Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / علحدہ میڈیکل انٹرنس ٹسٹ کی اجازت نہیں

علحدہ میڈیکل انٹرنس ٹسٹ کی اجازت نہیں

ایم بی بی ایس ؍ بی ڈی ایس میں صرف NEET کے ذریعہ داخلے: سپریم کورٹ
نئی دہلی ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج غیرمعمولی فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی حکومتوں اور اقلیتی اداروں کی یہ درخواست مسترد کردی کہ انہیں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسیس برائے تعلیمی سال 2016-17ء علحدہ انٹرنس امتحان منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ان کورسیس میں داخلوں کیلئے صرف NEET ہی کافی ہوگا۔ عدالت نے 28 اپریل کو جاری کردہ حکمنامے میں تبدیلی سے انکار کے ذریعہ ساری الجھنوں کو دور کردیا ہے۔ اس حکمنامے کے ذریعہ مرکز اور سی بی ایس ای کو ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلوں کیلئے نیشنل ایلیجبلیٹی انٹرنس ٹسٹ (NEET) کے ذریعہ واحد مشترکہ انٹرنس ٹسٹ منعقد کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے مرکز، سی بی ایس ای اور میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے پیش کردہ شیڈول کو منظور کرلیا جس میں یکم ؍ مئی کو منعقدہ آل انڈیا پری میڈیکل ٹسٹ کو NEET-I تصور کیا جائے گا۔ جن امیدواروں نے آل انڈیا پری میڈیکل ٹسٹ کیلئے درخواست نہیں دی ہے انہیں 24 جولائی کو NEET-II  میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے گا اور ان دونوں ٹسٹ کے مشترکہ نتائج 17 اگست کو جاری کئے جائیں گے تاکہ داخلہ کا عمل 30 ستمبر تک مکمل کرلیا جائے۔ NEET-I کا یکم ؍ مئی کو انعقاد عمل میں آیا جس میں تقریباً 6.5 لاکھ طلبہ نے حصہ لیا۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں، خانگی میڈیکل کالجس اور اقلیتی اداروں جیسے کرسچن میڈیکل کالج ویلور اور لدھیانہ کا یہ استدلال مسترد کردیا کہ انہیں علحدہ انٹرنس ٹسٹ منعقد کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ جسٹس اے آر ڈاوے، جسٹس شیوا کیرتی سنگھ اور جسٹس آدرش کمار پر مشتمل بنچ نے کہا کہ بادی النظر میں ہمیں ایسا نہیں لگتا کہ NEET قواعد کی بنیاد پر ریاستوں یا خانگی اداروں کے حقوق متاثر ہورہے ہوں۔ NEET صرف ایم بی بی ایس ؍ بی ڈی ایس کورس میں داخلوں کیلئے اہلیت ثابت کرنے کا انٹرنس ٹسٹ ہے۔ لہٰذا 28 اپریل کو جاری کردہ حکمنامہ میں تبدیلی کی درخواست کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے یہ واضح کیا ہیکہ جن طلبہ نے NEET-I کیلئے درخواست دی تھی لیکن اس میں شریک نہ ہوسکے یا امتحان میں شریک ہوئے لیکن یہ سوچ کر انہوں نے پوری تیاری نہیں کی کہ یہ ٹسٹ کل ہند سطح پر نشستوں کے صرف 15 فیصد کیلئے ہورہا ہے، انہیں مزید ایک مرتبہ شرکت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ ایسے تمام امیدوار NEET-II میں حصہ لے سکتے ہیں اور انہیں NEET-I کی امیدواری سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT