Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / علیحدہ ریاست ودربھا کے خلاف اپوزیشن اور شیوسینا متحد

علیحدہ ریاست ودربھا کے خلاف اپوزیشن اور شیوسینا متحد

لوک سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے بل پر قانون ساز کونسل میں ہنگامہ آرائی
ممبئی۔/29جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن کے ساتھ شیوسینا نے آج علحدہ ریاست ودربھا کی تشکیل کے مطالبہ پر لوک سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ نانا پٹولے کی جانب سے پیش کردہ ایک بل پر حکومت مہاراشٹرا سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس بل پر ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی ایک دن کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر دھنجے منڈے نے یہ نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھنڈوا۔ گونڈیا کے رکن پارلیمنٹ نے آج لوک سبھا میں ایک غیر سرکاری بل پیش کیا ہے اور یہ مطالبہ کیا کہ علحدہ ریاست ودربھا تشکیل دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ مہاراشٹرا کیلئے 105 شہیدوں نے اپنی جانیں نچھاور کردی ہیں لیکن گذشتہ چند ماہ سے سابق اٹارنی جنرل سری ہری اینے جیسے لوگ نہ صرف علحدہ ودربھا بلکہ علحدہ مراٹھواڑہ کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

اگر حکومت اپنی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے موقف کی تائید کرتی ہے تو اسے وضاحت کرنی چاہیئے۔ شیوسینا کی ایم ایل سی نیلم گورہے نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ متحدہ مہاراشٹرا کے حق میں حکومت چند الفاظ کہے اور اس خصوص میں ایوان کو ایک قرارداد منظور کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مہاراشٹرا کے حق میں حکومت کا ٹال مٹول رویہ مناسب نہیں ہے اور ہم ان شہیدوں کو فراموش نہیں کرسکتے جنہوں نے مہاراشٹرا کو متحد کرنے کیلئے اپنی جانیں قربان کردی تھیں۔سینئر کانگریس لیڈر نارائن رانے نے کہا کہ اگر ایک آزاد رکن پارلیمنٹ یہ بل پیش کرتا تو سمجھ میں آتا لیکن ایک بی جے پی کا رکن پارلیمنٹ پارٹی کی قومی اور ریاستی قیادت سے مشاورت کے بغیر اس طرح کابل پیش نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو یہ وضاحت کرنی چاہیئے کہ آیا وہ رکن پارلیمنٹ کے مطالبہ کی توثیق کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کی عزت ووقار کا مسئلہ ہے اور اس مسئلہ پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

تاہم وزیر پارلیمانی اُمور گریش باپٹ نے کا یہ نقطہ نظر ہے کہ علحدہ ریاست کے مطالبہ پر ایک عرصہ دراز سے مباحث جاری ہیں اور گروپ لیڈروں کو چاہیئے کہ آپس میں مل بیٹھ کر وقت کا تعین کریں کہ اس مسئلہ پر کب بحث کی جاسکتی ہے۔ اس مسئلہ پر شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے دوران قانون ساز کونسل کی کارروائی 10 منٹ کے لئے ملتوی کردی گئی۔ دوبارہ کارروائی شروع ہونے پر صدر نشین رام راجے نمبالکر نے کہا کہ یہ مسئلہ اہمیت کا حامل ہے اور حکومت کو ردعمل ظاہر کرنا چاہیئے لیکن اس مسئلہ پر ایوان کی کارروائی میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہیئے۔ این سی پی رکن سنیل ننکرے نے کہا کہ اگر حکومت یہ بیان دیتی ہے کہ وہ پٹولے کے مطالبہ کی تصدیق نہیں کرے گی تو اپوزیشن کے لئے طمانیت بخش ہوتا۔ تاہم اس مسئلہ پر بحث و تکرار جاری رہنے پر صدر نشین نے ایوان کی کارروائی ایک دن کیلئے ملتوی کردی۔

TOPPOPULARRECENT