Wednesday , October 18 2017
Home / ہندوستان / علحدگی پسند قائدین کی اقوام متحدہ دفتر تک احتجاجی مارچ کی کوشش

علحدگی پسند قائدین کی اقوام متحدہ دفتر تک احتجاجی مارچ کی کوشش

ہائیکورٹ بار اسوسی ایشن کا بھی پرامن مظاہرہ، مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کیلئے اقوام متحدہ سے مداخلت پر زور
سرینگر ۔17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) علحدگی پسند قائدین میر واعظ عمر فاروق اور سید علی شاہ گیلانی نے نظربندی کی پرواہ کئے بغیر اقوام متحدہ دفتر تک احتجاجی جلوس کی قیادت کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔ صدرنشین اعتدال پسند حریت کانفرنس میر واعظ عمر فاروق نے اپنی رہائش گاہ سے حامیوں کے ہمراہ آج دوپہر احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے انہیں روک لیا اور اپنی تحویل میں لے لیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ انہیں نگین پولیس اسٹیشن میں بند رکھا گیا۔ صدرنشین سخت گیر حریت کانفرنس سید علی شاہ گیلانی نے بھی علحدہ طور پر گھر پر نظربندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حیدرپورہ رہائش گاہ سے احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی۔ گرفتاری سے قبل گیلانی نے اپنے مکان کے باہر دھرنا منظم کیا۔ علحدگی پسند گروپس نے اقوام متحدہ دفتر تک احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا تاکہ عالمی ادارہ پر مداخلت کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جاسکے۔ حکام نے سرینگر میں پولیس اور پیرا ملٹری فورسیس کی کثیر تعداد متعین کی تھی اس کے علاوہ سرینگر کے سوناور علاقہ میں جہاں اقوام متحدہ فوجی نگرانکار گروپ کا دفتر واقع ہے، تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کردی تھی۔ گیلانی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی روکنے اور مسئلہ کشمیر کی  یکسوئی یقینی بنانے میں اپنا رول ادا کرے۔ انہوں نے وادی کی صورتحال کو انتہائی سنگین اور دھماکو قرار دیا۔

 

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کی یکسوئی میں مثبت رول ادا کرنا چاہئے۔ ہائیکورٹ بار اسوسی ایشن صدر میاں عبدالقیوم کی زیرقیادت وکلاء کے ایک گروپ نے بھی ہائیکورٹ کامپلکس سے احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے بڈشاہ چوک برج کے پاس انہیں روک دیا۔ وہ پلے کارڈس اور بیانرس تھامے ہوئے تھے جس میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ان وکلاء نے وادی میں جاری بدامنی کے دوران 63 افراد کو ہلاک کرنے والوں کو بھی سخت سزاء دینے کا مطالبہ کیا۔ وکلاء نے جہانگیر چوک پر پرامن دھرنا منظم کیا اور ہائیکورٹ کامپلکس واپس ہوگئے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ شہر میں کئی مقامات پر عوام نے احتجاجی مظاہرے کئے اور اقوام متحدہ دفتر تک مارچ کی کوشش کی لیکن سیکوریٹی فورسیس نے ان کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ واضح رہیکہ وادی کشمیر میں جاری بدامنی کے سبب اب تک 63 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ وادی کے کئی علاقوں میں اب بھی کرفیو برقرار ہے جس کی وجہ سے عوام کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پر انٹرنیٹ اور موبائیل خدمات بھی مسدود کردی ہے۔ سیکوریٹی فورسیس کی کثیر تعداد کو صورتحال پر قابو پانے کیلئے تعینات کیا گیا ہے۔ تاہم اب تک حالات میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔

TOPPOPULARRECENT