Tuesday , August 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / علماء کرام کا مقام و مرتبہ اور ہماری ذمہ داریاں

علماء کرام کا مقام و مرتبہ اور ہماری ذمہ داریاں

ابو زاہد سید وحید اللہ حسینی قادری
دین اسلام میں علم اور علماء کرام کو بڑی فضیلت دی گئی ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ قرآن مجید کو بھی قرآن اسی لیے کہتے ہیں چونکہ اس کی پہلی آیت پاک ’اقرا‘ ہے۔ گویا دین اسلام کی بنیاد ہی علم پرہے اور یہ اس بات کی طرف صریح اشارہ ہے کہ اسلام اور علم لازم و ملزوم ہے ۔رب کائنات علماء کرام کے بلندیٔ مقامات اور رفیع ِدرجات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’ اللہ تعالی ان کے جو تم میں سے ایمان لے آئے اور جن کو علم دیا گیا درجات بلند فرما دے گا‘‘ ۔
(سورۃ المجادلہ آیت ۱۱)
اس آیت پاک سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان اور علم وہ نعمتیں ہیں جو انسان کے رتبہ کو بارگاہ خداوندی میں بلند کرنے کا ذریعہ ہیں۔ دین متین میں مخلص عبادت گزار بندوں کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے لیکن ان عبادت گزار بندوں سے زیادہ مقام و مرتبہ شہدا کرام کا ہے چونکہ رب کی راہ میں شہید ہونا عبودیت و بندگی کا کمال ہے اور شہدا کرام سے بھی زیادہ فضیلت اہل علم کو حاصل ہے چونکہ علم ہی کے ذریعہ انسان اپنے مقصد تخلیق سے روشناس ہوتا ہے علم کے بغیر انسان کو نہ عبادت کا سلیقہ و طریقہ آتا ہے اور نہ اس کے دل میں جذبۂ شہادت پیدا ہوتا ہے۔ گویا علم ہی کے ذریعہ انسان میں آخری درجہ کا خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے جس کے سبب انسان برضا و رغبت اپنی جان کا نذرانہ بھی رب کے حضور پیش کرنے میں اپنی سعادت مندی سمجھتا ہے۔ رب کائنات ارشاد فرماتا ہے ترجمہ: ’’اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء ہی (پوری طرح) اس سے ڈرتے ہیں‘‘ (سورۃ فاطر آیت ۲۸)۔
علم انسان کو تدبر و تفکر اور دقت نظر و کامل ایقان کی نعمت سے سرفراز کرتا ہے جس کی روشنی میں شکوک و شبہات کے تمام امکانات ختم ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ علماء حق کے دل خوف و خشیت کردگار سے معمور ہوجاتے ہیں۔ رب کائنات مرتبہ ولایت پر فائز نفوس قدسیہ کی صفات اور ان کی جزا بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ’’یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (عمر بھر) پرہیزگاری کرتے رہے انہیں کے لئے بشارت ہے دنیوی زندگی میں اور آخرت میں‘‘ (سورۃ یونس آیات ۶۲۔۶۳)مذکورہ بالا دونوں آیات مبارکہ کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے علم کے بغیر انسان کے دل میں کما حقہ خوف و خشیت پیدا نہیں ہوسکتے اور بغیر خوف و خشیت کے کوئی انسان مرتبہ ولایت پر فائز نہیں ہوسکتا گویا قرآن مجید یہ بات صریحاً ارشاد فرماتا ہے کہ اہل علم ہی اللہ تعالی کے ولی ہیں اور اہل علم کے لیے ہی رب کائنات دنیا و آخرت میں بے شمار عنایات اور نوازشات کی قطعی بشارت دے رہا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے تمام انسانیت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ترجمہ:’’پس دریافت کرو اہل علم سے اگر تم خود نہیں جانتے‘‘ (سورۃ النحل آیت ۴۳)۔

بحیثیت غلامانِ مصطفیﷺ دین اسلام کے تئیں ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں پہلی ذمہ داری تو یہ ہے کہ دین اسلام کی تائید و حمایت میں ہم اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں چونکہ رب کائنات نے ہمیں اس بات کا حکم فرمایا ہے ارشاد رب کائنات ہوتا ہے ترجمہ: ’’ اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا‘‘ (سورۃ محمد آیت ۷)یعنی دین اسلام کے اوامر پر عمل اور نواہی سے اجتناب کرتے ہوئے دین حنیف کی مدد کروگے تو اللہ تعالی اپنی رافت و رحمت سے تمہاری مدد فرمائے گا۔دین اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی جو قوم کوشش کرتی ہے اسے تائید ایزدی حاصل ہوتی ہے اور جس قوم کو نصرت الٰہی کی پشت پناہی حاصل ہوجائے اس کے سیاسی، معاشی، تہذیبی، معاشرتی حالات لمحہ بالبصر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ نصرتِ دین الٰہی کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہم مخالفین اسلام کا جواب دینے سے پہلے اپنے اندر موجود خرابیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
بحیثیت غلامانِ مصطفی  ہماری دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے اندر خلوص اور للہیت پیدا کریں ۔
بحیثیت غلامانِ مصطفی ہماری تیسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم علماء حق سے اپنے رشتہ کو مزید مستحکم و مضبوط کرلیں چونکہ اسی میں ہمارے ایمان اور تقوی کی حفاظت اور دنیا و آخرت کی نجات مضمر ہے۔ آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی ﷺ ہمیں قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی تعلیمات کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔
٭٭٭

TOPPOPULARRECENT