Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / عظیم تر حیدرآباد کے بلدی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز

عظیم تر حیدرآباد کے بلدی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز

کمشنر کی جانب سے 150 حلقہ جات کی ازسرنو حد بندی کیلئے اعلامیہ کی اجرائی
حیدرآباد ۔ 29اکٹوبر ( سیاست نیوز) بلدی انتخابات کے انعقاد کی تیاریوں کا عملاً آغاز ہوچکا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے بلدی حدود میں موجود 150 بلدی حلقہ جات کی ازسرنو حدبندی کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اعتراضات وصول کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے اور عوام کو سات دن کی مہلت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی تجاویز و اعتراض داخل کرسکے ۔ 28اکٹوبر 2015ء کو کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر سومیش کمار کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ نمبر 2003/Elecs/GHMC/2015 میں 150 بلدی ڈیویژنس کے حدود کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں تاکہ  عوام و سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران اس اعلامیہ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے تجاویز اور اعتراضات داخل کرسکیں ۔ حکومت نے ابتداء میں جی ایچ ایم سی حدود میں موجود بلدی ڈیویژن کی تعداد میں اضافہ کا منصوبہ تیار کیا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر اس منصوبہ سے دستبرداری  اختیار کرتے ہوئے موجودہ بلدی حلقہ جات کی ازسرنو حدبندی کرتے ہوئے انتخابات منعقد کروانے کا ذہن تیار کرلیا ہے ۔ جی ایس ایم سی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی اعلامیہ میں 150بلدی حلقہ جات کی مکمل تفصیل فراہم کی گئی ہے لیکن اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ حلقوں کو محفوظ کس طرح سے کیا جائے گا اور کونسے حلقے محفوظ قرار دیئے جائیں گے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی ویب سائیٹ پر موجود اعلامیہ میں تمام 150 حلقہ جات کی حدبندی کی تفصیل فراہم کردی گئی ہے جس پر اگر کسی کو اعتراض ہوں تو وہ اپنے اعتراضات یا تجاویز اندرون 7یوم داخل کرسکتا ہے ۔ اعلامیہ کی اشاعت کے اندرون 7یوم اعتراضات و تجاویز  داخل کرنے کی مہلت مختلف تنظیموں کی جانب سے ناکافی قرار دی جارہی ہے لیکن بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ مدت کافی ہے ‘ قطعی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل جاری کردہ اس اعلامیہ میں مختلف حلقہ جات کو نئے طرز سے تقسیم کرتے ہوئے رائے دہندوں کی تعداد میں یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے چونکہ سابق بلدی حلقہ جات میں یہ مسئلہ اٹھایا جارہا تھا کہ بعض حلقوں میں رائے دہندوںکی تعداد کافی زیادہ تھی جب کہ بعض حلقہ بالکلیہ طور پر قلیل رائے دہندوں کے بنے ہوئے تھے ۔ رائے دہندوں کی تعداد میں یکسانیت پیدا کرنے کی غرض سے کی گئی اس از سرنو حد بندی کی تفصیلات جی ایچ ایم سی کی ویب سائیٹ سے حاصل کی جاسکتی ہے اور تمام حلقہ جات کے حدود کے تعین کا جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ازسرنو کی گئی حدبندی پر اعتراض شروع ہوچکا ہے اور توقع ہے کہ اندرون 7یوم اپوزیشن جماعتیں اس سلسلہ میں اپنے اعتراضات اور تجاویز بلدیہ میں داخل کریں گے ۔ ان اعتراضات و تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے 150بلدی حلقہ جات کی حدبندی کا قطعی اعلامیہ جاری کیا جائے گا جن پر آئندہ بلدی انتخابات کا انعقاد ہونے کی توقع ہے۔

TOPPOPULARRECENT