Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے باوجود دلت اورمسلمان انصاف سے محروم

علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے باوجود دلت اورمسلمان انصاف سے محروم

حضور نظام کی لاکھوں ایکڑ اراضی پر سرمایہ داروں کے قبضوں کا اندیشہ‘ گول میز کانفرنس سے کودنڈارام ‘ظہیرالدین علی خان اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد۔19جون(سیاست نیوز) جنا ب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی دلت اور اقلیتی طبقات ہنوز انصاف سے محروم ہیں ۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ صرفخاص اورآصف سابع حضور نواب عثمان علی خان بہادر کی لاکھ ایکڑ اراضی جو حکومت نے ضبط کی تھی اس کو سرکاری طور پر برسوں سے استحصال ہوتا آرہا ہے جبکہ ریاست میںدلت اور اقلیتی طبقات کی اکثریت اپنے گھر سے محروم ہے۔ لہذا حکومت تلنگانہ کو چاہئے کہ وہ حسب وعدہ معاشی پسماندگی کاشکار دلت او راقلیتی طبقات کے لئے ایک گھرفراہم کرے ورنہ ریاست تلنگانہ میںکھلی اراضی جو سرکاری کہلائی جاتی ہے وہ سرمایہ داروں او رسیاسی قائدین کی ذاتی ضرورتوں کی تکمیل کاذریعہ بن جائے گی۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام میاں پور لینڈ اسکام کی سی بی ائی کے ذریعہ تحقیقات کے مطالبے پر منعقدہ گول میز کانفرنس کے بعد سوماجی گوڑہ میڈیاسے بات کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ پروفیسر کودانڈرام ‘ مسٹر گوپال شرما ‘ رام کرشنا ریڈی اور دیگر نے بھی اس پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ جاگیردارانہ نظام کے ریکارڈس میں چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ اور آصف جاہی خاندان کے اراضیات جس کو سرکاری طور پر ضبط کیاگیا تھا ‘ اس کا استحصال کیاجانے لگا۔ انہوں نے کہاکہ علاقے تلنگانہ کے انڈین یونین میںشامل ہونے کے بعد ضبط کی گئی اراضیات کو ریاست تلنگانہ کے بے گھر افراد کے لئے استعمال کیاجانا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جب تک ریاست تلنگانہ میںمعاشی طور پر پسماندہ طبقات کو سرچھپانے کے لئے ایک گھر نہیںمل جاتا تب تلنگانہ حصول تلنگانہ کا مقصد پورا نہیںہوگا۔ چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودانڈرام نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری اور اقافی اراضیات کاسیاسی قائدین کے ہاتھوں استحصال کوئی نئی بات نہیں ہے مگر تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ہمیں اس پر کنٹرول کی توقع تھی جو غلط ثابت ہوئی۔ پروفیسرکودانڈرام نے کہاکہ نئی ریاست تلنگانہ میںسرکاری اور اوقافی جائیدادوں پر قبضوں کے واقعات افسوسناک ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ جب تک حکومت تلنگانہ سرکاری اوراوقافی جائیدادوں کی حفاظت کے لئے سختی نہیںبرتے گی تب حکومت میںشامل لوگ مذکورہ اراضیات کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتے رہیں گے ۔ چیرمن جے اے سی نے کہاکہ میاں پور لینڈ اسکام میںسیاسی اثررسوخ والے افراد کے ناموں کا انکشاف خود اس بات کا ثبوت ہے۔ پروفیسر کودانڈرام نے کہاکہ میاں پور لینڈ اسکام میں حکومت تلنگانہ اگر حقیقی خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچانے اور سرکاری واوقافی جائیدادوں کے استحصال کی روک تھام میںاگر سنجیدہ ہے تو حکومت مذکورہ لینڈاسکام کی سی بی ائی تحقیقات کا اعلان کرے۔پروفیسر کودانڈرام نے کہاکہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی ریاست میںمعاشی پسماندگی کاشکار بے گھر اور کسانوں کی اراضیات کا بھی استحصال کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایسے میںمیاں پور لینڈ اسکام کا واقعہ تلنگانہ کی چار کروڑ عوام کے جذبات پر کارضرب ثابت ہورہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب تک حکومت میاں پور لینڈ اسکام کے خاطیو ںکو کیفرکردا ر تک پہنچائے گی تب تک تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی خاموشی اختیار نہیںکریگی ۔ انہوں نے اس ضمن میں شعور بیداری مہم کی شروعات کا بھی اس موقع پر اعلان کیا۔

 

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT