Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / علحدہ شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل ناگزیر

علحدہ شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل ناگزیر

ہائی کورٹ میں حکومت کا موقف پیش کرنے کی تیاری ، قانونی رائے کا بھی حصول
حیدرآباد۔13 فبروری (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے علیحدہ شیعہ وقف بورڈ کے قیام کے سلسلہ میں ہائی کورٹ کو حکومت کا موقف پیش کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ حیدرآباد ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ علیحدہ شیعہ وقف بورڈ کے قیام کے سلسلہ میں دی گئی نمائندگی پر اندرون چھ ہفتے کارروائی کی جائے۔ عدالت نے 19 جنوری کو اپنے عبوری احکامات میں یہ فیصلہ سنایا تھا۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اس مسئلہ پر قانون رائے حاصل کرتے ہوئے جوابی حلف نامے کو تقریباً قطعیت دے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں وقف بورڈ کی تمام جائیدادوں میں وقف جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی جس کے مطابق عدالت کو حکومت اپنے موقف سے آگاہ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف ایکٹ کے تحت اگر 15 فیصد جائیدادیں کسی مخصوص فرقہ کی ہوں تو اس کے لیے علیحدہ بورڈ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ علیحدہ بورڈ کے قیام کا مطالبہ کرنے والی تنظیموں کا یہ دعوی ہے کہ تلنگانہ میں 11 ہزار سے زائد جائیدادیں شیعہ وقف کے تحت ہیں۔ لہٰذا علیحدہ شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل ناگزیر ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد جوابی حلف نامہ تیار کیا اور اسے محکمہ قانون کی منظوری کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں حکومت پر دبائو میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت نے بورڈ کے نامزد ارکان کا تقرر نہیں کیا جس کے باعث وہ ارکان جو منتخب ہوچکے ہیں، الجھن کا شکار ہیں۔ برسر اقتدار پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر نے نامزد ارکان کے تقرر کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا اور عدالت میں جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے بعد ہی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت کی جائے گی۔ چھ ارکان کا انتخاب مکمل ہوچکا ہے اور حکومت کو 4 ارکان کا تقرر کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کرنا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کے مطابق بورڈ کی تشکیل سے متعلق فائل چیف منسٹر کے دفتر کو روانہ کی جاچکی ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی منظوری حاصل ہوجائے گی۔ بورڈ کی تشکیل میں تاخیر کے سبب وقف بورڈ کی جانب سے کئی اہم فیصلے کئے گئے جو تنازعہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ منتخب ارکان نے بورڈ کی تشکیل کے بعد گزشتہ دو ماہ میں عہدیداروں کی جانب سے کیئے گئے تمام فیصلوں پر نظرثانی کا من بنالیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT