Monday , April 24 2017
Home / Top Stories / علاقائی جماعتوں کا مستقبل یوپی کے نتائج پر منحصر: دیوے گوڑا

علاقائی جماعتوں کا مستقبل یوپی کے نتائج پر منحصر: دیوے گوڑا

بنگلور 8مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم و جنتادل ایس کے قومی صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا نے کہا کہ علاقائی جماعتوں کا مستقبل اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر منحصر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر بی جے پی اترپردیش میں اپنی طاقت کی بنیاد پر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہی تو علاقائی جماعتوں کا مستقبل ملک میں تابناک نہیں رہے گا کیوں کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں کامیابی سے بی جے پی مزید مستحکم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی علاقائی جماعتوں کو علاقائی مسائل حل کرنے چاہئیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ متعلقہ ریاستوں کی بہ حیثیت مجموعی ترقی ہو ۔سابق وزیراعظم نے ریاست میں دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی بی جے پی میں شمولیت کے مسئلہ پر کہا کہ بی جے پی میں کئی ذہین لیڈر ہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈر جو بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں تو حتمی فیصلہ سے پہلے دو مرتبہ سوچنا چاہئے ۔ انہوں نے سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کو مشورہ دیا کہ وہ بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے دو مرتبہ سوچ لیں۔اگرچیکہ سابق سینئر کانگریسی لیڈر کرشنا جنہوں نے حال ہی میں پارٹی چھوڑدی تھی، کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کے اپنے فیصلے کا کھلے عام انکشاف نہیں کیا ہے لیکن بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یدی یورپا نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی تھی اور پارٹی میں شمولیت کیلئے انہیں سرکاری طور پر دعوت دی تھی۔ اس پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم کرشنا ایک پختہ سیاست داں ہیں اور وہ ایک بہتر منتظم ہیں۔ میں کرشنا کو بی جے پی میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دینے کا اہل نہیں ہوں ۔ بنگلور کے پریس کلب کے زیراہتمام صحافت سے ملاقات پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دیوے گوڑا نے ایس ایم کرشنا کو مخلصانہ مشورہ دیاکہ وہ بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے محتاط رہیںکیونکہ دیگر سینئر لیڈر جنہوں نے کانگریس چھوڑکر اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی ، انہیں ان کے مرتبہ کے لحاظ سے مکمل فائدہ اٹھانے کے بعد نظرانداز کردیا گیا اور انہیں چھوڑدیا گیا۔ انہوں نے آنجہانی وزیراعلیٰ بنگارپا اور دوسرے آنجہانی سینئر کانگریسی لیڈر راج شیکھر مورتی کی مثالیں دیں جنہوں نے مختصر مدت کیلئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی جن کا بی جے پی نے اپنے مقصد کیلئے استعمال کیا اور انہیں نظرانداز کردیاگیا۔ ’’میرا مقصد جے ڈی ایس جیسی علاقائی جماعت کو اپنے بل بوتے پر کرناٹک میں برسراقتدار لانا ہے ‘‘۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT