Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / علمائے کرام اور معلمین کو امت مسلمہ کی دینی رہبری کرنے کا مشورہ

علمائے کرام اور معلمین کو امت مسلمہ کی دینی رہبری کرنے کا مشورہ

دینی تعلیمی ادارے نونہالوں کے مستقبل کو مستحکم بناسکتے ہیں ، المعہد الاسلامی حیدرآباد میں اجلاس
حیدرآباد۔ 16 فرو ری (سیاست نیوز) اُمت میں بے دینی کے خاتمہ کیلئے علمائے کرام بالخصوص معلمین کو عصری علوم سے آراستہ ہوتے ہوئے امت مسلمہ کی دینی رہبری کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے۔ مولانا محمد ذکریا ندوی سنبھلی نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی شاخ ’’المعہدالاسلامی‘‘ حیدرآباد میں منعقدہ دو روزہ اساتذہ کے تربیتی اجلاس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ مولانا ذکریا سنبھلی نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ دینی تعلیمی ادارے، نونہالوں اور اُمت کے مستقبل کو مستحکم بنا سکتے ہیں اور انہیں پوری طرح سے مسلمان بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے مراکز ہیں۔ انہوں نے عصری تعلیم یافتہ طبقہ میں پھیل رہے بے دینی کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات کا مقابلہ صرف دینی تعلیمات سے بہرہ آور علمائے کرام خود کو عصری علوم سے آراستہ کرتے ہوئے ہی کرسکتے ہیں۔ ان دو روزہ اجلاسوں کے دوران ملک بھر کے مختلف دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے اہل علم و دانش موجود تھے جنہیں ملک کے جید علمائے کرام نے مخاطب کرتے ہوئے دینی علوم کے ساتھ عصری علوم سے آراستہ ہونے کی تلقین کی۔ داعی اجلاس ڈاکٹر مولانا سید راشد نسیم ندوی نے اپنے استقبالیہ خطاب کے دوران کہا کہ حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ نے جو تعلیمات دی ہیں، ان میں واضح طور پر یہ کہا تھا کہ اخلاص و اختصاص کے ذریعہ ہی ہر تالے کو کھولا جاسکتا ہے اور اخلاص و اختصاص ہی علمائے دین و معلمین کا جوہر ہے۔ اُمت مسلمہ جن مسائل کا شکار ہورہی ہے، ان مسائل سے نجات کیلئے یہ ضروری ہے کہ اخلاص کے ذریعہ ان کی صحیح تربیت کو یقینی بنایا جائے۔ مولانا راشد نسیم ندوی نے معلمین کی تربیت کیلئے منعقدہ اس اجلاس کی تفصیلات سے واقف کروایا۔ دو روزہ تربیتی اجتماع کے دوران مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا عبدالرشید ندوی، مولانا سید احمد ومیض ندوی، مولانا عبدالقوی، مولانا محمد انظر ندوی، مولانا محمد ایوب ندوی کے علاوہ دیگر نے مخاطب کیا۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اجلاس کے دوران ’’فقہ اِسلامی : تدریس و تعلیم‘‘ کے موضوع پر اپنی مدلل بحث کے دوران اساتذہ کو تلقین کی کہ وہ فقہی مسائل سے مکمل آگہی حاصل کرے اور مسائل کے حل کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے بجائے وسیع النظری سے کام لیں۔ انہوں نے علماء کو مشورہ دیا کہ دینی معاملات میں کسی بھی طرح کے ایسے عنصر کو نہ جوڑا جائے جس سے بگاڑ پیدا ہوسکتا ہو۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے خطاب کے دوران فقہ اسلامی کے متعلق تدریس و تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ مولانا عبدالرشید ندوی نے ’’منتخبات حدیث کے تدریسی مسائل و منہج‘‘ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد ذکریا سنبھلی ندوی نے کہا کہ ’’اُمت مسلمہ پر بھی مدارس کی خبر گیری کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور دینی مدارس کے تعاون کو اپنا نصب العین بناتے ہوئے مسلمان اُخروی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ مولانا کفیل احمد نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ مولانا عبید الرحمن اطہر ندوی خطیب جامع مسجد ٹین پوش ، نامپلی نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران اصلاح و تربیت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر معلمین ’’کامل ‘‘ نہ بنیں تو کم از کم ’’طالب علم ‘‘ بن کر اپنی اصلاح کریں۔ دینی مدارس کو خود کفیل بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مولانا عبید الرحمن اطہر ندوی نے کہا کہ اگر ہم پورے انہماک کے ساتھ خدمت انجام دینا چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ دینی مدارس کو خود کفیل بنایا جائے چونکہ معاشی استحکام نہ ہونے کی وجہ سے باصلاحیت نوجوان، دینی خدمت چھوڑ کر دیگر مصروفیات اختیار کررہے ہیں جوکہ دینی حلقوں میں قحط و رِجال کی کیفیت پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT