Sunday , March 26 2017
Home / اضلاع کی خبریں / علاقہ حیدرآباد کرناٹک کو خصوصی موقف عطا ہونے کے بعد 22000 افراد کو ملازمتیں

علاقہ حیدرآباد کرناٹک کو خصوصی موقف عطا ہونے کے بعد 22000 افراد کو ملازمتیں

19000 طلبہ کو میڈیکل و انجینئرنگ میں داخلے، چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا کا گلبرگہ یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب
گلبرگہ ۔19مارچ ۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) علاقہ حیدر آباد کرناٹک کو دستوری ترمیم 371 Jکے ذریعہ خصوصی مراعات و تحفظات فراہم ہونے ک بعد اس علاقہ کے 22,000امیدواروں کو سرکاری ملازمتیں مل سکی ہیں ۔ اس کے علاوہ اس دستوری ترمیم کے بعدسے اب تک 19000میڈیکل اور انجنئیرنگ کی نشستیں بھی علاقہ حیدر آباد کرناٹک کے طلبا و طالبات کو مل سکی ہیں ۔ انخیالات کا اظہار ہفتہ کے دن چیف منسٹر کرناٹک مسٹر سدرامیا نے گلبرگہ یونیورسٹی میں ہیم ریڈی مل اماں اسٹڈی چیر ، کمیونٹی ہال اور بائیز اینڈ گرلس ہاسٹل کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کیا ۔چیف منسٹر نے کہا کہ مذکورہ بالا میڈیکل اور انجنئیرنگ کی نشستوں کے علاوہ علاقہ حیدر آباد کرناٹک کے مزید 6000طلبا و طالبات کو ہر سال میڈیکل و انجنئیرنگ میں داخلے دیئے گئے ہیں ۔ علاقہ حیدر آباد کرناٹک کو جو خصوصی دستوری موقف حاصل ہوا ہے یہ رکن پارلیمینٹ گلبرگہ و سابق مرکزی وززیر ملیکارجن کھرگے اور سابق چیف منسٹر کرناٹک مسٹر دھرم سنگھ کی موثر نمائیندگی کا نتیجہ ہے۔علاقہ حیدر آباد کرناٹک کی پسماندگی کے خاتہ کے لئے دستوری ترمیم کے ذریعہ اس علاقہ کو خصوصی مراعات فراہم کرنااک بہت بڑی کامیابی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سابق میں جب حیدر آباد کرناٹک ڈیولوپمینٹ بورڈ موجود تھا تو اس وقت اس کے ترقیاتی کاموں کے لئے پانچ برسوں کے دوران صرف 350کروڑ روپیوں کے فنڈس مختص کئے گئے تھے ۔ لیکن پارلیمنٹ میں دستوری ترمیم کے ذریعہ اس علاقہ کو خصوصی موقف عطا ہونے کے بعد اس بورڈ کا نام بدل کر حیدر آباد کرناٹک علاقائی ترقیاتی بورڈ کردیا گیا ۔ پھر گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس بورڈ کے ترقیاتی کاموں کی تکمیل کیلئے 4500کروڑ روپئے منطور کئے گئے ۔ اس سا ل کے بجٹ میں مزید 1500کروڑ روپئے اس بورڈ کے لئے مختص کردئے گئے ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آپ یہ تمام فنڈس اپنے علاقہ کی ترق کے لئے استعمال کریںاور اس میں سے کچھ رقم گلبرگہ یونیورسٹی کی ترقی پر بھی خرچ کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ سماج کے قیام کے پچھڑے ہوئے طبقات اور پسماندہ لوگوں کو بھی خصوصی مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ مسٹر سدرامیا نے کہا کہ ہم ایک ذات پات پر مبنی سوسائیٹی میں رہتے ہیں جس میں بہت سے لوگ پیچھے رہ گئے ہیں پچھڑے ہوئے ،ہیں اور ان میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ لوگ پسماندہ ہیں کیوں کہ انھیں بنادی تعلیم بھی نصیب نہیں ہوسکی ہے۔ پھر بغیر تعلیم کے مساوات اور انصاف کا حصول ناممکن ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہر ایک کو معایری تعلیم حاصل کرنے کا وقع ملنا چاہیئے۔علاقہ حیدر آباد کرناٹک تاریخیوجوہات کے سبب بھی پسماندہ رہا ہے لہٰذا اس علاقہ میں تعلیم پرخاص توجہ دینا بہت ضروری ہے۔رکن پارلیمینٹ گلبرگہ اور پارلیمینٹ میں کانگریس پارٹی کے قائد ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلی تعیم بسوارج ریڈی نے شیو شرنے ہیما رڈی مل اماںکے نام سے اسٹڈی چیر قائم کرنے کے لئے اقدامات کئے تھے ۔اس موقع پر چیف منسٹر سدرامیاکی جانب سے پیش کردہ حالیہ ریاستی بجٹ کی ستائش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ایک بہترین بجٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ گلبرگہ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر نے یونیورسٹی کی ترقی کے لئے 35کروڑ روپئے طلب کئے تھے ۔ حکومت ے 50فی صد رقم جاری کی تھی اب مابقی رقم حیدر آباد کرناٹک علاقائی ڈیولپمینٹ بورڈ کی جانب سے جاری کی جائیگی۔ وزیر اعلیٰ تعلیم مسٹر بسوراج ریڈی نے کہا ک مرکزی حکومت کی جانب سے علاقہ حیدر آباد کرناتک کی ترقی کے لئے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے علاقہ حیدر آباد کرناٹک میں رہائیشی ڈگری کالجوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ تقریب میں رکن اسمبلی گلبرگہ شمالی و سابق وزیر کرناٹک ڈاکٹر قمر الاسلام، رکن قانون ساز کونسل الحاج اقبال احمد سرڈگی ، ضلع انچارج وزیر ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل، وائیس چانسلر گلبرگہ یونیورسٹی پروفیسر نرنجن اور کئی ایک معززین شریک تھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT