہ لاحق ہوگیا۔ اس بے رحم بیماری نے اس عظیم باکسر کا شاندار کیریئر ختم کردیا اور اس کے ساتھ ان کا جسم بوسیدہ ہوگیا اور گرجدار آواز بھی خاموش ہوگئی۔

محمد علی کون تھے
وہ ہاتھ پاؤں اور منہ چلانے میں بہت تیز و طرار تھا ۔ ایک ہیوی ویٹ چمپین جس نے دنیا کو چونکا دینے کا وعدہ کیا تھا اور پورا کر دکھایا۔ باکسنگ رنگ میں وہ اُڑتا رہا اور ڈستا رہا۔ بہتوں کو اس نے محظوظ کیا۔ گھونسے رسیدی ترک کرنے کے بعد بھی حریفوں کو حملوں کا نشانہ بناتا رہا۔ ناانصافیوں کے خلاف بدستور اپنی آواز اٹھاتا رہا حالانکہ اس کی صدائیں سرگوشیوں سے بمشکل ہی کچھ بلند ہوسکتی تھی۔ وہ عظیم ترین تھا۔ اس کا نام ہے محمد علی جس کا جمعہ کو انتقال ہوگیا۔

 

 

TOPPOPULARRECENT