Friday , September 22 2017
Home / ادبی ڈائری / علامہ عبداللہ عمادی حیدرآباد میں علمی خدمات

علامہ عبداللہ عمادی حیدرآباد میں علمی خدمات

ڈاکٹر سید داؤد اشرف
دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ کے مترجم اور ناظر مذہبی مولانا عبداللہ عمادی عربی کے بلند پایہ عالم تھے اور علمی تبحر اور فضل و کمال کی وجہ سے اپنے ہم عصروں میں نمایاں مقام رکھتے تھے ۔ حیدرآباد آنے سے قبل وہ پیشہ صحافت سے وابستہ تھے ۔ وہ عربی اور اردو کے اہم اور موقر اخبارات کے برسوں ایڈیٹر رہے ۔ جب حالات نے حق گو اخبار نویسوں کی زبانوں پر تالا ڈالنے کی کوشش کی تو انہوں نے پیشہ صحافت کو ترک کرکے ایسی ملازمت کی تلاش شروع کی جہاں پڑھنے لکھنے کا کام اور ان کے ذوق کی تکمیل ہوسکے ۔ چنانچہ وہ حیدرآباد آئے اور دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ سے وابستہ ہوئے ۔
مولانا سید سلیمان ندوی اور مولوی ابوالخیر مودودی کے مطابق حیدرآباد سے ان کے تعارف کا ذریعہ ظفر علی خان تھے ۔ ان حضرات کے بیانات کا پس منظر یہ ہے کہ ظفر علی خان ، نواب میر محبوب علی خاں آصف سادس کے عہد میں ملازمت سے علاحدہ کئے گئے اور ان کا ریاست سے اخراج بھی عمل میں آیا تھا ۔ ظفر علی خان ریاست کے ولی عہد عثمان علی خان کے اتالیق رہ چکے تھے  ۔ عثمان علی خان کی حکمرانی کے ابتدائی دور میں دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ کا قیام عمل میں آیا اور انہوں نے اپنے ایام شہزادگی کے اتالیق کو یاد کیا اور احکام صادر کئے کہ دارالترجمہ میں ظفر علی خان سے ترجمے کا کام لیا جائے ۔ چنانچہ ظفر علی خان حیدرآباد طلب کئے گئے ، ان کا دارالترجمہ میں تقرر عمل میں آیا اور انہیں کئی مراعات بھی دی گئیں ۔ ظفر علی خان نے عبداللہ عمادی کو دارالترجمہ میں ملازمت کے لئے حیدرآباد بلایا ۔ عبداللہ عمادی ظفر علی خان کے اخبار ’’زمیندار‘‘ میں کام کیا کرتے تھے اور دونوں میں گہرے دوستانہ مراسم تھے ۔
عبداللہ عمادی نے حیدرآباد پہنچنے کے بعد دارالترجمہ میں ملازمت کے لئے درخواست دی جس پر ان کا دارالترجمہ میں عربی کے مترجم کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا ۔ وہ 15 اگست 1918 ء کو رجوع بہ خدمت ہوئے ۔ ابتداء میں ان کی تنخواہ دو سو روپے ماہوار تھی ۔ بعد ازاں ان کی تنخواہ دیگر مترجمین کے مساوی اور ملازمت مستقل کردی گئی ۔ چند سال بعد انہیں 1924ء میں ناظر مذہبی کی خدمت پر ترقی دی گئی جس پر وہ سبکدوش ہونے تک کام کرتے رہے ۔ وہ سبکدوشی کے بعد وطن واپس نہیں گئے بلکہ انہوں نے حیدرآباد میں مستقل طور پر سکونت اختیار کی ۔ وہ 28 اگست 1947 ء کو اس دارفانی سے رخصت ہوئے اور یہیں پیوند خاک ہوئے ۔

