Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / عظیم تر قومی اتحاد کی تلاش

عظیم تر قومی اتحاد کی تلاش

موت آگئی نہ ہو مرے ذوقِ اُمید کو
محرومیوں میں کیف سا پانے لگا ہوں میں
عظیم تر قومی اتحاد کی تلاش
جنتادل یو کے صدر و چیف منسٹر بہار نتیش کمار کی کانگریس صدرسونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ قومی سطح پر عظیم ترین سیاسی اتحاد کی تشکیل کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ سب سے پہلے اس ضرورت کو بہار میں کانگریس ‘ جے ڈی یو اور آر جے ڈی نے محسوس کیا تھا ۔ بہار اسمبلی انتخابات میں اس اتحاد کو عملی شکل دیتے ہوئے متحدہ طور پر بی جے پی کا مقابلہ کیا گیا تو وہاں بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑی تھی ۔ اس کے بعد جہاں کہیں اپوزیشن جماعتوں نے باہمی اختلافات کو فراموش کرنے سے گریز کیا اور ایک دوسرے کے تئیں شکو ک و شبہات رکھتے ہوئے اپنی انا اور بالادستی کو یقینی بنانے کی کوشش کی اور انتخابات میں مقابلہ کیا وہاں انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا ۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات سے قبل بھی وہاں یہ کہا جا رہا تھا کہ عظیم اتحاد کی تشکیل عمل میں لائی جائیگی لیکن بی جے پی اور اس کے کٹھ پتلی عناصر نے ایسے حالات پیدا کردئے تھے جس کے نتیجہ میں وہاں عظیم اتحاد کی تشکیل ممکن نہیں ہو پائی ۔جبکہ بی جے پی نے بہار میں شکست کھانے کے بعد سے ہی اترپردیش میں اپنی سیاسی بساط بچھانی شروع کردی تھی ۔ وہاں اس نے اپنے مہروں کو ان کے مقامات پر بھیج کر چالیں چلی تھیں اور اس کے نتیجہ میںاسے وہاں زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ ایسے حالات میں جبکہ ملک بھر میں میڈیا کے ذریعہ بی جے پی اور نریندر مودی کی تشہیر اور ان کا ہوا کھڑا کرنے پر ہی ساری توانائی صرف کی جا رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ وقت اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس ملک کے مستقبل کو بچانے کیلئے آگے آئیں اور قومی سطح پر ایک عظیم اتحاد تشکیل دینے کے تعلق سے پوری سنجیدگی سے کوشش کریں۔ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ اتحاد ایسا ہو جس کے نتیجہ میں بی جے پی کی پیشرفت رک جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پیشرفت بی جے پی کی نہیں بلکہ ان فرقہ پرست عناصر کی ہے جو اس ملک کا شیرازہ بکھیرنے پر اتر آئے ہیں۔ ان عناصر کی پیشرفت کو اگر روکا نہیں جاسکا تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہونگے جو انتہائی منفی ہونگے ۔
حالانکہ یہ واضح نہیںہوسکا ہے کہ نتیش کمار اور سونیا گاندھی کی ملاقات میں کس مسئلہ پر تبادلہ خیال ہوا ہے لیکن یہ اشارے ضرور محسوس کئے جاسکتے ہیں کہ اس میں قومی سطح پر ایک عظیم اتحاد کے تعلق سے بھی بات چیت ہوئی ہو ۔ حالانکہ یہ ایک محض ابتداء ہے لیکن اس کو ایک اچھی پہل ضرور کہا جاسکتا ہے اور اس پہل کو آگے بڑھانے کیلئے دوسری جماعتوںاور ذمہ دار سکیولر قائدین کو بھی آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ یہ پہل اگر ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں خود اس عظیم اتحاد میں شامل ہونے والی جماعتوں کو مدد ملے گی بلکہ اس ملک کا مستقبل محفوظ ہوسکے گا ۔ ان عناصر کی سرکوبی ممکن ہوسکے گی جو اس ملک کے سکیولر تانے بانے کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ان عناصر پر قابو پایا جاسکے گا جو اس ملک میں نراج کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ عناصر رک پائیں گے جو اپنے عزائم اور ایجنڈہ کی تکمیل کیلئے جٹ گئے ہیں اور انہیںا س بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ان کے عزائم کی تکمیل کے نتیجہ میں اس ملک پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان بھر میں جو حالات آج پیدا کئے جا رہے ہیں یا کردئے گئے ہیں وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ قومی سطح پر ایک واضح سیاسی متبادل ابھرے اور بے لگام فرقہ پرست عناصر کو قابو کیا جاسکے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں تدبر اور حکمت عملی کے ساتھ کام کریں۔ ایک جامع منصوبہ بندی اور ایک اقل ترین مشترکہ پروگرام کے ساتھ کام کیا جائے ۔ اس کے بغیر موجودہ حالات میں فرقہ پرستوں پر قابو پانا اور ان پر لگام لگانا ممکن نہیں ہوسکے گا ۔ اس بات کا سبھی سیاسی جماعتوں کو احساس کرنا ہی ہوگا ۔
حالانکہ ابھی تک یہ سب کچھ قیاس آرائی ہی کہی جاسکتی ہے لیکن اس کو عملی شکل دئے جانے کی ضرورت ہے ۔ جنتادل یونائیٹیڈ ہو یا پھر آر جے ڈی یو ‘ اترپردیش کی سماجوادی پارٹی ہو یا بہوجن سماج پارٹی ہو ‘ مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس ہو یا پھر کمیونسٹ جماعتیں ہوں یا ٹاملناڈو کی ڈی ایم کے ہو یا جموں و کشمیر کی نیشنل کانفرنس ہو ایسی سبھی جماعتوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔ کم از کم ایک حکمت عملی کے تحت ایک پلیٹ فارم اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ ہونا چاہئے جس کی مدد سے حکومت کو نشانہ بنایا جاسکے ۔ اس کی غلط کاریوں کا پردہ فاش کیا جاسکے حکومت کو جواب دہ بنایا جائے ۔ ملک کے سکیولر تانے بانوں کا تحفظ ہوسکے ۔ ملک کے دستور کی دھجیاں اڑانے والوں کو روکا جاسکے ۔ موجودہ حالات میںاگر اپوزیشن جماعتیں ایسا کوئی اتحاد بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو پھر یہ امید کی جاسکتی ہے آئندہ دنوں میں اپوزیشن کیلئے انتخابی نتائج مایوس کن نہیں ہونگے ۔

TOPPOPULARRECENT