Saturday , August 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / علوم و فنون کی اردو زبان میں منتقلی ، حیدرآباد کا منفرد کارنامہ

علوم و فنون کی اردو زبان میں منتقلی ، حیدرآباد کا منفرد کارنامہ

ظہیرآباد ۔ یکم ۔ فبروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) شعبہ اردو گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیرآباد و قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے تعاون سے یہاں گورنمنٹ ڈگری کالج کے احاطہ میں ایک روزہ قومی سمینار کا انعقاد عمل میں آیا جس کا عنوان ’’ حیدرآباد میں اردو نثر کی ترقی و ترویج بیسویں صدی کے تناظر میں تھا ۔ قومی سمینار کے پہلے افتتاحی سیشن کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر شعبہ اردو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی پروفیسر بیگ احساس نے کہا کہ حیدرآباد نے اردو کی ترقی و ترویج میں ناقابل فراموش کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ حیدرآباد دکن اردو کا گہوارہ رہا ہے ۔ نیز یہاں کے قلمکاروں نے نثری اور شعری میدان میں ایسی نایاب کتابوں کا ذخیرہ چھوڑا ہے جن سے موجودہ اور آنے والی نسلیں مستفید ہوتی رہیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو اس اعتبار سے منفرد مقام حاصل ہیکہ نظام دکن کے عہد میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا اور اس خصوص میں اعلی تعلیم سے متعلق دیگر زبانوں کی درسی کتابوں کو اردو میں ترجمہ کرنے کیلئے دارالترجمہ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اس طرح حیدرآباد نے تمام علوم و فنون کو اردو زبان میں منتقل کرنے میں خاصہ کردار ادا کیا ۔ نیز پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کے شروعات کا سہرا بھی اپنے سرباندھا ۔ انہوں نے کہا کہ بیسویں صدی میں ڈاکٹر محی الدین قادری ، نصیرالدین ہاشمی ، حکیم شمس اللہ قادری اور فرحت اللہ بیگ نے اردو کے نثری میدان میں ایسے تاریخی ، تحقیقی و تدریسی کارنامہ انجام دیئے ہیں ۔ پروفیسر فاطمہ پروین سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ اردو کا ماصی بہت شاندار تھا جبکہ حال امید افزا ہے اور مستقبل خوش آئند رہیں گا ۔ انہوں نے اردو کی موجودہ زبوں حالی کیلئے اردو داں طبقہ کو ذمہ دار کھڑا کیا ۔ ڈاکٹر حبیب نثار ، پروفیسر اردو سنٹرل یونیورسٹی حیدرآباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو دلوں جوڑنے والی شیریں زبان جو کسی ملک اور سرحد تک محدود نہیں ہے اور نہ ہی یہ مسلمانوں کی زبان ہے بلکہ ہر اس شخص کی زبان ہے جسے دل میں انسانیت کی شمع روشن ہے ۔انہوں نے کہا کہ قلی قطب شاہ کی تحریر کردہ کتاب کو اردو کی پہلی نثری کتاب ہونے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ رضوان کا تحریر کردہ رسالہ تاریخی حیثیت کا حامل ہے ۔ پروفیسر حشمت فاتحہ خوانی نے بھی خطاب کیا ۔ ڈاکٹر مقبول احمد مقبول ادے گیر مہاراشٹرا نے مقالہ جات پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے اطمینان کا اظہار کیا ۔ پرنسپال گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیرآباد ، ڈاکٹر کے سرینواس راجو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زیرانتظام کالج میں قومی سطح کے اردو سمینار باعث افتخار ہے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد ، ڈاکٹر آمنہ تحسین ، ڈاکٹر زاہد الحق حیدرآباد ، ڈاکٹر سمیع الدین بیجاپور ، ڈاکٹر مقبول احمد مقبول ، سعد اللہ خان سبیل ، ڈاکٹر حمیرہ سعید محبوب نگر ، ڈاکٹر عتیق اقبال حیدرآباد، ڈاکٹر رفعیہ سلطانہ ، نکہت آرا شاہین ، ڈاکٹر حامد ، محمد توفیق ، مسرور حیدری ، سید احمد مہتاب ، شیخ محمد صابر ، محمد توفیق ، ڈاکٹر سید حامد ، ڈاکٹر محمد انصار ، ڈاکٹر اسلم فاروقی ( بذریعہ فون) ، محمد محبوب ، محمد یحیی ، عرشیہ خام ( ظہیر آباد ) نے اپنے مقالہ پیش کئے ۔ بعدازاں تماممہمانوں کو مومنٹو اور توصیف نامے پیش کئے گئے اس موقع پر لکچرارس ، اساتذہ ، شعراء ادبا بشمول طلباء و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی ۔

TOPPOPULARRECENT