Monday , October 23 2017
Home / ہندوستان / علاقائی زبانوں میں ایم بی بی ایس داخلہ ٹسٹ کا مطالبہ

علاقائی زبانوں میں ایم بی بی ایس داخلہ ٹسٹ کا مطالبہ

پارٹی خطوط سے بالاتر ہوکر حکومت پر ارکان پارلیمنٹ کا زور، آرڈیننس جاری کرنے کی تجویز
نئی دہلی 11 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر ارکان لوک سبھا نے آج مطالبہ کیاکہ میڈیکل داخلوں کے لئے علاقائی زبانوں میں بھی ٹسٹ منعقد کیا جائے۔ اُنھوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر ناراضگی ظاہر کی کہ جاریہ سال سے ہی واحد ٹسٹ منعقد کیا جائے گا۔ ارکان کے اندیشوں میں شرکت کرتے ہوئے حکومت نے ایوان کو تیقن دیا کہ وہ سپریم کورٹ کو ترغیب دینے کی کوشش کرے گی کہ نئے سسٹم کو اختیار کرنے کے لئے وقت درکار ہے۔ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے مرکز اور سی بی ایس ای سے خواہش کی تھی کہ واحد مشترکہ داخلہ ٹسٹ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسیس کے لئے قومی اہلیتی و داخلہ ٹسٹ (این ای ای ٹی) منعقد کیا جائے۔ عدالت نے ریاستی حکومتوں، خانگی تعلیمی اداروں اور اقلیتی تعلیمی اداروں کی علیحدہ علیحدہ داخلہ ٹسٹ منعقد کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے ارکان نے حکومت پر زور دیا کہ مسئلہ کی یکسوئی کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں اور تجویز پیش کی کہ اِس سلسلہ میں ایک آرڈیننس بھی جاری کیا جاسکتا ہے۔

ارکان کی درخواستوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ حکومت کا اصول ہے کہ مشترکہ داخلہ ٹسٹ منعقد کیا جائے لیکن ہم عدالت کو اطلاع دیں گے کہ بچوں کو مزید مہلت درکار ہے۔ ہم اِس بات کا اعادہ کریں گے اور عدالت کو ترغیب دینے کی کوشش کریں گے۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ بعض ریاستی حکومتیں بھی اس سلسلہ میں عدالت سے رجوع ہوچکی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ مشترکہ داخلہ امتحان کے بارے میں دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض خانگی تعلیمی ادارے اور ریاستی حکومتیں اپنے طور پر ٹسٹ منعقد کررہی ہیں۔ بعض بے قاعدگیوں کا بھی الزام عائدکیا گیا ہے۔ دریں اثناء مرکز نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر اجازت طلب کی کہ داخلہ امتحانات برائے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس تعلیمی سال 2016-17 ء سے 6 علاقائی زبانوں میں بھی منعقد کئے جائیں۔ کانگریس کے رکن راجیو ستو نے پرزور انداز میں کہاکہ حکومت کو اِس مسئلہ کی فوری یکسوئی کرنے کے لئے آرڈیننس جاری کرنا چاہئے یا سپریم کورٹ سے فوری رجوع کرنا چاہئے۔ بی جے ڈی کے سائی پتی ، ترنمول کانگریس کے کاکولی دھوش دستی دار ، کانگریس قائد ملک ارجن کھرگے اور اکالی دل کے پریم سنگھ چندو ماجرا نے بھی تائید کی۔

TOPPOPULARRECENT