عمادی صاحب کے دارالترجمہ میں تقرر  ، تنخواہ میں اضافے اور ملازمت کو مستقل کرنے کی کارروائی کا خلاصہ ذیل میں دیا جارہا ہے ، جو آندھرا پردیش اسٹیٹ آرکائیوز میں محفوظ ریکارڈ سے حاصل کردہ مواد پر مبنی ہے ۔
عبداللہ عمادی نے دارالترجمہ میں ملازمت کے لئے آصف سابع کے نام درخواست مورخہ 22 شوال 1336ھ م 31 جولائی 1918ء پیش کی تھی ، جس سے ان کی صحافتی اور علمی مصروفیات کا علم ہوتا ہے  ۔انہوں نے درخواست میں لکھا تھا کہ ان کی ساری عمر علمی مشاغل میں گزری ۔ لکھنؤ سے جو عربی اخبار البیان نکلتا تھا جو مصر و مراقش تک جاتا تھا  ۔اس کے ایڈیٹر وہی تھے ۔ وہ اخبار وکیل امرتسر کے ساڑھے سات سال ایڈیٹر رہے اور اپنی محبت سے اسے اس حیثیت سے پہنچادیا تھا کہ وہ شمالی ہند کا سب سے موقر اخبار سمجھا جانے لگا ۔ اس کے بعد جب اخبار زمیندار لاہور کو فروغ ہوا ظفر علی خان نے انہیں اپنے پاس بلالیا اور ان کے قیام انگلستان کے زمانے میں وہی ہندوستان کے اس سب سے زیادہ کامیاب اخبار کے مستقل ایڈیٹر رہے ۔ علاوہ ازیں وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ مختلف علوم و فنون پر ان کی حسب ذیل کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔
۱ ۔ تفسیر محکمات ۔ (۲)فلسفتہ القرآن (۳)علم الحدیث (۴)تاریخ عرب قدیم (۵)صناعتہ العرب (۶) کتاب الزکاۃ (۷)شرح المفصل عربی ۔ ان کتابوں کے علاوہ انہوں نے امیر عبدالرحمن خاں فرماں روائے افغانستان کے دارالترجمہ کے لئے تاریخ ابن خلدون کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا ۔ یہ تفصیلات بیان کرنے کے بعد انہوں نے لکھا کہ اخبار نویسی ایک شریف پیشہ ہے اور انہوں نے اسی کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دے رکھا تھا ،لیکن حالیہ عرصے میں پیش آنے والے ناگفتنی واقعات نے درددل رکھنے والے راست گفتار اہل قلم کی زبانیں بند کردیں ۔ اب حضور اقدس (آصف سابع) ہی کی ذات ایسی ہے کہ ٹوٹے ہوئے دلوں پر لطف و احسان کا مرہم رکھ سکتی ہے اور رکھ رہی ہے ۔ وہ بھی اپنے مجروح دل کے اندمال کی توقع رکھتے ہیں ۔ عثمانیہ یونیورسٹی جو مسلمانان ہند کے علمی مستقبل کا ایک درخشاں نگارستان ہے اس کی آئینہ داری کے لئے وہ اپنی ناچیز خدمات پیش کرتے ہیں ۔

اس درخواست پر آصف سابع نے فرمان مورخہ 29 شوال 1336ھ م 7 اگست 1918ء کے ذریعے احکام جاری کئے کہ عرضی گزار کو دارالترجمہ میں کسی خدمت مواجبی دو سو روپے پر امتحاناً ایک سال کے لئے مقرر کیا جائے ۔ اس فرمان کی تعمیل میں عبداللہ عمادی 9 مہر 1327ف م 15 اگست 1918ء کو دارالترجمہ میں مترجم کی حیثیت سے رجوع ہوئے ۔ چونکہ ان کا تقرر دو سو روپے ماہوار پر ایک سال کے لئے امتحاناً کیا گیا تھا اس لئے انہوں نے ایک سال کی مدت ختم ہونے سے کچھ قبل ملازمت کو مستقل کرنے اور دیگر مترجموں کی طرح انہیں بھی 300 تا 500 روپے ماہوار کا گریڈ دینے کی استدعا کی ،جس پر حبیب الرحمن خان شروانی صدر الصدور کی تجویز پر دو سو روپے ماہوار کے ساتھ ان کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع منظور کی گئی ۔ عبداللہ عمادی توسیع شدہ مدت میں کام کرتے رہے اور جب یہ مدت ختم ہونے کو تھی تو انھوں نے ایک اور درخواست پیش کی جس میں انہوں نے استدعا کی کہ ان کی ملازمت کو مستقل کیا جائے اور دیگر مترجموں کی طرح ان کے لئے بھی مترجم کا گریڈ منظور کیا جائے ۔ اس درخواست پر نگراں کار ناظم دارالترجمہ نے عبداللہ عمادی کی کارگزاری کی تصدیق کرتے ہوئے ہر دو استدعاؤں کو منظور کرنے کی سفارش کی ۔ معتمد تعلیمات اور منصرم صدر المہام (وزیر) فینانس نے اس سفارش سے اتفاق کیا ۔ سر علی امام صدراعظم نے اس کارروائی کی تفصیلات عرضداشت مورخہ  12 شعبان 1338ھ م 2 مئی 1920ء میں درج کرکے اسے آصف سابع کی خدمت میں روانہ کیا ۔ اس عرضداشت پر آصف سابع نے فرمان مورخہ 16 شعبان 1338ھ م 6 مئی 1920 ء کے ذریعے یہ استفسار کرتے ہوئے کہ عبداللہ عمادی نے اب تک دارالترجمہ میں کیا کام کیا ہے اور کیا ان کا کام اطمینان بخش رہا ہے ، ہدایت جاری کی کہ یہ تفصیلات محکمہ متعلقہ سے جلد پیش ہوں تاکہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع اور تنخواہ میں اضافہ سے متعلق غور ہوسکے ۔ اس فرمان کی تعمیل میں نگران کار ناظم دارالترجمہ نے مولوی عبداللہ عمادی کے کام کے بارے میں لکھا کہ وہ ابتداء میں تصحیح کا کام کرتے رہے ۔ اس کے بعد وہ کتاب طبقات ابن سعد کے ترجمے کا کام کررہے ہیں ۔ اس کتاب کی پہلی جلد کا ترجمہ ختم ہوچکا ہے اور دوسری جلد کا ترجمہ قریب الختم ہے ۔ اس کے بعد وہ کتاب مذکور کی تیسری جلد کا ترجمہ شروع کریں گے ۔ حبیب الرحمن شروانی صدر الصدور نے تحریر کیا کہ عبداللہ عمادی نے ابن سعد کا ترجمہ قابلیت سے کیا ہے جو لائق تحسین ہے ۔ ایک سال کی مزید توسیع ضروری ہے ۔ عمادی صاحب سے کہا جائے گا کہ آئندہ سال وہ ترجمے کی رفتار زیادہ کردیں ۔ ان کا خیال ہے کہ جس قدر ترجمہ کیا گیا اس  سے زیادہ کیا جاسکتا تھا ۔
عبداللہ عمادی کی کارگزاری کی مذکورہ بالا رپورٹ ایک عرضداشت کے ذریعے آصف سابع کی خدمت میں بھیجی گئی ،جس پر آصف سابع نے بذریعہ فرمان مورخہ 10جمادی الاول 1339 ھ م 20 جنوری 1921ء ان کی مدت ملازمت میں ایک سال کی منظوری دیتے ہوئے لکھا کہ اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہوگی اور ان کا کام اطمینان بخش رہے گا تو اس وقت ان کو مستقل کرنے کے بارے میں غور کیا جائے گا ۔ فرمان کی تعمیل میں توسیع ملازمت کے احکام جاری کردئے گئے ۔ جب یہ مدت بھی ختم ہونے کو تھی تو اس کارروائی کو بغرض اظہار رائے مجلس اعلی جامعہ عثمانیہ کے پاس پیش کیا گیا جس نے یہ رائے دی کہ مولوی عبداللہ عمادی کی قابلیت عربی کے مترجم کی حیثیت سے مسلمہ ہے اور دارالترجمہ میں ہنوز کافی کام باقی ہے ۔ اس لئے ان کی خدمت کو مستقل کیا جائے اور ان کی تنخواہ وہی مقرر کی جائے جو دوسرے مترجمین کی ہے ۔ مجلس اعلی جامعہ عثمانیہ کے اراکین کی رائے کے مطابق آصف سابع نے فرمان مورخہ 12 ذی قعدہ 1339ھ م 18 جولائی 1921 ء کے ذریعے مولوی عبداللہ عمادی کو موجودہ خدمت پر دس سال تک مستقل کرنے اور ان کی تنخواہ دوسرے مترجمین کی تنخواہوں کے مساوی قرار دینے کی منظوری دی ۔ اس بارے میں احکام جاری کردئے گئے ۔ چونکہ دیگر مترجمین کو 350 تا 600 روپے کا گریڈ 15 اردی بہشت 1329ف م 19مارچ 1920 ء سے دیا گیا تھا اس لئے عنایت اللہ دہلوی  ، ناظم دارالترجمہ نے تحریک پیش کی کہ مولوی عبداللہ عمادی کو بھی یہ گریڈ تاریخ مذکور سے دیا جانا مناسب ہے ۔ مجلس اعلی جامعہ عثمانیہ نے اپنے اجلاس میں اس تحریک سے اتفاق کیا ۔ چنانچہ اس عرضداشت میں ان تفصیلات کو درج کرکے اسے آصف سابع کی خدمت میں پیش کیا گیا اور آصف سابع نے بذریعہ فرمان مورخہ 29 رجب 1341ھ م 18مارچ 1923 ء مولوی عبداللہ عمادی کو بھی دیگر مترجمین کے مطابق  15 اردی بہشت 1329ف م 19 مارچ 1920 ء سے 350 تا 600 روپے کا گریڈ دینے کی منظوری صادر کی ۔

دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ میں مترجمین کے عہدوں کے علاوہ ناظر ادبی اور ناظر مذہبی کے بھی عہدے تھے ۔ ناظر ادبی تراجم اور تالیفات کی زبان پر نظرثانی کیا کرتا تھا اور ناظر مذہبی کی ذمہ داری تھی کہ تراجم اور تالیفات کسی بھی مذہب اور اس کے عقائد کے بارے میں قابل اعتراض خیالات اور جملوں سے پاک ہوں ۔ دارالترجمہ کے ابتدائی دور میں صفی الدین ناظر مذہبی تھے ۔ جب آصف سابع ان سے ناراض ہوئے تو انہوں نے فرمان مورخہ 12 جولائی 1924ء کے ذریعے مولوی صفی الدین کی ناظر مذہبی کی خدمت سے علاحدگی اور ریاست سے اخراج کے احکام صادر کئے ۔ مولوی صفی الدین کی علاحدگی کے بعد مولوی عبداللہ عمادی کو اس خدمت پر ترقی دی گئی اور وہ سبکدوشی تک ناظر مذہبی کی خدمت پر فائز رہے ۔ مولانا عمادی کو ان کی خدمت سے چند اور مترجمین کے ساتھ 1940 ء میں قبل از مدت وظیفے پر سبکدوش کردیا گیا ،لیکن ان کی مدت ملازمت میں پانچ سال کی رعایت دے کر انہیں ماہانہ تنخواہ کا نصف وظیفہ منظور کیا گیا ۔ اس کارروائی کی تفصیلات حسب ذیل ہیں ۔
ایک عرضداشت مورخہ 19 ربیع الاول 1359ھ م 28 اپریل 1940 ء عبداللہ عمادی اور دیگر مترجمین فدا علی ، مسعود علی اور بلدیو سنگھ کو وظیفے پر علاحدہ کرنے کی نسبت آصف سابع کی خدمت میں پیش کی گئی جس میں مجلس اعلی جامعہ عثمانیہ کی تجویز اور معتمد تعلیمات و محکمہ فینانس کی آراء درج کی گئیں ۔ مجلس اعلی جامعہ عثمانیہ نے ان حضرات کو خدمت سے سبکدوش کردینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے تحریر کیا کہ اب ان کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے ، ان کو حسب قاعدہ انتہائی وظیفے یا انعام پر علاحدہ کیا جائے ۔ اس بارے میں معتمد تعلیمات نے لکھا کہ عبداللہ عمادی کا شمار ہندوستان کے مشاہیر علماء میں کیا جاتا ہے اور وہ ادب اور تاریخ میں امتیازی درجہ رکھتے ہیں ۔ حکومت نے اپنی اعلی قدردانی سے مصنفین کے نام ماہوار وظیفے جاری کئے ہیں ۔ لہذا ایک ایسے ممتاز قابل شخص کے ساتھ جس نے حکومت کی ملازمت کی ہو رعایت کی جانی چاہئے ۔ مناسب ہوگا کہ انہیں رعایت دے کر نصف وظیفہ دیا جائے ۔ محکمہ فینانس نے عمادی صاحب کو پانچ سال کی رعایت دیئے جانے سے اتفاق کیا ۔ اس عرضداشت کی پیش کشی پر آصف سابع نے بذریعہ فرمان مورخہ 20 رجب 1359ھ م 25 اگست 1940ء مولانا عمادی کی مدت ملازمت میں پانچ سال کا اضافہ کرکے ان کی ماہوار تنخواہ کا نصف وظیفہ جاری کرنے کی منظوری دی ۔ مولانا عمادی کی ملازمت کے بارے میں مستند معلومات کے ساتھ ساتھ قارئین کو یقیناً ان کی شخصیت ، سیرت ، دارالترجمہ کی کارکردگی ، حیدرآباد میں ان کی دیگر مصروفیتوں اور ان کے علم و فضل کے بارے میں تفصیلات جاننے سے بھی دلچسپی ہوگی ۔ یہ تفصیلات مولانا عمادی کے قریبی احباب کے مضامین سے ہی مل سکتی ہیں ۔ لہذا ذیل میں مولانا عمادی کے ان قریبی احباب کے مضامین سے مواد پیش کیا جارہا ہے جنہیں مولانا کے ساتھ کام کرنے ، ان کو قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملا تھا ۔
جوش ملیح آبادی نے دارالترجمہ میں جن چند احباب سے فیض پایا تھا ان میں عبداللہ عمادی بھی تھے ۔ جوش اپنی خوش نوشت سوانح یادوں کی برات میں اس بات کا کھلے دل سے ان الفاظ میں اعتراف کرتے ہیں ۔ ’’میری یہ بڑی ادبی نمک حرامی ہوگی کہ اگر میں اس امر کا اعتراف نہ کروں کہ شعبہ دارالترجمہ کی وابستگی نے مجھ کو بے حد علمی فائدہ پہنچایا اور خصوصیت کے ساتھ علامہ عمادی ، علامہ طباطبائی اور مرزا محمد ہادی رسوا کے فیضان صحبت نے مجھ بے سواد آدمی کو میرے جہل پر مطلع کرکے ، ذوق مطالعہ پر مامور کردیا اور صحت الفاظ و نجابت لہجہ کا جو پودا میرے باپ اور میری دادی نے میرے وجود کی سرزمین پر لگایا تھا اگر طباطبائی ، مرزا محمد ہادی اور عمادی کی مسلسل دس برس کی ہم نشینی کا مجھ کو موقع نہ ملتا تو وہ پودا کبھی شاداب اور بار آور نہ ہوتا‘‘ ۔ جوش نے اسی کتاب میں مولانا عبداللہ عمادی کو فارسی اور عربی کا ہفت قلزم لکھا ہے ۔

ممتاز عثمانین سید معین الدین قریشی نے اپنے مضمون ’’جوش ۔ حیدرآباد میں سترہ برس بعد‘‘ مطبوعہ ماہنامہ صبا حیدرآباد ، اگست ، ستمبر 1966ء میں دارالترجمہ کی سرگرمیوں اور اس سے وابستہ چند اہم شخصیتوں کے بارے میں بڑی اہم اور دلچسپ باتیں تحریر کی ہیں ۔ اس مضمون میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’دارالترجمہ میں سب سے دلچسپ اور کام کی ملاقات مولانا عمادی کے کمرے میں ہوتی تھی ۔ یہاں علم تھا اور بذلہ سنجی تھی جس پر سنجیدگی کے پردے پڑے ہوتے تھے ۔ جوش ان پردوں کو ہٹاتا تھا ۔ خالص علمی اور ادبی مسائل میں جو باریکیاں ، لطافت  ،نزاکت اور شرارت نمایاں ہوتی اس کا ذمہ دار جوش ہوتا  ۔مولانا عمادی کا ایک بڑا کمال یہ تھا کہ وہ کسی لطیف بات ، کسی شوخی اور پھبتی کا واقعی ایک عالم کے انداز میں خیر مقدم کرتے اور بے اختیار ہنسی اور برجستہ قہقہہ کو اس طرح روکنے کی کوشش کرتے ، جس طرح ایک سچا عالم اپنے علم کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ جواب دیتے تھے لیکن وہ بے ضرورت نہ ہوتا تھا زیادہ تر داد ہوتی تھی اور سچے دل سے جس میں ان کے دل کی لذت ہم سب کو محسوس ہوتی تھی ۔ جوش جب بھی کہتا ہے کہ دکن سے چند دوستوں کے علاوہ میں نے علم کا ذوق بھی پایا ہے میرا منتشر خیال مولانا عمادی پر مرتکز ہوجاتا ہے‘‘ ۔
مولانا ابوالاعلی مودودی کے بھائی مولانا ابوالخیر مودودی بھی دارالترجمہ سے وابستہ تھے جہاں ان کا اور مولانا عمادی کا برسوں ساتھ رہا ۔ ابوالخیر مودودی نے اپنے مضمون ’’علامہ عبداللہ عمادی‘‘ مطبوعہ نقوش شخصیات نمبر 2 میں مولانا عمادی کی شخصی خوبیوں اور علمی شخصیت کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے ۔ ابوالخیر مودودی اس مضمون میں لکھتے ہیں کہ عمادی صاحب جتنے بڑے عالم اور علامہ تھے اس سے زیادہ اعلی قسم کے انسان تھے ۔ بلند نگاہ اور کریم النفس ، قلندر صفت اور قلندر سیرت ۔ ان کی شخصیت میں اس قدر اعلی انسان خوبیاں تھیں جو آج ڈھونڈے بھی کہیں نظر نہیں آسکتیں ۔ نخوت اور تکبر کی پرچھائیں بھی ان میں نہ تھی ۔ وہ ایک جاہل ہم نشین کو اس بات کا ہلکا سا بھی احساس نہ ہونے دیتے کہ وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں ۔ ان کی تنخواہ میں دست گیری ایک مستقل مد تھی  ۔انہیں عزیزوں سے بہت الفت تھی ۔ جب وہ وطن جاتے ، عزیزوں اور دوستوں کے لئے سوغاتیں لے جاتے ۔
دارالترجمہ میں اصلاحات سازی کے سلسلے میں مولانا عمادی کے رویے کے بارے میں ابوالخیر مودودی لکھتے ہیں کہ عمادی صاحب کو عربی فارسی کی قدیم و جدید لغات و مصطلحات پر بڑا عبور تھا اس لئے وہ ہر شعبے کی مجلس مصطلحات کے مستقل رکن تھے اور ان کو ارکان مجلس میں بڑا امتیاز اور احترام حاصل تھا ۔ بایں ہمہ وہ علمی رہنمائی سے ایک قدم آگے نہیں بڑھاتے تھے ۔ وہ اصطلاح وضع کرنے میں مدد دیتے اور اس بات سے غرض نہ رکھتے تھے کہ ان کی مدد اور رہنمائی قبول کی گئی ہے یا نہیں ۔ ابوالخیر مودودی کے مطابق مترجم کی حیثیت سے عمادی صاحب کے قلم سے حسب ذیل کتابیں نکلیں ۔
۱۔ مورخ مسعودی کی التنبیہہ ولا اشرف اور مروج المذہب (۲)مورخ طبری کی تاریخ الامم و الملوک کی آخری دوجلدیں (۳)ابن سعد کی طبقات کبیر کی بارہ کتابیں (۴)ابن حزم کی الملل والنحل ۔

دائرۃ المعارف اور کتب خانہ آصفیہ سے مولانا عمادی کی وابستگی سے متعلق ابوالخیر مودودی تحریر کرتے ہیں کہ دائرۃ المعارف نے تاریخ اور فلسفے کے علاوہ ہیئت و ہندسہ وغیرہ کی متعدد کتابیں مشرقی زبانوں اور علوم کے یوروپی ماہرین کے اشتراک سے ایڈٹ کیں ۔ اس قسم کی تمام کتابوں کی تصحیح و تہذیب کے نگران اعلی عمادی صاحب مقرر کئے جاتے تھے  ۔کتب خانہ آصفیہ کی مجلس مخطوطات میں وہ قلمی نسخوں کے مستند مبصر رہے ۔ کسی موضوع و مضمون کی کتاب کی علمی قدر جانچنے میں ان کی نگاہ بڑی تیز تھی ۔
مولانا عمادی کے لکھنے یا لکھوانے کے ڈھنگ کے بارے میں ابوالخیر مودودی لکھتے ہیں ’’مقالہ ہو یا ترجمہ قلم برداشتہ لکھتے اور کسی پیراگراف یا صفحے میں شاذ و نادر کوئی لفظ قلم زد ہوتا ۔ مدت سے خود لکھنا چھوڑ دیا تھا  ۔ ترجمہ لکھواتے تھے ۔ ترجمہ لکھوانے کا ڈھنگ اکثر و بیشتر یہ ہوتا ۔ ٹہلتے رہتے ۔ کتاب ایک نظر دیکھتے اور فقرے روانی سے بول دیتے ۔ خوبی یہ ہوتی کہ ترجمہ لفظی ہوتا‘‘ ۔
مولانا عمادی کی وفات پر ان کے رفیق دیرینہ مولانا سید سلیمان ندوی نے اپنے تحریر کردہ تعزیتی مضمون ’’آہ! مولانا عمادی‘‘ میں لکھا ہے کہ دارالترجمہ میں مولانا اپنی لغات دانی ، جدید عربی مصطلحات علمی کی واقفیت کے سبب بہت کارآمد ثابت ہوئے ۔ وہ دارالترجمہ کی اصطلاحات سازی کی دو جماعتوں میں سے اس جماعت سے وابستہ تھے جو اردو میں عربی اصطلاحات کے رواج کی کوشاں تھی ۔ مولانا سلیمان ندوی نے مزید لکھا ہے کہ مولانا عمادی حیدرآباد کی علمی مجلسوں اور محفلوں کے جزو ہوگئے تھے ۔ دائرۃ المعارف اور کتب خانہ آصفیہ جو مملکت دکن کے دو اہم اور عظیم الشان علمی مرکز ہیں ، وہ ان دونوں کے مشیر اور رکن رکین تھے ۔ مولانا سلیمان ندوی مضمون کے آخری میں مولانا عمادی کی رحلت پر اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں ’’مرحوم مشرقی تعلیم کے ان نمونوں میں سے تھے جن کے مٹنے کے بعد ان کی جگہ ہمیشہ خالی رہے گی‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT