Wednesday , August 23 2017
Home / عرب دنیا / علمائے دین کو فتوؤں کی اجرائی میں اعتدال سے کام لینے کا مشورہ

علمائے دین کو فتوؤں کی اجرائی میں اعتدال سے کام لینے کا مشورہ

قاہرہ 19 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) قاہرہ میں مسلم علمائے دین کے ایک اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جو بھی دینی فتوے جاری کئے جاتے ہیں اُن میں اعتدال سے کام لیا جائے کیوں کہ سخت نوعیت کے فتوے جاری کرنے سے جہادیوں کے ظلم و ستم میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ دینی مفتیان جو اپنے اپنے ممالک میں اسلامی قوانین کے زبردست مبلغ کہلائے جاتے ہیں، ان کے علاوہ دیگر علمائے دین کے درمیان دو روزہ اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ مسلم اسکالرس کو اسلامی قوانین اور تعلیمات سے متعلق تربیت فراہم کی جائے۔ قاہرہ کی مشہور و معروف جامعہ الازہر کے مفتی اعظم احمد الطیب نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ دنیا بھر کے علمائے دین کو یہ یاد دہانی کروانے کی ضرورت نہیں ہے کہ فتوؤں کی اجرائی میں اعتدال پسندی سے کام نہ لینے کی وجہ سے ہی آج مسلم قوم خونریزی میں مبتلا ہے لہذا تمام علمائے دین کا یہ فریضہ ہے کہ وہ فتوؤں کی اجرائی کے وقت موجودہ زمانے کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھیں۔ مفتی اعظم کا یہ خطاب دراصل علمائے دین کو عصری سائنس کی تربیت فراہم کرنے کی غمازی بھی کرتا ہے۔ جامعہ الازہر نے بھی جہادیوں کے انتہا پسند نظریات کو ختم کرنے کافی جدوجہد کی ہے جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ خصوصی طور پر دولت اسلامیہ کے نظریات سے جامعہ بالکلیہ طور پر متفق نہیں۔ دوسرے یہ کہ انٹرنیٹ کے اس دور میں مسلمان اپنے مذہبی سوالات کا جواب حاصل کرنے مذہبی ویب سائٹس سے رجوع ہوجاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT